حدیث نمبر: 3319
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ : قَدِمْتُ مَكَّةَ فَلَقِيتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّ أُنَاسًا عِنْدَنَا يَقُولُونَ فِي الْقَدَرِ ، فَقَالَ عَطَاءٌ : لَقِيتُ الْوَلِيدَ بْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمَ ، فَقَالَ لَهُ : اكْتُبْ ، فَجَرَى بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى الْأَبَدِ ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَفِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ` میں مکہ آیا ، عطاء بن ابی رباح سے میری ملاقات ہوئی ، میں نے ان سے کہا : ابو محمد ! ہمارے یہاں کچھ لوگ تقدیر کا انکار کرتے ہیں ، عطا نے کہا : میں ولید بن عبادہ بن صامت سے ملا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے : سب سے پہلے اللہ نے قلم کو پیدا کیا ( بنایا ) پھر اس سے کہا : لکھ ، تو وہ چل پڑا ، اور ہمیشہ ہمیش تک جو کچھ ہونے والا تھا سب اس نے لکھ ڈالا ۱؎ ۔ اس حدیث میں ایک قصہ ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اور یہی تقدیر ہے، تو پھر تقدیر کا انکار کیوں؟ تقدیر رزق کے بارے میں ہو، یا انسانی عمل کے بارے میں اللہ نے سب کو روز ازل میں لکھ رکھا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ رزق کے سلسلے میں اس نے اپنے اختیار سے لکھا ہے، اور عمل کے سلسلے میں اس نے اپنے علم غیب کی بنا پر انسان کے آئندہ عمل کے بارے میں جو جان لیا اس کو لکھا ہے اس سلسلے میں جبر نہیں کیا ہے۔