کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سورۃ الغاشیہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3341
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ، ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ { 21 } لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ { 22 } سورة الغاشية آية 21-22 " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں ( جنگ جاری رکھو ) جب تک کہ لوگ «لا إلہ إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں ، جب لوگ اس کلمے کو کہنے لگ جائیں تو وہ اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے ، سوائے اس صورت کے جب کہ جان و مال دینا حق بن جائے تو پھر دینا ہی پڑے گا ، اور ان کا ( حقیقی ) حساب تو اللہ ہی لے گا ، پھر آپ نے آیت «إنما أنت مذكر لست عليهم بمصيطر» ” آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں “ ( الغاشیہ : ۲۲ ) ، پڑھی “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: بظاہر اس باب کی حدیث اور اس آیت میں تضاد نظر آ رہا ہے، امام نووی فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت قتال کا حکم نہیں تھا، بعد میں ہوا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3341
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح متواتر، ابن ماجة (71)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإیمان 8 (21/35) ( تحفة الأشراف : 2744) (صحیح)»