کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے وقت آپ کی عمر کا بیان
حدیث نمبر: 3621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ , فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ , وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا , وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی گئی تو آپ چالیس سال کے تھے ، پھر آپ مکہ میں تیرہ سال تک رہے اور مدینہ میں دس سال تک ، اور آپ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3621
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مختصر الشمائل (317)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/مناقب الأنصار 28 (3851) ، 45 (3902، 3903) ( تحفة الأشراف : 6227) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ سَنَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَكَذَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِثْلَ ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اسی طرح سے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ہے اور ان سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہی بات شاذ ہے، محفوظ بات یہ ہے کہ آپ ترسٹھ سال کے تھے جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے، ممکن ہے کسی نے پیدائش کے سال اور وفات کے سال کو پورا پورا ایک سال جوڑ لیا ہو، اور اس طرح پینسٹھ بتا دیا ہو؟
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3622
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ المصدر نفسه // مختصر الشمائل (320) ، وسيأتي (751 / 3912) // , شیخ زبیر علی زئی: (3622) شاذ, هشام بن حسان عنعن (تقدم: 460) والحديث شاذ مخالف للروايات الصحيحة
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 6227) (شاذ)»
حدیث نمبر: 3623
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّهُ سَمِعَ أنَسًا يَقُولُ : " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ ، وَلَا بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ ، وَلَا بِالْآدَمِ ، وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبِطِ ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے قد والے تھے نہ بہت ناٹے اور نہ نہایت سفید ، نہ بالکل گندم گوں ، آپ کے سر کے بال نہ گھنگرالے تھے نہ بالکل سیدھے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیسویں سال کے شروع میں مبعوث فرمایا ، پھر مکہ میں آپ دس برس رہے اور مدینہ میں دس برس اور ساٹھویں برس ۱؎ کے شروع میں اللہ نے آپ کو وفات دی اور آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں رہے ہوں گے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ آپ ساٹھ (۶۰) برس کے تھے ان لوگوں نے کسور عدد کو چھوڑ کر صرف دہائیوں کے شمار پر اکتفا کیا ہے، اور جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ آپ پینسٹھ سال کے تھے تو ان لوگوں نے سن وفات اور سن پیدائش کو بھی شمار کر لیا ہے، لیکن سب سے صحیح قول ان لوگوں کا ہے جو ترسٹھ (۶۳) برس کے قائل ہیں، کیونکہ ترسٹھ برس والی روایت زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3623
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مختصر الشمائل رقم (1) ، وقد مضى شطره الأول (1823)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/المناقب 23 (3547، و3548) ، واللباس 68 (5900) ، صحیح مسلم/الفضائل 31 (2347) ( تحفة الأشراف : 833) (صحیح)»