حدیث نمبر: 3285
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فَانْشَقَّ الْقَمَرُ فَلْقَتَيْنِ : فَلْقَةٌ مِنْ وَرَاءِ الْجَبَلِ ، وَفَلْقَةٌ دُونَهُ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْهَدُوا " يَعْنِي : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ سورة القمر آية 1 " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` اس دوران کہ ہم منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، چاند دو ٹکڑے ہو گیا ، ایک ٹکڑا ( اس جانب ) پہاڑ کے پیچھے اور دوسرا ٹکڑا اس جانب ( پہاڑ کے آگے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” گواہ رہو ، یعنی اس بات کے گواہ رہو کہ «اقتربت الساعة وانشق القمر» یعنی : قیامت قریب ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
؎: ” قیامت قریب آ چکی ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہو چکے ہیں “ (القمر: ۱)۔
حدیث نمبر: 3286
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ ، فَنَزَلَتْ : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ إِلَى قَوْلِهِ سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ سورة القمر آية 1 ـ 2 ، يَقُولُ : ذَاهِبٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` اہل مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نشانی ( معجزہ ) کا مطالبہ کیا جس پر مکہ میں چاند دو بار دو ٹکڑے ہوا ، اس پر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» سے لے کر «سحر مستمر» نازل ہوئی ، راوی کہتے ہیں : «سحر مستمر» میں «مستمر» کا مطلب ہے «ذاہب» ( یعنی وہ جادو جو چلا آ رہا ہو )
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں «مرتین» کا معنی یہ نہیں ہے کہ چاند کے ٹکڑے ہونے کا واقعہ دو مرتبہ ہوا، یہ واقعہ دو مرتبہ ہوا نہیں، صرف ایک مرتبہ ہوا، یہاں «مرتين» سے مراد «فلقتين» ہی ہے۔
حدیث نمبر: 3287
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْهَدُوا " . قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” تم سب گواہ رہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 3288
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : انْفَلَقَ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْهَدُوا " . قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سب گواہ رہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 3289
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَارَ فِرْقَتَيْنِ عَلَى هَذَا الْجَبَلِ وَعَلَى هَذَا الْجَبَلِ " ، فَقَالُوا : سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَئِنْ كَانَ سَحَرَنَا مَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَن حُصَيْنٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا ، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر ، ان لوگوں نے کہا : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم پر جادو کر دیا ہے ، لیکن ان ہی میں سے بعض نے ( اس کی تردید کی ) کہا : اگر انہوں نے ہمیں جادو کر دیا ہے تو ( باہر کے ) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لا سکتے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
ان میں سے بعض نے یہ حدیث حصین سے حصین نے جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم سے ، جبیر نے اپنے باپ محمد سے ، محمد نے ان ( جبیر پوتا ) کے دادا جبیر بن مطعم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
ان میں سے بعض نے یہ حدیث حصین سے حصین نے جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم سے ، جبیر نے اپنے باپ محمد سے ، محمد نے ان ( جبیر پوتا ) کے دادا جبیر بن مطعم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ باہر سے آنے والوں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی خبر دی تھی۔
حدیث نمبر: 3290
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو بَكْرٍ بُنْدَارٌ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَدَرِ ، فَنَزَلَتْ : يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ { 48 } إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ { 49 } سورة القمر آية 48-49 . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مشرکین قریش آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقدیر کے مسئلہ میں لڑنے ( اور الجھنے ) لگے اس پر آیت کریمہ : «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» ” یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے ( کہا جائے گا ) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے “ ( القمر : ۴۸ ) ، نازل ہوئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔