حدیث نمبر: 3768
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ” جنت میں جوانوں کے سردار “ اس کے محدثین نے کئی معانی بیان کئے ہیں، (۱) جو لوگ جوانی کی حالت میں وفات پائے (اور جنتی ہیں) ان کے سردار یہ دونوں ہوں گے، اس بیان کے وقت وہ دونوں جوان تھے، شہادت جوانی کے بعد حالت کہولت میں ہوئی، لیکن جوانی کی حالت میں وفات پانے والوں کے سردار بنا دیئے گئے ہیں (۲) جنت میں سبھی لوگ جوانی کی عمر میں کر دیئے جائیں گے، اس لیے مراد یہ ہے کہ انبیاء اور خلفائے راشدین کے سوا دیگر لوگوں کے سردار یہ دونوں ہوں گے (۳) اس زمانہ کے (جب یہ دونوں جوان تھے) ان جوانوں کے یہ سردار ہیں جو مرنے کے بعد جنت میں جائیں گے، واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 3768M
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ يَزِيدَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ وَيُكْنَى : أَبَا الْحَكَمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ` ہم سے جریر اور محمد بن فضیل نے یزید کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ابن ابی نعم کا نام عبدالرحمٰن بن ابی نعم بجلی کوفی ہے اور ان کی کنیت ابوالحکم ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ابن ابی نعم کا نام عبدالرحمٰن بن ابی نعم بجلی کوفی ہے اور ان کی کنیت ابوالحکم ہے ۔
حدیث نمبر: 3769
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد , قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ : طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي ، قُلْتُ : مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : فَكَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ , وَحُسَيْنٌ عَلَى وَرِكَيْهِ , فَقَالَ : " هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا ، فَأَحِبَّهُمَا ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے ، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا : یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں ؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین رضی الله عنہما تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے ، پھر آپ نے فرمایا : ” یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں ، اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 3770
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا صَحِيحٌ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ` اہل عراق کے ایک شخص نے ابن عمر رضی الله عنہما سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے میں لگ جائے کہ اس کا کیا حکم ہے ؟ ۱؎ تو ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا : اس شخص کو دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے ! حالانکہ انہیں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو قتل کیا ہے ، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” حسن اور حسین رضی الله عنہما یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث صحیح ہے ،
۲- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے ،
۳- ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت آئی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث صحیح ہے ،
۲- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے ،
۳- ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت آئی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سائل نے حالت احرام میں مچھر مارنے کے فدیہ کے بارے میں سوال کیا تھا، ہو سکتا ہے کہ مؤلف کی روایت میں کسی راوی نے مبہم روایت کر دی ہو، سیاق و سباق کے لحاظ سے صحیح صورت حال مسئلہ وہی ہے جو صحیح بخاری میں ہے۔
حدیث نمبر: 3771
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقُلْتُ : مَا يُبْكِيكِ ؟ قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا " . قَالَ : هَذَا غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمیٰ کہتی ہیں کہ` میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس آئی ، وہ رو رہی تھیں ، میں نے پوچھا : آپ کیوں رو رہی ہیں ؟ وہ بولیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ( یعنی خواب میں ) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی ، تو میں نے عرض کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ اللہ کے رسول ! تو آپ نے فرمایا : ” میں حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 3772
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ " ، وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ : " ادْعِي لِيَ ابْنَيَّ " , فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ . قَالَ : هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : ” حسن اور حسین “ ( رضی الله عنہما ) ، آپ فاطمہ رضی الله عنہا سے فرماتے : ” میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 3773
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ : يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر فرمایا : ” میرا یہ بیٹا سردار ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں رضی الله عنہما ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں رضی الله عنہما ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی میرا یہ نواسہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کا سبب بنے گا، چنانچہ خلافت کے مسئلہ کو لے کر جب مسلمانوں کے دو گروہ ہو گئے، ایک گروہ معاویہ رضی الله عنہ کے ساتھ اور دوسرا حسن رضی الله عنہ کے ساتھ تھا، تو حسن رضی الله عنہ نے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر کے مسلمانوں کو قتل و خونریزی سے بچا کر اس امت پر بڑا احسان کیا اور یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے «جزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء» ۔
حدیث نمبر: 3774
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال : سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ , فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا , وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ , ثُمَّ قَالَ : " صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 فَنَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ , فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے ، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا ، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا ، پھر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ” تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں ، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا ، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: التغابن: ۱۵۔
۲؎: جہاں یہ بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال شفقت کی دلیل ہے، وہیں حسن اور حسین رضی الله عنہما کے آپ کے نزدیک مقام و مرتبہ کی بھی بات ہے۔
۲؎: جہاں یہ بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال شفقت کی دلیل ہے، وہیں حسن اور حسین رضی الله عنہما کے آپ کے نزدیک مقام و مرتبہ کی بھی بات ہے۔
حدیث نمبر: 3775
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ , أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا ، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۱؎ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے ، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- اسے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے متعدد لوگوں نے روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی روایت سے جانتے ہیں ،
۲- اسے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے متعدد لوگوں نے روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: بقول قاضی عیاض: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم من جانب اللہ مطلع کر دیئے گئے تھے کہ کچھ لوگ حسین سے بغض رکھیں گے اس لیے آپ نے پیشگی بیان کر دیا کہ ” حسین سے محبت مجھ سے محبت ہے، اور حسین سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے کیونکہ ہم دونوں ایک ہی ہیں “۔
۲؎: یعنی: حسین رضی الله عنہ کی بہت ہی زیادہ اولاد ہو گی، یعنی ان کی نسل خوب پھیلے گی کہ قبائل بن جائیں گے، سو ایسا ہی ہوا۔
۲؎: یعنی: حسین رضی الله عنہ کی بہت ہی زیادہ اولاد ہو گی، یعنی ان کی نسل خوب پھیلے گی کہ قبائل بن جائیں گے، سو ایسا ہی ہوا۔
حدیث نمبر: 3776
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " لَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` لوگوں میں حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول کے مشابہ کوئی نہیں تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 3777
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ " . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حسن بن علی رضی الله عنہما ان سے مشابہت رکھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابوبکر صدیق ، ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابوبکر صدیق ، ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 3778
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ , فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ لَهُ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ : " مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا ، قَالَ : قُلْتُ : أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حسین رضی الله عنہ کا سر لایا گیا تو وہ ان کی ناک میں اپنی چھڑی مار کر کہنے لگا میں نے اس جیسا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا کیوں ان کا ذکر حسن سے کیا جاتا ہے ( جب کہ وہ حسین نہیں ہے ) ۱؎ ۔ تو میں نے کہا : سنو یہ اہل بیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ جملہ اس نے حسین رضی الله عنہ کے حسن اور آپ کی خوبصورتی سے متعلق طعن و استہزاء کے طور پر کہا تھا، اسی لیے انس بن مالک نے اسے جواب دیا۔
۲؎: اس سے پہلے حدیث رقم ۳۷۸۶ کے تحت زہری کی ایک روایت انس رضی الله عنہ سے گزری ہے، اس میں ہے کہ حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ کوئی نہیں تھا اور اس روایت میں یہ ہے کہ حسین بن علی رضی الله عنہما سب سے زیادہ مشابہ تھے، بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض پایا جا رہا ہے، علماء نے دونوں روایتوں میں تطبیق کی جو صورت نکالی ہے وہ یہ ہے: (۱) زہری کی روایت میں جو مذکور ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب حسن رضی الله عنہ باحیات تھے اور اس وقت وہ اپنے بھائی حسین بن علی کے بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور انس رضی الله عنہ کی اس روایت میں جو مذکور ہے یہ حسن رضی الله عنہ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے۔ (۲) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حسین بن علی رضی الله عنہما کو جن لوگوں نے اللہ کے رسول سے مشابہ قرار دیا ہے تو ان لوگوں نے حسن کو مستثنیٰ کر کے یہ بات کہی ہے۔ (۳) یہ بھی ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں اللہ کے رسول سے مشابہ تھے (دیکھئیے اگلی روایت)۔
۲؎: اس سے پہلے حدیث رقم ۳۷۸۶ کے تحت زہری کی ایک روایت انس رضی الله عنہ سے گزری ہے، اس میں ہے کہ حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ کوئی نہیں تھا اور اس روایت میں یہ ہے کہ حسین بن علی رضی الله عنہما سب سے زیادہ مشابہ تھے، بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض پایا جا رہا ہے، علماء نے دونوں روایتوں میں تطبیق کی جو صورت نکالی ہے وہ یہ ہے: (۱) زہری کی روایت میں جو مذکور ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب حسن رضی الله عنہ باحیات تھے اور اس وقت وہ اپنے بھائی حسین بن علی کے بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور انس رضی الله عنہ کی اس روایت میں جو مذکور ہے یہ حسن رضی الله عنہ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے۔ (۲) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حسین بن علی رضی الله عنہما کو جن لوگوں نے اللہ کے رسول سے مشابہ قرار دیا ہے تو ان لوگوں نے حسن کو مستثنیٰ کر کے یہ بات کہی ہے۔ (۳) یہ بھی ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں اللہ کے رسول سے مشابہ تھے (دیکھئیے اگلی روایت)۔
حدیث نمبر: 3779
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : " الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ , وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ " . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` حسن رضی الله عنہ سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ، اور حسین رضی الله عنہ اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 3780
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ : " لَمَّا جِيءَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ , وَأَصْحَابِهِ نُضِّدَتْ فِي الْمَسْجِدِ فِي الرَّحَبَةِ , فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَقُولُونَ : قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ ، فَإِذَا حَيَّةٌ قَدْ جَاءَتْ تَخَلَّلُ الرُّءُوسَ حَتَّى دَخَلَتْ فِي مَنْخَرَيْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ , فَمَكَثَتْ هُنَيْهَةً , ثُمَّ خَرَجَتْ , فَذَهَبَتْ حَتَّى تَغَيَّبَتْ ، ثُمَّ قَالُوا : قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ` جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے ۱؎ اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے : آیا آیا ، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبیداللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہو گیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا ، یہاں تک کہ غائب ہو گیا ، پھر لوگ کہنے لگے : آیا آیا ، اس طرح دو یا تین بار ہوا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: حسن اور حسین رضی الله عنہما کے مناقب میں اس حدیث کو لا کر امام ترمذی نواسہ رسول کے اس دشمن کا حشر بتانا چاہتے ہیں جس نے حسین رضی الله عنہ کے ساتھ گستاخی کرتے ہوئے اپنی چھڑی سے آپ کی ناک، آنکھ اور منہ پر مارا تھا کہ اللہ نے نواسہ رسول کے اس دشمن کے ساتھ کیسا سلوک کیا اسے اہل دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ (عبداللہ بن زیاد کو مختار ثقفی کے فرستادہ ابراہیم بن اشتر نے سن چھیاسٹھ میں مقام جازر میں جو موصل سے پانچ فرسخ پر ہے قتل کیا تھا)۔
حدیث نمبر: 3781
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَا : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ : سَأَلَتْنِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ ؟ تَعْنِي بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، فَنَالَتْ مِنِّي ، فَقُلْتُ لَهَا : دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّيَ مَعَهُ الْمَغْرِبَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ , فَسَمِعَ صَوْتِي , فَقَالَ : " مَنْ هَذَا حُذَيْفَةُ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا حَاجَتُكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ ؟ قَالَ : إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ , وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے میری والدہ نے پوچھا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے ؟ میں نے کہا : اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جا سکا ہوں ، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں ، میں نے ان سے کہا : اب مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا ، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ ( نوافل ) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی ، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا ، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا : ” کون ہو ؟ حذیفہ ؟ “ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، حذیفہ ہوں ، آپ نے فرمایا : «ما حاجتك غفر الله لك ولأمك» ” کیا بات ہے ؟ بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو “ ( پھر ) آپ نے فرمایا : ” یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا ، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین رضی الله عنہما اہل جنت کے جوانوں ( یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان ) کے سردار ہیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: خصوصی فرشتہ کے ذریعہ مذکورہ خوشخبری ان تینوں ماں بیٹوں کی خصوصی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 3782
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَسَامَةَ، عَنِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا : «اللهم إني أحبهما فأحبهما» ” اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں ، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 3783
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَال : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْفُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ اپنے کندھے پر حسن بن علی رضی الله عنہما کو بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے : «اللهم إني أحبه فأحبه» ” اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور یہ فضیل بن مرزوق کی ( مذکورہ ) روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور یہ فضیل بن مرزوق کی ( مذکورہ ) روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جس روایت میں صرف حسن کو کندھے پر اٹھائے ہونے کا تذکرہ ہے وہ اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ حسن و حسین رضی الله عنہما دونوں کو اٹھائے ہوئے تھے، حالانکہ یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعے ہیں، اور دونوں کے لیے یہ بات کہے جانے میں کوئی تضاد بھی نہیں۔
حدیث نمبر: 3784
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلَامُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ " . قَالَ : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی رضی الله عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا : بیٹے ! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے ۔“
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- زمعہ بن صالح کی بعض محدثین نے ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- زمعہ بن صالح کی بعض محدثین نے ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3785
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ نَجَبَةَ، قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ أُعْطِيَ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ , أَوْ نُقَبَاءَ ، وَأُعْطِيتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عَشَرَ " ، قُلْنَا : مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " أَنَا , وَابْنَايَ , وَجَعْفَرُ , وَحَمْزَةُ , وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ , وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ , وَبِلَالٌ , وَسَلْمَانُ , وَالْمِقْدَادُ , وَحُذَيْفَةُ , وَعَمَّارٌ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نبی کو اللہ نے سات نقیب عنایت فرمائے ہیں ، اور مجھے چودہ “ ، ہم نے عرض کیا : وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ، میرے دونوں نواسے ، جعفر ، حمزہ ، ابوبکر ، عمر ، مصعب بن عمیر ، بلال ، سلمان ، مقداد ، حذیفہ ، عمار اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم ۔“
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ،
۲- یہ حدیث علی رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی آئی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ،
۲- یہ حدیث علی رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی آئی ہے ۔