حدیث نمبر: 3272
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ ، فَتَقُولُ : قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَفِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم کہتی رہے گی «هل من مزيد» ” کوئی اور ( جہنمی ) ہو تو لاؤ ، ( ڈال دو اسے میرے پیٹ میں ) “ ( قٓ : ۳۰ ) ، یہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا ، اس وقت جہنم «قط قط» ” بس ، بس “ کہے گی اور قسم ہے تیری عزت و بزرگی کی ( اس کے بعد ) جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے میں ضم ہو جائے گا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
فائدہ ۱؎ : یعنی ایک حصہ دوسرے حصہ سے چمٹ کر یکجا ہو جائے گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ،
۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
فائدہ ۱؎ : یعنی ایک حصہ دوسرے حصہ سے چمٹ کر یکجا ہو جائے گا ۔