کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: انصار کے کن گھروں اور قبیلوں میں خیر ہے
حدیث نمبر: 3910
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ أَوْ بِخَيْرِ الْأَنْصَارِ ؟ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " بَنُو النَّجَّارِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ بَنُو سَاعِدَةَ ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ , فَقَبَضَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ بَسَطَهُنَّ كَالرَّامِي بِيَدَيْهِ ، قَالَ : وَفِي دُورِ الْأَنْصَارِ كُلِّهَا خَيْرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں انصار کے بہتر گھروں کی یا انصار کے بہتر لوگوں کی خبر نہ دوں ؟ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” سب سے بہتر بنی نجار ہیں ، پھر بنی عبدالاشہل ہیں جو ان سے قریب ہیں ، پھر بنی حارث بن خزرج ہیں جو ان سے قریب ہیں ، پھر بنی ساعدہ ہیں ۱؎ ، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو بند کیا ، پھر کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھوں سے کچھ پھینک رہا ہو “ اور فرمایا : ” انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے ۲؎ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- انس سے بھی آئی ہے جسے وہ ابواسید ساعدی کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اسلام کے لیے سبقت کے حساب سے ان قبائل کے فضائل کی ترتیب رکھی گئی ہے، جو جس قبیلہ نے جس ترتیب سے اول اسلام کی طرف سبقت کی آپ نے اس کو اسی درجہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔
۲؎: یعنی: ایمان میں دیگر عربی قبائل کی بنسبت سبقت کے سبب انصار کے سارے خاندانوں کو ایک گونہ فضیلت حاصل ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3910
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الطلاق 25 (5300) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 44 (2511) ( تحفة الأشراف : 1656) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3911
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ دُورُ بَنِي النَّجَّارِ ، ثُمَّ دُورُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، ثُمَّ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ " , فَقَالَ سَعْدٌ : مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا فَقِيلَ : قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ اسْمُهُ : مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابواسید ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ۱؎ ہیں ، پھر بنی عبدالاشہل کے ، پھر بنی حارث بن خزرج کے پھر بنی ساعدہ کے اور انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے “ ، تو سعد نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی سمجھ رہا ہوں کہ آپ نے ہم پر لوگوں کو فضیلت دی ہے ۲؎ تو ان سے کہا گیا : آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے ۳؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ابواسید ساعدی کا نام مالک بن ربیعہ ہے ،
۳- اسی جیسی روایت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے ،
۴- اسے معمر نے زہری سے ، زہری نے ابوسلمہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور ان دونوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: قبائل و خاندان۔
۲؎: آپ بنی ساعدہ میں سے تھے جن کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چوتھے درجہ پر کیا۔
۳؎: یعنی: بنی ساعدہ کے بعد بھی تو انصار کے کئی خاندان ہیں جن کے اوپر بنی ساعدہ کو فضیلت دی ہے، نیز یہ بھی خیال رہے کہ یہ ترتیب آپ نے بحکم خداوندی بتائی تھی، اس لیے آپ پر اعتراض نہیں کرنا چاہیئے، یہ نصیحت خود سعد بن معاذ کے بھائی سہل نے کی تھی «کما فی مسلم» ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3911
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/مناقب الأنصار 7 (3789، و3790) ، و15 (3807) ، والأدب 605347) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 44 (2511) ( تحفة الأشراف : 11189) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3912
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ دِيَارِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ہیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: بنی نجار ہی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ کا ننہیال تھا، یہ آپ کے ماموؤں کا خاندان تھا، نیز اسلام میں نسبت بھی اسی قبیلے نے کی تھی، یا اسلام میں ان کی قربانیاں دیگر خاندان کی بنسبت زیادہ تھیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3912
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بما قبله (3911)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 3353) (صحیح) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 3913
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الْأَنْصَارِ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: سابقہ حدیث میں «بنی اشہل» کا ذکر «بنی نجار» کے بعد آیا ہے، تو یہاں «من» کا لفظ محذوف ماننا ہو گا، یعنی: «بنی اشہل» انصار کے سب سے بہتر خاندانوں میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3913
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بما قبله (3912)
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»