حدیث نمبر: 3927
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا سَلْمَانُ ، لَا تَبْغَضْنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَبْغَضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ ؟ قَالَ : " تَبْغَضُ الْعَرَبَ فَتَبْغَضُنِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَدْرٍ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل ، يَقُولُ : أَبُو ظَبْيَانَ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ ، مَاتَ سَلْمَانُ قَبْلَ عَلِيٍّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلمان ! تم مجھ سے بغض نہ رکھو کہ تمہارا دین ہاتھ سے جاتا رہے “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں اور حال یہ ہے کہ اللہ نے آپ ہی کے ذریعہ ہمیں ہدایت بخشی ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم عربوں سے بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف ابوبدر شجاع بن ولید کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : ابوظبیان نے سلمان کا زمانہ نہیں پایا ہے اور سلمان علی سے پہلے وفات پا گئے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف ابوبدر شجاع بن ولید کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : ابوظبیان نے سلمان کا زمانہ نہیں پایا ہے اور سلمان علی سے پہلے وفات پا گئے تھے ۔
حدیث نمبر: 3928
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الْأَحْمَسِيِّ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الْأَحْمَسِيِّ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، وَلَيْسَ حُصَيْنٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَاكَ الْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے عربوں کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت میں شامل نہ ہو گا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہو گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف حصین بن عمر احمسی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ مخارق سے روایت کرتے ہیں ، اور حصین محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف حصین بن عمر احمسی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ مخارق سے روایت کرتے ہیں ، اور حصین محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں ۔
حدیث نمبر: 3929
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ : كَانَتْ أُمُّ الْحُرَيْرِ إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا ، فَقِيلَ لَهَا : إِنَّا نَرَاكِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْكِ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ مَوْلَايَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلَاكُ الْعَرَبِ " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ : وَمَوْلَاهَا طَلْحَةُ بْنُ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن رزین کی والدہ کہتی ہیں کہ` جب کوئی عرب مرتا تو ام جریر پر اس کی موت بڑی سخت ہو جاتی یعنی انہیں زبردست صدمہ ہوتا تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا ہے تو آپ کو بہت صدمہ پہنچتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے اپنے مالک کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی نشانی ہے “ ۔ محمد بن رزین کہتے ہیں : ان کے مالک کا نام طلحہ بن مالک ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف سلیمان بن حرب کی روایت سے جانتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف سلیمان بن حرب کی روایت سے جانتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 3930
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ حَتَّى يَلْحَقُوا بِالْجِبَالِ " ، قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : " هُمْ قَلِيلٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام شریک رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ دجال سے بھاگیں گے ، یہاں تک کہ پہاڑوں پر جا رہیں گے “ ، ام شریک رضی الله عنہا نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت عرب کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ ( تعداد میں ) تھوڑے ہوں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 3931
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ بَصْرِيٌّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَامٌ أَبُو الْعَرَبِ ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ ، وَحَامٌ أَبُو الْحَبَشِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَيُقَالُ : يَافِثُ ، وَيَافِتُ ، وَيفِثُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «سام» عربوں کے جد امجد ہیں اور «یافث» رومیوں کے اور «حام» حبشیوں کے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے اور «یافث» ، «یافِتُ» اور «یَفِتُ» تینوں لغتیں ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے اور «یافث» ، «یافِتُ» اور «یَفِتُ» تینوں لغتیں ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یہ تینوں نوح علیہ السلام کے بیٹوں کے نام ہیں۔