مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب:۔۔۔
حدیث نمبر: 3558
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ رِفَاعَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ بَكَى , فَقَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَوَّلِ عَلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ بَكَى ، فَقَالَ : " اسْأَلُوا اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فَإِنَّ أَحَدًا لَمْ يُعْطَ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْعَافِيَةِ " . قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رفاعہ بن رافع انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ابوبکر صدیق رضی الله عنہ منبر پر چڑھے ، اور روئے ، پھر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے پہلے سال منبر پر چڑھے ، روئے ، پھر کہا : اللہ سے ( گناہوں سے ) عفو و درگزر اور مصیبتوں اور گمراہیوں سے عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد کسی بندے کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوبکر رضی الله عنہ کی سند سے حسن غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3558
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، ابن ماجة (3849)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 6593) (حسن صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔