حدیث نمبر: 3298
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ , المعنى واحد ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : بَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَأَصْحَابُهُ إِذْ أَتَى عَلَيْهِمْ سَحَابٌ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ " فَقَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " هَذَا الْعَنَانُ ، هَذِهِ رَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْكُرُونَهُ وَلَا يَدْعُونَهُ " ، قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَكُمْ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّهَا الرَّقِيعُ سَقْفٌ مَحْفُوظٌ وَمَوْجٌ مَكْفُوفٌ ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّ فَوْقَ ذَلِكَ سَمَاءَيْنِ مَا بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ ، حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ مَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّ فَوْقَ ذَلِكَ الْعَرْشَ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ بُعْدُ مَا بَيْنَ السَّمَاءَيْنِ " ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا الَّذِي تَحْتَكُمْ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّهَا الْأَرْضُ " ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا الَّذِي تَحْتَ ذَلِكَ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّ تَحْتَهَا الأَرْضَ الأُخْرَى بَيْنَهُمَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ ، حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَضِينَ بَيْنَ كُلِّ أَرْضَيْنِ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّكُمْ دَلَّيْتُمْ رَجُلًا بِحَبْلٍ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى لَهَبَطَ عَلَى اللَّهِ " ، ثُمَّ قَرَأَ : هُوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ سورة الحديد آية 3 " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، قَالَ : وَيُرْوَى عَنْ أَيُّوبَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالُوا : لَمْ يَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَفَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالُوا : إِنَّمَا هَبَطَ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ وَسُلْطَانِهِ ، عِلْمُ اللَّهِ وَقُدْرَتُهُ وَسُلْطَانُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ ، وَهُوَ عَلَى الْعَرْشِ كَمَا وَصَفَ فِي كِتَابهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` اس دوران کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ بیٹھے ہوئے تھے ، ان پر ایک بدلی آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” یہ بادل ہے اور یہ زمین کے گوشے و کنارے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس بادل کو ایک ایسی قوم کے پاس ہانک کر لے جا رہا ہے جو اس کی شکر گزار نہیں ہے اور نہ ہی اس کو پکارتے ہیں “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” یہ آسمان «رقیع» ہے ، ایسی چھت ہے جو ( جنوں سے ) محفوظ کر دی گئی ہے ، ایک ایسی ( لہر ) ہے جو ( بغیر ستون کے ) روکی ہوئی ہے “ ، پھر آپ نے پوچھا : ” کیا تم جانتے ہو کہ کتنا فاصلہ ہے تمہارے اور اس کے درمیان ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” تمہارے اور اس کے درمیان پانچ سو سال مسافت کی دوری ہے “ ، پھر آپ نے پوچھا : ” کیا تمہیں معلوم ہے اور اس سے اوپر کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے ، آپ نے فرمایا : ” اس کے اوپر دو آسمان ہیں جن کے بیچ میں پانچ سو سال کی مسافت ہے “ ۔ ایسے ہی آپ نے سات آسمان گنائے ، اور ہر دو آسمان کے درمیان وہی فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے ، پھر آپ نے پوچھا : ” اور اس کے اوپر کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، اور اس کے رسول آپ نے فرمایا : ” اس کے اوپر عرش ہے ، عرش اور آسمان کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری دو آسمانوں کے درمیان ہے “ ، آپ نے پوچھا : ” کیا تم جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں : آپ نے فرمایا : ” یہ زمین ہے “ ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو اس کے نیچے کیا ہے ؟ “ ، لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا : ” اس کے نیچے دوسری زمین ہے ، ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری ہے “ ، اس طرح آپ نے سات زمینیں شمار کیں ، اور ہر زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری بتائی ، پھر آپ نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر تم کوئی رسی زمین کی نچلی سطح تک لٹکاؤ تو وہ اللہ ہی تک پہنچے گی ، پھر آپ نے آیت «هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم» ” وہی اول و آخر ہے وہی ظاہر و باطن ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے “ ( الحدید : ۳ ) ، پڑھی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ،
۲- ایوب ، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے ، ان لوگوں نے کہا ہے کہ حسن بصری نے ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے ،
۳- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے کہا : مراد یہ ہے کہ وہ رسی اللہ کے علم پر اتری ہے ، اور اللہ اور اس کی قدرت و حکومت ہر جگہ ہے اور جیسا کہ اس نے اپنی کتاب ( قرآن مجید ) میں اپنے متعلق بتایا ہے وہ عرش پر مستوی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ،
۲- ایوب ، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے ، ان لوگوں نے کہا ہے کہ حسن بصری نے ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے ،
۳- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے کہا : مراد یہ ہے کہ وہ رسی اللہ کے علم پر اتری ہے ، اور اللہ اور اس کی قدرت و حکومت ہر جگہ ہے اور جیسا کہ اس نے اپنی کتاب ( قرآن مجید ) میں اپنے متعلق بتایا ہے وہ عرش پر مستوی ہے ۔