حدیث نمبر: 3801
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ أَبُو الْيَقْظَانِ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ " . قَالَ : وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَأَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : وَهَذَا حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر کسی کو پناہ دی جو ابوذر رضی الله عنہ سے زیادہ سچا ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے ابوذر رضی الله عنہ کی سچائی سے متعلق مبالغہ اور تاکید مقصود ہے۔
حدیث نمبر: 3802
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ , وَلَا أَوْفَى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شِبْهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : كَالْحَاسِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَتَعْرِفُ ذَلِكَ لَهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَاعْرِفُوهُ لَهُ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ , فَقَالَ : أَبُو ذَرٍّ يَمْشِي فِي الْأَرْضِ بِزُهْدِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے کسی کو پناہ دی جو ابوذر سے - جو عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں - زیادہ زبان کا سچا اور اس کا پاس و لحاظ رکھنے والا ہو “ ، یہ سن کر عمر بن خطاب رضی الله عنہ رشک کے انداز میں بولے : اللہ کے رسول ! کیا ہم یہ بات انہیں بتا دیں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، بتا دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ،
۲- اور بعضوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ابوذر زمین پر عیسیٰ بن مریم کی زاہدانہ چال چلتے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ،
۲- اور بعضوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ابوذر زمین پر عیسیٰ بن مریم کی زاہدانہ چال چلتے ہیں “ ۔