حدیث نمبر: 3676
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ , فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ , وَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ ، فَقَالَتْ : أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ ؟ قَالَ : " فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَائْتِي أَبَا بَكْرٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کسی مسئلہ میں آپ سے بات کی اور آپ نے اسے کسی بات کا حکم دیا تو وہ بولی : مجھے بتائیے اللہ کے رسول ! اگر میں آپ کو نہ پاؤں ؟ ( تو کس کے پاس جاؤں ) آپ نے فرمایا : ” اگر تم مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے جانشین ابوبکر رضی الله عنہ کے ہونے کی پیشین گوئی، اور ان کو اپنا جانشین بنانے کا لوگوں کو اشارہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3676
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3659) ، والأحکام 51 (7220) ، والاعتصام 25 (7360) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 1 (2386) ( تحفة الأشراف : 3192) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3677
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ رَاكِبٌ بَقَرَةً إِذْ قَالَتْ : لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا , وَأَبُو بَكْرٍ , وَعُمَرُ " . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ وَاللهُ أَعْلَمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس دوران کہ ایک شخص ایک گائے پر سوار تھا اچانک وہ گائے بول پڑی کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہوں ، میں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کی گئی ہوں ( یہ کہہ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا اس پر ایمان ہے اور ابوبکر و عمر کا بھی ، ابوسلمہ کہتے ہیں : حالانکہ وہ دونوں اس دن وہاں لوگوں میں موجود نہیں تھے “ ، واللہ اعلم ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کے سلسلہ میں اتنا مضبوط یقین تھا کہ جو میں کہوں گا وہ دونوں اس پر آمنا و صدقنا کہیں گے، اسی لیے ان کے غیر موجودگی میں بھی آپ نے ان کی طرف سے تصدیق کر دی، یہ ان کی فضیلت کی دلیل ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3677
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (247)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحرث والمزارعة 4 (2324) ، وأحادیث الأنبیاء 52 (3471) ، وفضائل الصحابة 5 (3663) ، و6 (3690) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 1 (2388) ( تحفة الأشراف : 14951) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3677M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ` ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : ہم سے شعبہ نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3677M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (247)
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 3678
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ " . هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسجد کی طرف کھلنے والے ) سارے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا سوائے ابوبکر رضی الله عنہ کے دروازہ کے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے
۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر الحديث (3922)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 16410) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3679
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاق بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ " فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا . هَذَا غَرِيبٌ ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ مَعْنٍ، وَقَالَ : عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` ابوبکر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : ” تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں «عن موسى بن طلحة عن عائشة» کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (6022 / التحقيق الثانى) , شیخ زبیر علی زئی: (3679) (صحيح), إسحاق بن يحيي بن طلحة :ضعيف . . . (وللحديث شاهد عند ابن الأعرابي فى المعجم (409) وسنده صحيح)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15921) (صحیح) (الصحیحة 1574)»
حدیث نمبر: 3680
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ : فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ ، وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ : فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ : دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ ، وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا , وَتَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يكنى : أبا إدريس وهو شيعي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے نہ ہوں اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں ، رہے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو وہ جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اور ابوالجحاف کا نام داود بن ابوعوف ہے ، سفیان ثوری سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : ہم سے ابوالجحاف نے بیان کیا ( اور وہ ایک پسندیدہ شخص تھے )
۳- اور تلید بن سلیمان کی کنیت ابوادریس ہے اور یہ اہل تشیع میں سے ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس کے باوجود ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی منقبت میں حدیث روایت کی، اس سے اس روایت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، «الفضل ما شہدت بہ أعداء» ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3680
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (6056) // ضعيف الجامع الصغير (5223) // , شیخ زبیر علی زئی: (3680) إسناده ضعيف, تليد: رافضي ضعيف (تق: 797) وعطية ضعيف (تقدم: 477)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4196) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں)»