کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3844
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمَ النَّاسُ , وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ اسلام لائے اور عمرو بن العاص رضی الله عنہ ایمان لائے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ مشرح بن ہاعان سے روایت کرتے ہیں اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ۔
وضاحت:
۱؎: عمرو بن العاص رضی الله عنہ فتح مکہ سے ایک سال یا دو سال پہلے اسلام لا کر مدینہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے، اور اہل مکہ میں سے جو لوگ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے ان کی بنسبت عمرو بن العاص کا اسلام لانا کسی زور و زبردستی اور خوف و ہراس سے بالاتر تھا اسی لیے آپ نے ان کے متعلق فرمایا کہ دوسرے لوگ (جو لوگ فتح مکہ کے دن ایمان لائے وہ) تو خوف و ہراس کے عالم میں اسلام لائے، لیکن عمرو بن العاص رضی الله عنہ کا ایمان ان کے دلی اطمینان اور چاہت و رغبت کا مظہر ہے، گویا اللہ نے انہیں اس ایمان قلبی سے نوازا ہے جس کا درجہ بڑھا ہوا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3844
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الصحيحة (115) ، المشكاة (6236)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 9967) (حسن)»
حدیث نمبر: 3845
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ : قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ ، وَنَافِعٌ ثِقَةٌ , وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُدْرِكْ طَلْحَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” عمرو بن العاص رضی الله عنہ قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس حدیث کو ہم صرف نافع بن عمر جمحی کی روایت سے جانتے ہیں اور نافع ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل نہیں ہے ، اور ابن ابی ملیکہ نے طلحہ کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3845
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (3845) إسناده ضعيف / السند منقطع
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5001) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابن ابی ملیکہ اور طلحہ کے درمیان انقطاع ہے)»