حدیث نمبر: 3364
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ هُوَ الصَّغَانِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ { 1 } اللَّهُ الصَّمَدُ { 2 } سورة الإخلاص آية 1-2 فَالصَّمَدُ : الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ لَأَنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُولَدُ إِلَّا سَيَمُوتُ ، وَلَيْسَ شَيْءٌ يَمُوتُ إِلَّا سَيُورَثُ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمُوتُ وَلَا يُورَثُ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 4 ، قَالَ : لَمْ يَكُنْ لَهُ شَبِيهٌ وَلَا عِدْلٌ وَلَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : آپ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے «قل هو الله أحد الله الصمد» ” کہہ دیجئیے اللہ اکیلا ہے ، اللہ بے نیاز ہے “ ( الاخلاص : ۱-۲ ) ، نازل فرمائی ، اور «صمد» وہ ہے جو نہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہو ، اس لیے ( اصول یہ ہے کہ ) جو بھی کوئی چیز پیدا ہو گی وہ ضرور مرے گی اور جو بھی کوئی چیز مرے گی اس کا وارث ہو گا ، اور اللہ عزوجل کی ذات ایسی ہے کہ نہ وہ مرے گی اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہو گا ، «ولم يكن له كفوا أحد» ” اور نہ اس کا کوئی «کفو» ( ہمسر ) ہے “ ، راوی کہتے ہیں : «کفو» یعنی اس کے مشابہ اور برابر کوئی نہیں ہے ، اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3365
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ آلِهَتَهُمْ ، فَقَالُوا : انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ ، قَالَ : فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ بِهَذِهِ السُّورَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَعْدٍ ، وَأَبُو سَعْدٍ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ ، وَأَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ اسْمُهُ عِيسَى ، وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ وَكَانَ عَبْدًا أَعْتَقَتْهُ امْرَأَةٌ صَابِئَةٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابولعالیہ ( رفیع بن مہران ) سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ( یعنی مشرکین کے ) معبودوں کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : آپ ہم سے اپنے رب کا نسب بیان کیجئے ، آپ نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس یہ سورۃ «قل هو الله أحد» لے کر آئے ، پھر انہوں نے اسی طرح حدیث بیان کی ، اور اس کی سند میں ابی بن کعب سے روایت کا ذکر نہیں کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ ابوسعد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، ابوسعد کا نام محمد بن میسر ہے ، اور ابو جعفر رازی کا نام عیسیٰ ہے ، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے یہ ایک غلام تھے جنہیں ایک قیدی عورت نے آزاد کیا تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ ابوسعد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، ابوسعد کا نام محمد بن میسر ہے ، اور ابو جعفر رازی کا نام عیسیٰ ہے ، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے یہ ایک غلام تھے جنہیں ایک قیدی عورت نے آزاد کیا تھا ۔