حدیث نمبر: 3626
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ، فَخَرَجْنَا فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا ، فَمَا اسْتَقْبَلَهُ جَبَلٌ وَلَا شَجَرٌ إِلَّا وَهُوَ يَقُولُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ، وَقَالُوا : عَنْ عَبَّادٍ أَبِي يَزِيدَ ، مِنْهُمْ فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا ، جب ہم اس کے بعض اطراف میں نکلے تو جو بھی پہاڑ اور درخت آپ کے سامنے آتے سبھی ” السلام علیک یا رسول اللہ “ کہتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث ولید بن ابی ثور سے روایت کی ہے اور ان سب نے «عن عباد أبي يزيد» کہا ہے ، اور انہیں میں سے فروہ بن ابی المغراء بھی ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: فروہ بن ابی المغراء معدی کرب، کندی، کوفی استاذ امام بخاری، امام ابوحاتم رازی، امام ابوزرعہ رازی، متوفی ۲۲۵ھ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3626
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (5919 / التحقيق الثاني) , شیخ زبیر علی زئی: (3626) إسناده ضعيف, الوليد بن أبى ثور: ضعيف و عباد بن أبى يزيد: مجهول (تق:7431 ، 3152) وقال الهيثمي فى وليد بن عبدالله بن أبى ثور الهمداني الكوفي : ضعفه الجمهور (مجمع الزوائد 279/5)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10159) (ضعیف) (سند میں عباد بن یزید مجہول، اور ولید بن ابی ثور ضعیف اور سدی متکلم فیہ راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 3627
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَطَبَ إِلَى لِزْقِ جِذْعٍ وَاتَّخَذُوا لَهُ مِنْبَرًا ، فَخَطَبَ عَلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَنِينَ النَّاقَةِ ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَّهُ فَسَكَنَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أُبَيٍّ ، وَجَابِرٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ أَنَسٍ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے ، پھر لوگوں نے آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیا ، آپ نے اس پر خطبہ دیا تو وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر اس پر ہاتھ پھیرا تب وہ چپ ہوا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس والی حدیث حسن صحیح غریب ہے ،
۲- اس باب میں ابی ، جابر ، ابن عمر ، سہل بن سعد ، ابن عباس اور ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یہ آپ کے نبی ہونے کی دلیلوں میں سے ایک اہم دلیل ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3627
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1415)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 194) ، و مسند احمد (3/226، 293) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3628
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : بِمَ أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ ؟ قَالَ : " إِنْ دَعَوْتُ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : " ارْجِعْ " , فَعَادَ فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : کیسے میں جانوں کہ آپ نبی ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر میں اس کھجور کے درخت کی اس ٹہنی کو بلا لوں تو کیا تم میرے بارے میں اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دو گے ؟ “ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ ( ٹہنی ) کھجور کے درخت سے اتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گر پڑی ، پھر آپ نے فرمایا : ” لوٹ جا تو وہ واپس چلی گئی یہ دیکھ کر وہ اعرابی اسلام لے آیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3628
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (5926 / التحقيق الثانى) , شیخ زبیر علی زئی: (3628) إسناده ضعيف, شريك مدلس وعنعن (تقدم: 112) وأخر جه الحاكم من طريق الأعمش عن أبى ظبيان به والأعمش مدلس وعنعن (تقدم:169) وله طريق آخر عند ابن حبان (6489) وسنده ضعيف لعنعة الأعمش
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5407) (صحیح) (لیکن ’’ فأسلم الأعرابي ‘‘ کالفظ ثابت نہیں ہے، سند میں محمد بن اسماعیل سے مراد امام بخاری ہیں، اور محمد بن سعید بن سلیمان الکوفی ابو جعفر ثقہ ہیں، لیکن شریک بن عبداللہ القاضی ضعیف ہیں، شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، فأسلم الأعرابيیعنی اعرابی مسلمان ہو گیا، کا جملہ شاہد نہ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، الصحیحة 3315)»
حدیث نمبر: 3629
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بُنُ بَشَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدِ بْنُ أَخْطَبَ، قَالَ : " مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِي وَدَعَا لِي " ، قَالَ عَزْرَةُ : إِنَّهُ عَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ إِلَّا شَعَرَاتٌ بِيضٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَأَبُو زَيْدٍ اسْمُهُ : عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوزید بن اخطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا اور میرے لیے دعا فرمائی ، عزرہ کہتے ہیں : وہ ایک سو بیس سال تک پہنچے ہیں پھر بھی ان کے سر کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ابوزید کا نام عمرو بن اخطب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ایسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابوزید کے چہرے پر اپنا دست مبارک پھیرنے اور دعا کی برکت سے ہوا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3629
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10697) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3630
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ : عَرَضْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ : " لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ فِي يَدِي ، وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ , فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ ، قَالَ : فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ " , فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِطَعَامٍ ؟ " , فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهُ : " قُومُوا " ، قَالَ : فَانْطَلَقُوا ، فَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ , وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ ، قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ ؟ " , فَأَتَتْهُ بِذَلِكَ الْخُبْزِ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِعُكَّةٍ لَهَا فَآدَمَتْهُ ، ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " , فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " , فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ، فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ام سلیم رضی الله عنہما سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی ، وہ کمزور تھی ، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں ، کیا تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، تو انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ یعنی بغل کے نیچے چھپا دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ مجھے اڑھا دیا ، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ، جب میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ملے اور آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے ، تو میں جا کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ نے پوچھا : ” کھانا لے کر ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام لوگوں سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا : ” اٹھو چلو “ ، چنانچہ وہ سب چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چلا ، یہاں تک کہ میں ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی ، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے کہا : ام سلیم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم انہیں کھلائیں ، ام سلیم نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے ، تو ابوطلحہ رضی الله عنہ چلے اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ابوطلحہ رضی الله عنہ آپ کے ساتھ تھے ، یہاں تک کہ دونوں اندر آ گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ام سلیم ! جو تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ “ ، چنانچہ وہ وہی روٹیاں لے کر آئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توڑنے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ توڑی گئیں اور ام سلیم نے اپنے گھی کی کُپّی کو اس پر اوندھا کر دیا اور اسے اس میں چیپڑ دیا ، پھر اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا ، پھر آپ نے فرمایا : ” دس آدمیوں کو اندر آنے دو “ ، تو انہوں نے انہیں آنے دیا اور وہ کھا کر آسودہ ہو گئے ، پھر وہ نکل گئے ، پھر آپ نے فرمایا : ” دس کو اندر آنے دو “ ، تو انہوں نے انہیں آنے دیا وہ بھی کھا کر خوب آسودہ ہو گئے اور نکل گئے ، اس طرح سارے لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور وہ سب کے سب ستر یا اسی آدمی تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: آپ کی دعا کی برکت سے کھانا معجزانہ طور پر اتنا زیادہ ہوا کہ ستر اسی لوگوں نے اس سے شکم سیر ہو کر کھایا، یہ معجزا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی ایک اہل دلیل ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بھوک لگتی تھی، کیونکہ آپ بھی فطرتاً انسان تھے، بعض علماء کا یہ کہنا بالکل یہ درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کھلاتا پلاتا تھا اس لیے آپ کو بھوک نہیں لگتی تھی، کبھی ایسا بھی ہوتا تھا، اور کبھی بھوک بھی لگتی تھی، ورنہ پیٹ پر پتھر کیوں باندھتے، آواز کیوں نحیف ہو جاتی؟
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3630
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الصلاة 43 (422) ، والمناقب 25 (3578) ، والأطعمة 6 (5381) ، والأیمان والنذور 22 (6688) ، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 20 (2040) ( تحفة الأشراف : 200) ، وط/صفة النبی ﷺ 10 (19) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3631
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ , وَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَجَابِرٍ ، وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ ، وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، عصر کا وقت ہو گیا تھا ، لوگوں نے وضو کا پانی ڈھونڈھا ، لیکن وہ نہیں پا سکے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ وضو کا پانی لایا گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے وضو کریں ، وہ کہتے ہیں : تو میں نے آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابلتے دیکھا ، پھر لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں کا جو سب سے آخری شخص تھا اس نے بھی وضو کر لیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمران بن حصین ، ابن مسعود ، جابر اور زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3631
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الوضوء 32 (169) ، و45 (195) ، و46 (200) ، والمناقب 25 (357 ¤ 2- 3575) ، صحیح مسلم/الفضائل 3 (2279) ، سنن النسائی/الطھارة 61 (76) ( تحفة الأشراف : 201) ، وط/الطھارة 6 (32) ، و مسند احمد (3/147، 170، 215) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3632
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ : " أَوَّلُ مَا ابْتُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ أَرَادَ اللَّهُ كَرَامَتَهُ وَرَحْمَةَ الْعِبَادِ بِهِ أَنْ لَا يَرَى شَيْئًا إِلَّا جَاءَتْ , مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ، فَمَكَثَ عَلَى ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ , وَحُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلْوَةُ , فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْلُوَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` پہلی وہ چیز جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء ہوئی اور جس وقت اللہ نے اپنے اعزاز سے آپ کو نوازنے اور آپ کے ذریعہ بندوں پر اپنی رحمت و بخشش کا ارادہ کیا وہ یہ تھی کہ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے اس کی تعبیر صبح کے پو پھٹنے کی طرح ظاہر ہو جاتی تھی ۱؎ ، پھر آپ کا حال ایسا ہی رہا جب تک اللہ نے چاہا ، ان دنوں خلوت و تنہائی آپ کو ایسی مرغوب تھی کہ اتنی مرغوب کوئی اور چیز نہ تھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جو خواب بھی آپ دیکھتے وہ بالکل واضح طور پر پورا ہو جاتا تھا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتدائی حالت تھی، پھر کلامی وحی کا سلسلہ «اقراء باسم ربک» سے شروع ہو گیا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3632
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 16612) (حسن صحیح)»
حدیث نمبر: 3633
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الْآيَاتِ عَذَابًا ، وَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَةً ، لَقَدْ كُنَّا نَأْكُلُ الطَّعَامَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ ، قَالَ : وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ , فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ الْمُبَارَكِ , وَالْبَرَكَةُ مِنَ السَّمَاءِ " حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` تم لوگ اللہ کی نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آؤ اس برکت پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے ، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3633
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المناقب 25 (3579) ( تحفة الأشراف : 9454) ، وسنن الدارمی/المقدمة 5 (30) ، و مسند احمد (1/460) (صحیح)»