حدیث نمبر: 3342
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عِصَامٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ ؟ فَقَالَ : " هِيَ الصَّلَاةُ بَعْضُهَا شَفْعٌ وَبَعْضُهَا وِتْرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ ، وَقَدْ رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ الْحُدَّانِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ أَيْضًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اس سے مراد نماز ہے ، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ،
۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ،
۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے ۔