کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سورۃ اتکاثر سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3354
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ : " أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ " ، قَالَ : " يَقُولُ ابْنُ آدَمَ : مَالِي مَالِي ، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ ، أَوْ أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَن صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شخیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ آیت «ألهاكم التكاثر» ” زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا “ ( التکاثر : ۱ ) ، تلاوت فرما رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” ابن آدم میرا مال ، میرا مال کہے جاتا ہے ( اسی ہوس و فکر میں مرا جاتا ہے ) مگر بتاؤ تو تمہیں اس سے زیادہ کیا ملا جو تم نے صدقہ دے دیا اور آگے بھیج دیا یا کھا کر ختم کر دیا یا پہن کر بوسیدہ کر دیا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ابن آدم کا حقیقی مال وہی ہے جو اس نے راہ خدا میں خرچ کیا، یا خود کھایا پیا اور پہن کر بوسیدہ کر دیا، اور باقی جانے والا مال تو اس کا اپنا مال نہیں بلکہ اس کے وارثین کا مال ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3354
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ومضى (2445)
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 2342 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3355
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا زِلْنَا نَشُكُّ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ حَتَّى نَزَلَتْ : أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ سورة التكاثر آية 1 " ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : مَرَّةً عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ هُوَ رَازِيٌّ ، وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ كُوفِيٌّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم عذاب قبر کے بارے میں برابر شک میں رہے ، یہاں تک کہ سورۃ «ألهاكم التكاثر» نازل ہوئی ، تو ہمیں اس پر یقین حاصل ہوا ۔ ابوکریب کبھی عمرو بن ابی قیس کہتے ہیں ، تو یہ عمروبن قیس رازی ہیں - اور عمرو بن قیس ملائی کوفی ہیں اور یہ ابن ابی لیلیٰ سے روایت کرتے ہیں : اور وہ ( ابن ابی لیلیٰ ) روایت کرتے ہیں منہال بن عمرو سے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3355
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (3355) إسناده ضعيف, حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس (تقدم:527) وتابعه محمد ابن أبى ليلي فى سند المؤلف و محمد ابن أبى ليلي: ضعيف (تقدم:194)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10095) (ضعیف الإسناد) (سند میں حجاج بن ارطاة ضعیف اور مدلس راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 3356
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ : ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8 ، قَالَ الزُّبَيْرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَيُّ النَّعِيمِ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ ؟ قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ " . قال : هذا حديث حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» ” اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا “ ( التکاثر : ۸ ) ، نازل ہوئی تو زبیر رضی الله عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا ؟ ہمیں تو صرف دو ہی ( کالی ) نعمتیں حاصل ہیں ، ایک کھجور اور دوسرے پانی ۱؎ آپ نے فرمایا : ” عنقریب وہ بھی ہو جائیں گی “ ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان دونوں نعمتوں کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا، اور دوسرے اور بہت سی نعمتیں بھی حاصل ہو جائیں گی۔
۲؎: مدینہ کی کھجوریں عموماً کالی ہوتی تھیں، اور پانی کو غالباً کالا کہہ دیا جاتا تھا اس لیے ان دونوں کو عرب «الاسودان» (دو کالے کھانے) کہا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3356
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الإسناد
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزہد 12 (4158) ( تحفة الأشراف : 3625) (حسن)»
حدیث نمبر: 3357
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8 ، قَالَ النَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَنْ أَيِّ النَّعِيمِ نُسْأَلُ ، وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ وَسُيُوفُنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا ، قَالَ : " إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ هَذَا ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَحْفَظُ وَأَصَحُّ حَدِيثًا مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` جب آیت «ثم لتسألن يومئذ عن النعيم» نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا ؟ وہ تو صرف یہی دو سیاہ چیزیں ہیں ( ایک کھجور دوسرا پانی ) ( ہمارا ) دشمن ( سامنے ) حاضر و موجود ہے اور ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں ۱؎ ۔ آپ نے فرمایا : ” ( تمہیں ابھی معلوم نہیں ) عنقریب ایسا ہو گا ( کہ تمہارے پاس نعمتیں ہی نعمتیں ہوں گی ) “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس حدیث سے زیادہ صحیح میرے نزدیک ابن عیینہ کی وہ حدیث ہے جسے وہ محمد بن عمر سے روایت کرتے ہیں ، ( یعنی پچھلی روایت ) سفیان بن عیینہ ابوبکر بن عیاش کے مقابلے میں حدیث کو زیادہ یاد رکھنے اور زیادہ صحت کے ساتھ بیان کرنے والے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: ہمیں لڑنے مرنے سے فرصت کہاں کہ ہمارے پاس طرح طرح کی نعمتیں ہوں اور ہم ان نعمتوں میں عیش و مستی کریں جس کی ہم سے بازپرس کی جائے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3357
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن بما قبله (3356)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 15121) (حسن) (سند میں ابوبکر بن عیاش کا حافظہ بڑھاپے میں کمزور ہو گیا تھا، لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)»
حدیث نمبر: 3358
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَمٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَعْنِي الْعَبْدَ مِنَ النَّعِيمِ أَنْ يُقَالَ لَهُ : أَلَمْ نُصِحَّ لَكَ جِسْمَكَ وَنُرْوِيَكَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَالضَّحَّاكُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ ، وَيُقَالُ : ابْنُ عَرْزَمٍ ، وَابْنُ عَرْزَمٍ أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزم اشعری کہتے ہیں کہ` میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، ( وہ یہ ہیں ) اس سے کہا جائے گا : کیا میں نے تمہارے لیے تمہارے جسم کو تندرست اور ٹھیک ٹھاک نہ رکھا اور تمہیں ٹھنڈا پانی نہ پلاتا رہا ؟ “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ضحاک ، یہ بیٹے ہیں عبدالرحمٰن بن عرزب کے ، اور انہیں ابن عرزم بھی کہا جاتا ہے اور ابن عرزم کہنا زیادہ صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (539) ، المشكاة (5196)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 13511) (صحیح)»