کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: (ضعفاء سے روایت اور ان پر جرح)
حدیث نمبر: Q3958
وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ عَنْ الضُّعَفَائِ، وَبَيَّنُوا أَحْوَالَهُمْ لِلنَّاسِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ بہت سارے ائمہ نے ضعفاء سے روایت کی ہے اور لوگوں کے لیے ان کے حالات کو بھی بیان کر دیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3958
حدیث نمبر: 3959
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنْذِرِ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ لَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: اتَّقُوا الْكَلْبِيَّ، فَقِيلَ لَهُ: فَإِنَّكَ تَرْوِي عَنْهُ؟! قَالَ: أَنَا أَعْرِفُ صِدْقَهُ مِنْ كَذِبِهِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ یعلیٰ بن عبید کہتے ہیں : ہم سے سفیان ثوری نے کہا : کلبی سے اجتناب کرو ، ان سے کہا گیا کہ آپ تو اس سے روایت کرتے ہیں ، کہا : مجھے اس کے سچ اور جھوٹ کی تمیز ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: 3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ: و أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ اشْتَهَيْتُ كَلَامَهُ؛ فَتَتَبَّعْتُهُ عَنْ أَصْحَابِ الْحَسَنِ؛ فَأَتَيْتُ بِهِ أَبَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ؛ فَقَرَأَهُ عَلَيَّ كُلَّهُ عَنْ الْحَسَنِ فَمَا أَسْتَحِلُّ أَنْ أَرْوِيَ عَنْهُ شَيْئًا.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ابوعوانہ کہتے ہیں : جب حسن بصری کا انتقال ہو گیا تو مجھے ان کے اقوال جاننے کی خواہش ہوئی ، میں نے اصحاب حسن بصری کی تلاش کی ، ابان بن ابی عیاش کے پاس آیا تو اس نے ہم پر احادیث پڑھیں سب کی سب حسن بصری سے تھیں ، میں ان میں سے کچھ بھی روایت کرنا حلال نہیں سمجھتا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ أَبُو عِيسَى: قَدْ رَوَى عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ مِنْ الضَّعْفِ وَالْغَفْلَةِ مَا وَصَفَهُ أَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُ فَلا يُغْتَرُّ بِرِوَايَةِ الثِّقَاتِ عَنْ النَّاسِ لأَنَّهُ يُرْوَى عَنْ ابْنِ سِيرِينَ أنَّه قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحَدِّثُنِي فَمَا أَتَّهِمُهُ، وَلَكِنْ أَتَّهِمُ مَنْ فَوْقَهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں : ابان بن ابی عیاش سے غفلت اور ضعف کے باوجود کئی ائمہ نے روایت کی ہے ، جیسا کہ ابوعوانہ وغیرہ نے کہا ہے ، پس اگر ثقات لوگوں سے روایت کریں تو اس سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیئے اس لیے کہ ابن سیرین سے مروی ہے کہ آدمی مجھ سے حدیث بیان کرتا ہے ، تو میں اسے متہم نہیں کرتا ، بلکہ اس سے اوپر کے راوی کو متہم کرتا ہوں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ قَبْلَ الرُّكُوعِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ کئی لوگوں سے سے روایت ہے کہ ابراہیم نخعی علقمہ سے روایت کرتے ہیں اور علقمہ ، عبداللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے وتر میں قنوت پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
وَرَوَى أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي وِتْرِهِ قَبْلَ الرُّكُوعِ. هَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ اور ابان ابن ابی عیاش سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے وتر میں قنوت پڑھتے تھے ، سفیان ثوری نے ابان بن ابی عیاش سے ایسے ہی روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ، وَإِنْ كَانَ قَدْ وُصِفَ بِالْعِبَادَةِ وَالاجْتِهَادِ؛ فَهَذِهِ حَالُهُ فِي الْحَدِيثِ؛ وَالْقَوْمُ كَانُوا أَصْحَابَ حِفْظٍ فَرُبَّ رَجُلٍ وَإِنْ كَانَ صَالِحًا لا يُقِيمُ الشَّهَادَةَ، وَلا يَحْفَظُهَا؛ فَكُلُّ مَنْ كَانَ مُتَّهَمًا فِي الْحَدِيثِ بِالْكَذِبِ أَوْ كَانَ مُغَفَّلا يُخْطِئُ الْكَثِيرَ؛ فَالَّذِي اخْتَارَهُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ الأَئِمَّةِ أَنْ لا يُشْتَغَلَ بِالرِّوَايَةِ عَنْهُ، أَلا تَرَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ حَدَّثَ عَنْ قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ؛ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَمْرُهُمْ تَرَكَ الرِّوَايَةَ عَنْهُمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : ابان بن ابی عیاش اگرچہ عبادت اور زہد و ریاضت کے وصف سے متصف ہیں ، لیکن حدیث میں ان کا یہ حال ہے اور محدثین کی جماعت حفظ والی تھی ، تو کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی نیک اور صالح ہوتا ہے ، لیکن نہ وہ شہادت دے سکتا ہے ، اور نہ اسے یاد رکھتا ہے تو ہر متہم بالکذب راوی یا مغفل راوی جو کثرت سے غلطیاں کرتا ہے ، اہل حدیث کی اکثریت کے مختار مذہب میں ایسے راویوں سے حدیث نہیں روایت کی جائے گی ۔ کیا یہ نہیں دیکھتے ہو کہ عبداللہ بن المبارک نے اہل علم کی ایک جماعت سے حدیث روایت کی تھی لیکن ان کے حالات کے واضح ہونے جانے پر ان سے روایت ترک کر دی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ حِزَامٍ قَال: سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُقَاتِلٍ السَّمَرْقَنْدِيِّ؛ فَجَعَلَ يَرْوِي عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي شَدَّادٍ الأَحَادِيثَ الطِّوَالَ الَّتِي كَانَ يَرْوِي فِي وَصِيَّةِ لُقْمَانَ، وَقَتْلِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمَا أَشْبَهَ هَذِهِ الأَحَادِيثَ؛ فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَخٍي أَبِي مُقَاتِلٍ: يَا عَمِّ! لا تَقُلْ: حَدَّثَنَا عَوْنٌ؛ فَإِنَّكَ لَمْ تَسْمَعْ هَذِهِ الأَشْيَائَ. قَالَ: يَا بُنَيَّ! هُوَ كَلامٌ حَسَنٌ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ صالح بن عبداللہ ترمذی کہتے ہیں : ہم ابومقاتل سمرقندی کے پاس تھے ، تو وہ لقمان کی وصیت ، اور سعید بن جبیر کے قتل سے متعلق لمبی لمبی احادیث اور اس طرح کی چیزیں عون بن ابی شداد سے روایت کرنے لگے ، ابومقاتل کے بھتیجے نے ان سے کہا : چچا ! یہ نہ کہیں کہ ہم سے عون نے حدیث بیان کی ہے ، کیونکہ واقعہ یہ ہے آپ نے ان سے کچھ بھی نہیں سنا ہے ، کہا : بیٹے ! یہ اچھا کلام ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
وسمعتُ الجارودَ يقولُ: كنَّا عندَ أبي معاويةَ فذُكِرَ له حديث أبي مقاتلٍ، عن سفيانَ الثوريِّ، عن الأعمشِ، عن أبي ظبيانَ، قالَ: سُئلَ علي عن كور الزنابيرِ، قالَ: لا بأسَ به هو بمنزلةِ صيدِ البحرِ. فقال أبو معاوية: ما أقولُ: إن صاحبَكم كذاب، ولكن هذا الحديث كذبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : میں نے جارود کو کہتے سنا : ہم ابومعاویہ کے پاس تھے تو ان سے ابومقاتل کی حدیث کا ذکر کیا گیا کہ ابومقاتل نے سفیان ثوری سے روایت کی ہے اور ثوری نے اعمش سے اور اعمش نے ابوظبیان سے ، ابوظبیان کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ سے بھڑوں کے چھتے کے بارے میں سوال گیا تو آپ نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ سمندری شکار کی طرح ہے ، ابومعاویہ نے کہا : میں یہ نہیں کہوں گا کہ تمہارے ساتھی ( یعنی ابومقاتل ) کذاب ہیں ، لیکن یہ حدیث جھوٹ ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي قَوْمٍ مِنْ أَجِلَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَضَعَّفُوهُمْ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمْ، وَوَثَّقَهُمْ آخَرُونَ مِنْ الأَئِمَّةِ لجَلالَتِهِمْ وَصِدْقِهِمْ وَإِنْ كَانُوا قَدْ وَهِمُوا فِي بَعْضِ مَا رَوَوْا.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ بعض اہل حدیث نے جلیل القدر اہل علم کی ایک جماعت پر جرح کی ، حافظہ کی خرابی کی وجہ سے ان کو ضعیف قرار دیا ، جب کہ دوسرے ائمہ نے ان کے صدق اور جلالت شان کی وجہ سے ان کی توثیق کی گرچہ ان کی بعض روایات میں اوہام ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
وقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ فِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ثُمَّ رَوَى عَنْهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان نے محمد بن عمرو پر کلام کیا ، پھر ان سے روایت کی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، قَالَ: تُرِيدُ الْعَفْوَ أَوْ تُشَدِّدُ. فَقَالَ: لا، بَلْ أُشَدِّدُ قَالَ: لَيْسَ هُوَ مِمَّنْ تُرِيدُ، كَانَ يَقُولُ: أَشْيَاخُنَا أَبُو سَلَمَةَ وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں : میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے محمد بن عمرو بن علقمہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے کہا : کیا ان کے بارے میں عفو و درگزر پر مبنی رائے چاہتے ہو یا سخت بات ؟ کہا : نہیں ، سخت بات چاہتا ہوں ؟ جواب دیا : وہ اس معیار کے نہیں جو تمہیں مطلوب ہے وہ روایت میں کہتے تھے : ہمارے مشائخ ابوسلمہ اور یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ يَحْيَى: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ: فِيهِ نَحْوَ مَا قُلْتُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں : میں نے مالک بن انس سے محمد بن عمرو کے بارے میں سوال کیا تو میرے قول کی طرح ان کے بارے میں مالک نے عرض کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ: يَحْيَى: وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو أَعْلَى مِنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، وَهُوَ عِنْدِي فَوْقَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں : یحییٰ بن سعیدالقطان کہتے ہیں : محمد بن عمرو ، سہیل بن ابی صالح سے افضل ہیں ، وہ میرے نزدیک عبدالرحمٰن بن حرملہ پر فوقیت رکھتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ لِيَحْيَى: مَا رَأَيْتَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ؟ قَالَ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أُلَقِّنَهُ لَفَعَلْتُ. قُلْتُ: كَانَ يُلَقَّنُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں : میں نے یحییٰ بن سعید بن القطان سے پوچھا : عبدالرحمٰن بن حرملہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہا : اگر میں ان کو تلقین کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں ، میں نے کہا : کیا ان کو تلقین کی جاتی تھی ؟ کہا : ہاں ! ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ عَلِيٌّ: وَلَمْ يَرْوِ يَحْيَى عَنْ شَرِيكٍ، وَلا عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَلا عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ، وَلا عَنْ الْمُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید القطان نے تو نہ شریک سے روایت کی ، نہ ابوبکر بن عیاش سے ، نہ ربیع بن صبیح سے اور نہ ہی مبارک بن فضالہ سے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنْ كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ قَدْ تَرَكَ الرِّوَايَةَ عَنْ هَؤُلائِ؛ فَلَمْ يَتْرُكْ الرِّوَايَةَ عَنْهُمْ أَنَّهُ اتَّهَمَهُمْ بِالْكَذِبِ، وَلَكِنَّهُ تَرَكَهُمْ لِحَالِ حِفْظِهِمْ. وذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا رَأَى الرَّجُلَ يُحَدِّثُ عَنْ حِفْظِهِ مَرَّةً هَكَذَا وَمَرَّةً هَكَذَا، لايَثْبُتُ عَلَى رِوَايَةٍ وَاحِدَةٍ؛ تَرَكَهُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید القطان نے گرچہ ان لوگوں سے حدیث کی روایت ترک کر دی تھی ، لیکن ان کو کذب کے اتہام کی وجہ سے نہیں چھوڑا تھا ، انہیں صرف ان کے حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے چھوڑا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
وَقَدْ حَدَّثَ عَنْ هَؤُلائِ الَّذِينَ تَرَكَهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَوَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُمْ مِنْ الأَئِمَّةِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان سے مروی ہے کہ وہ جب کسی راوی کو ایک مرتبہ اپنے حافظہ سے روایت کرتے دیکھتے ، اور دوسری مرتبہ اپنی کتاب سے اور دونوں حالتوں میں وہ ایک روایت پر ثابت قدم نہیں رہتا تو اس کو ترک کر دیتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ، وَأَشْبَاهِ هَؤُلائِ مِنْ الأَئِمَّةِ إِنَّمَا تَكَلَّمُوا فِيهِمْ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمْ فِي بَعْضِ مَا رَوَوْا، وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُمْ الأَئِمَّةُ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ اور جن رواۃ کو یحییٰ القطان نے ترک کر دیا تھا ان سے عبداللہ بن المبارک ، وکیع بن جراح ، عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ ائمہ حدیث نے روایت کی ہے ۱؎ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: قَالَ لنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: كُنَّا نَعُدُّ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : ایسے ہی بعض اہل حدیث نے سہیل بن ابی صالح ، محمد بن اسحاق ، حماد بن سلمہ ، محمد بن عجلان اور اس درجہ کے ائمہ حدیث پر کلام کیا ہے ، ان پر کلام کا سبب ان کی بعض احادیث کی روایت میں ضعف ہے جب کہ دوسرے ائمہ نے ان سے روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ثِقَةً مَأْمُونًا فِي الْحَدِيثِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی سے روایت ہے کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا : ہم سہیل بن ابی صالح کو حدیث میں ثقہ شمار کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عِنْدَنَا فِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں : محمد بن عجلان حدیث میں ثقہ اور مامون تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ: أَحَادِيثُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ: بَعْضُهَا "سَعِيدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ"، وَبَعْضُهَا "سَعِيدٌ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ"؛ فَاخْتَلَطَتْ عَلَيَّ فَصَيَّرْتُهَا "عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ"؛ فَإِنَّمَا تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عِنْدَنَا فِي ابْنِ عَجْلانَ لِهَذَا، وَقَدْ رَوَى يَحْيَى عَنْ ابْنِ عَجْلانَ الْكَثِيرَ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : ہمارے نزدیک یحییٰ بن سعید القطان نے محمد بن عجلان کی سعید المقبری سے روایت میں کلام کیا ہے ۔ علی بن المدینی سے روایت ہے کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں کہ محمد بن عجلان کہتے ہیں : سعید المقبری کی بعض احادیث ابوہریرہ سے روایت ہے ، اور بعض بواسطہ رجل عن ابی ہریرہ ، سعید کی روایات مجھ پر مختلط ہو گئیں ، تو ہم نے سب کو سعید عن ابی ہریرہ کی سند سے روایت کر دیا ۔ ہمارے نزدیک یحییٰ بن سعید القطان نے ابن عجلان پر کلام اسی سبب سے کیا ہے ، جب کہ یحییٰ بن سعید القطان نے ابن عجلان سے بکثرت روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا مَنْ تَكَلَّمَ فِي ابْنِ أَبِي لَيْلَى إِنَّمَا تَكَلَّمَ فِيهِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ علی بن المدینی سے روایت ہے کہ یحییٰ بن سعید القطان کہتے ہیں : شعبہ نے بسند ابن ابی لیلیٰ عن أخیہ عیسیٰ عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن أبی أیوب عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم چھینک کے بارے میں روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ: رَوَى شُعْبَةُ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُطَاسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں : پھر میری ملاقات ابن ابی لیلیٰ سے ہوئی تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ ان سے ان کے بھائی عیسیٰ نے بیان کیا ، عیسیٰ نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی ، اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ يَحْيَى: ثُمَّ لَقِيتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَحَدَّثَنَا عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : اسی طرح ابن ابی لیلیٰ پر جس نے کلام کیا تو وہ صرف حافظہ کی خرابی کی وجہ سے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى نَحْوُ هَذَا غَيْرَ شَيْئٍ، كَانَ يَرْوِي الشَّيْئَ مَرَّةً هَكَذَا، وَمَرَّةً هَكَذَا، يُغَيِّرُ الإِسْنَادَ، وَإِنَّمَا جَاءَ هَذَا مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَأَكْثَرُ مَنْ مَضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ كَانُوا لايَكْتُبُونَ، وَمَنْ كَتَبَ مِنْهُمْ إِنَّمَا كَانَ يَكْتُبُ لَهُمْ بَعْدَ السَّمَاعِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : ابن ابی لیلیٰ سے اس طرح کی کئی چیزیں روایت کی جاتی ہیں ، کبھی ایک چیز ایسے روایت کرتے ، پھر اس کی سند میں تبدیلی کر دیتے ہیں اور یہ سب صرف حافظہ کی خرابی سے ہوا ہے ، گزشتہ عہد کے اکثر علماء احادیث لکھتے نہیں تھے ، اور جو لوگ لکھتے وہ سماع حدیث کے بعد لکھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
و سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى لا يُحْتَجُّ بِهِ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں : میں نے احمد بن الحسن کو کہتے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا : ابن ابی لیلیٰ سے حجت نہیں پکڑی جائے گی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959
حدیث نمبر: Q3959
وَكَذَلِكَ مَنْ تَكَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ لَهِيعَةَ وَغَيْرِهِمَا إِنَّمَا تَكَلَّمُوا فِيهِمْ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمْ، وَكَثْرَةِ خَطَئِهِمْ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُمْ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الأَئِمَّةِ. فَإِذَا تَفَرَّدَ أَحَدٌ مِنْ هَؤُلائِ بِحَدِيثٍ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ لَمْ يُحْتَجَّ بِهِ، كَمَا قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: ابْنُ أَبِي لَيْلَى لا يُحْتَجُّ بِهِ، إِنَّمَا عَنَى إِذَا تَفَرَّدَ بِالشَّيْئِ.وَأَشَدُّ مَا يَكُونُ هَذَا إِذَا لَمْ يَحْفَظْ الإِسْنَادَ؛ فَزَادَ فِي الإِسْنَادِ أَوْ نَقَصَ أَوْ غَيَّرَ الإِسْنَادَ أَوْ جَاءَ بِمَا يَتَغَيَّرُ فِيهِ الْمَعْنَى.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ایسے ہی جن اہل علم نے مجالد بن سعید اور عبداللہ بن لہیعہ وغیرہ پر کلام کیا ہے تو اس کی وجہ صرف ان کے حافظہ کی خرابی اور روایت میں بکثرت خطا واقع ہونا ہے ، جب کہ بہت سارے ائمہ نے ان سے روایت کی ہے تو جب ان رواۃ میں سے کوئی کسی حدیث کی روایت میں منفرد ہو اور اس کی متابعت نہ پائی جائے تو وہ قابل حجت نہ ہو گا ، جیسے احمد بن حنبل کا قول کہ ابن ابی لیلیٰ قابل حجت نہیں ، احمد بن حنبل کا مقصد یہ ہے کہ جب ابن ابی لیلیٰ کسی چیز کی روایت میں منفرد ہوں تو وہ قابل حجت نہیں ہیں ۔ اور زیادہ یہ ہوتا ہے کہ راوی اسناد کو یاد نہیں رکھتا ، تو سند میں کمی یا زیادتی کر دیتا ہے ، یا سند بدل دیتا ہے ، یا ایسے الفاظ سے روایت کر دیتا ہے جس سے معنی میں تبدیلی ہو جاتی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / کتاب العلل / حدیث: Q3959