کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3827
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ ، فَقَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ ، قَالَ : فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ دَعَوَاتٍ قَدْ رَأَيْتُ مِنْهُنَّ اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا , وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الْآخِرَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں : میرے باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں اللہ کے رسول ! یہ انیس ۱؎ ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں ، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا ۲؎ اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں ۳؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، اور وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: انیس یہ انس کی تصغیر ہے۔
۲؎: ان دونوں دعاؤں کا تعلق مال و اولاد کی کثرت سے تھا، انس رضی الله عنہ کا خود بیان ہے کہ میری زمین سال میں دو مرتبہ پیداوار دیتی تھی، اور میری اولاد میں میرے پوتے اور نواسے اس کثرت سے ہوئے کہ ان کی تعداد سو کے قریب ہے (دیکھئیے اگلی حدیث رقم: ۳۸۴۶)۔
۳؎: اس دعا کا تعلق گناہوں کی مغفرت سے تھا جو انہیں آخرت میں نصیب ہو گی۔ «إن شاء اللہ»
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3827
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/فضائل الصحابة 32 (2481) ( تحفة الأشراف : 515) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3828
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : رُبَّمَا قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ " ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : يَعْنِي يُمَازِحُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` کبھی کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہتے : ” اے دو کانوں والے “ ۔ ابواسامہ کہتے ہیں : یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اور مذاق کسی محبوب آدمی ہی سے کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3828
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 1192 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3829
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال : سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ , وَوَلَدَهُ , وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام سلیم رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! انس آپ کا خادم ہے ، آپ اللہ سے اس کے لیے دعا فرما دیجئیے ۔ آپ نے فرمایا : «اللهم أكثر ماله وولده وبارك له فيما أعطيته» ” اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: دیکھئیے پچھلی حدیث کے حواشی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3829
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (2246) ، تخريج المشكلة (12)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الدعوات 47 (6378، 6380) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 32 (2480) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3830
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ , وَأَبُو نَصْرٍ هُوَ خَيْثَمَةُ بْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ الْبَصْرِيُّ رَوَى عَنْ أَنَسٍ أَحَادِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری کنیت ایک ساگ ( گھاس ) کے ساتھ رکھی جسے میں چن رہا تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ، اس حدیث کو ہم صرف جابر جعفی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ ابونصر سے روایت کرتے ہیں ،
۲- ابونصر کا نام خیثمہ بن ابی خیثمہ بصریٰ ہے ، انہوں نے انس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3830
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (4773 / التحقيق الثاني) , شیخ زبیر علی زئی: (3830) إسناده ضعيف جدًا, جابر الجعفي: ضعيف جدًا (تقدم: 206) وشيخه أبونصر خيثمة أبى خيثمة : لين الحديث (تق:1772)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 826) (ضعیف) (سند میں خیثمہ ابو نصر العبدی لین الحدیث راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 3831
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، قَالَ : قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " يَا ثَابِتُ خُذْ عَنِّي , فَإِنَّكَ لَنْ تَأْخُذَ عَنْ أَحَدٍ أَوْثَقَ مِنِّي ، إِنِّي أَخَذْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جِبْرِيلَ ، وَأَخَذَهُ جِبْرِيلُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثابت بنانی کا بیان ہے کہ` مجھ سے انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا : اے ثابت مجھ سے علم دین حاصل کرو کیونکہ اس کے لیے تم مجھ سے زیادہ معتبر آدمی کسی کو نہیں پاؤ گے ، میں نے اسے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے اور جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے لیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3831
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (3831 ، 3832) إسناده ضعيف, ميمون بن أبان: مستور (تق:7042) أى مجهول الحال ، وثقه ابن حبان وحده
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 491) (ضعیف الإسناد) (سند میں میمون بن ابان مجہول الحال راوی ہے)»
حدیث نمبر: 3832
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَعْقُوبَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ : " وَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جِبْرِيلَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` انس رضی الله عنہ سے ابراہیم بن یعقوب والی حدیث ہی کی طرح حدیث مروی ہے ، لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جبرائیل سے لیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3832
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: * , شیخ زبیر علی زئی: (3831 ، 3832) إسناده ضعيف, ميمون بن أبان: مستور (تق:7042) أى مجهول الحال ، وثقه ابن حبان وحده
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد)»
حدیث نمبر: 3833
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ , سَمِعَ أَنَسٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَدَمَهُ عَشْرَ سِنِينَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ لَهُ بُسْتَانٌ يَحْمِلُ فِي السَّنَةِ الْفَاكِهَةَ مَرَّتَيْنِ ، وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ كَانَ يَجِيءُ مِنْهُ رِيحُ الْمِسْكِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ : خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ , وَقَدْ أَدْرَكَ أَبُو خَلْدَةَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَرَوَى عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوخلدہ کہتے ہیں کہ` میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا : کیا انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے اور آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے ، اور انس رضی الله عنہ کا ایک باغ تھا جو سال میں دو بار پھلتا تھا ، اور اس میں ایک خوشبودار پودا تھا جس سے مشک کی بو آتی تھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابوخلدہ نے انس بن مالک رضی الله عنہ کا زمانہ پایا ہے ، اور انہوں نے ان سے روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3833
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (2241)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، ( تحفة الأشراف : 835) (صحیح)»