حدیث نمبر: 139
49- وبه: عن ابن عباس أنه قال: إن أم الفضل ابنة الحارث سمعته وهو يقرأ {والمرسلات عرفا} فقالت: يا بني، لقد ذكرتني بقراءتك هذه السورة إنها لآخر ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ بها فى المغرب.
حافظ زبیر علی زئی
اسی سند کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (ان کی والدہ) ام الفضل (لبابہ) بنت الحارث (رضی اللہ عنہما) نے انہیں (نماز میں سورة المرسلات) «وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا» پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم نے اس قرأت کے ساتھ مجھے یاد دلا دیا ہے کہ یہ وہ سورت ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے آخر میں سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب میں اس کی قرأت کر رہے تھے ۔
حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 139
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
حدیث تخریج «49- متفق عليه ، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 78/1 ح 169 ، ك 3 ب 5 ح 24) التمهيد 22/9 ، الاستذكار : 148 مختصرا ، و أخرجه البخاري (763) ومسلم (462) من حديث مالك به.»