حدیث نمبر: 52
32- وبه: عن أبى هريرة أنه قال: لولا أن يشق على أمته لأمرهم بالسواك مع كل صلاة أو كل وضوء. قال أبو الحسن: وهذا لفظ فى رفعه إلى النبى صلى الله عليه وسلم إشكال، ولكن فيه عن عيسى بن مسكين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم“ .
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو آپ ہر نماز یا ہر وضو کے ساتھ مسواک (کرنے) کا حکم دیتے ۔ (اس کتاب کے راوی اور ملخص امام) ابوالحسن (القابسی رحمہ اللہ) نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک اس لفظ (متن) کے مرفوع ہونے میں اشکال ہے لیکن عیسیٰ بن مسکین نے (اپنی روایت میں) کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں انھیں (مسواک کا) حکم دیتا ۔“
حدیث نمبر: 53
321- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لولا أن أشق على الناس أو على المؤمنين لأمرتهم بالسواك“ .
حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر مجھے لوگوں یا مومنوں کی مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ضرور مسواک (کرنے) کا حکم دیتا۔ “