مرکزی مواد پر جائیں
15 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: کسی انسان کو الوداع (رخصت کرتے) وقت کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3442
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ السُّلَيْمِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَدَّعَ رَجُلًا أَخَذَ بِيَدِهِ فَلَا يَدَعُهَا حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ يَدَعُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَقُولُ : اسْتَوْدِعِ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَآخِرَ عَمَلِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑتے ۱؎ اور اس کا ہاتھ اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ شخص خود ہی آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا اور آپ کہتے : «استودع الله دينك وأمانتك وآخر عملك» ” میں تیرا دین ، تیری امانت ، ایمان اور تیری زندگی کا آخری عمل ( سب ) اللہ کی سپردگی و حوالگی میں دیتا ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ،
۲- یہ حدیث دوسری سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما سے آئی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے رخصت کے وقت بھی مصافحہ ثابت ہوتا ہے، معلوم نہیں لوگوں نے کہاں سے مشہور کر رکھا ہے کہ رخصت کے وقت مصافحہ ثابت نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3442
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (16 - 2485) ، الكلم الطيب (169 - 122 / التحقيق الثاني) , شیخ زبیر علی زئی: (3442) إسناده ضعيف, إبراهيم بن عبدالرحمن بن يزيد : مجهول (تق: 208) وحديث أبى داود (2600) يغني عنه
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف، وانظر: سنن ابی داود/ الجھاد 80 (2600) ، وسنن ابن ماجہ/الجھاد 24 (2826) ( تحفة الأشراف : 7471) (صحیح) (سند میں ابراہیم بن عبد الرحمن بن یزید مجہول راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم 14، 16، 2485)»
حدیث نمبر: 3443
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ لِلرَّجُلِ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا : ادْنُ مِنِّي أُوَدِّعْكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُنَا ، فَيَقُولُ : " أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ` جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ کرتا تو ابن عمر رضی الله عنہما اس سے کہتے : ” میرے قریب آؤ میں تمہیں اسی طرح سے الوداع کہوں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں الوداع کہتے اور رخصت کرتے تھے ، آپ ہمیں رخصت کرتے وقت کہتے تھے : «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے جو سالم بن عبداللہ رضی الله عنہما سے آئی ہے حسن صحیح غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (16 و 2485) ، الكلم الطيب (169 / 122 / التحقيق الثاني)
حدیث تخریج «سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 161 (523) ، (وانظر أیضا الأرقام: 509-552) ( تحفة الأشراف : 6752) ، و مسند احمد (2/7) (صحیح)»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔