حدیث نمبر: 3222
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، وغير واحد ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَبْرَةَ النَّخَعِيُّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُسَيْكٍ الْمُرَادِيِّ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا أُقَاتِلُ مَنْ أَدْبَرَ مِنْ قَوْمِي بِمَنْ أَقْبَلَ مِنْهُمْ ؟ فَأَذِنَ لِي فِي قِتَالِهِمْ وَأَمَّرَنِي ، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ ، سَأَلَ عَنِّي : " مَا فَعَلَ الْغُطَيْفِيُّ ؟ " فَأُخْبِرَ أَنِّي قَدْ سِرْتُ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَرَدَّنِي ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " ادْعُ الْقَوْمَ ، فَمَنْ أَسْلَمَ مِنْهُمْ فَاقْبَلْ مِنْهُ ، وَمَنْ لَمْ يُسْلِمْ فَلَا تَعْجَلْ حَتَّى أُحْدِثَ إِلَيْكَ " ، قَالَ : وَأُنْزِلَ فِي سَبَإٍ مَا أُنْزِلَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا سَبَأٌ أَرْضٌ أَوِ امْرَأَةٌ ؟ قَالَ : " لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ ، وَلَكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنَ الْعَرَبِ فَتَيَامَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَتَشَاءَمَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ ، فَأَمَّا الَّذِينَ تَشَاءَمُوا : فَلَخْمٌ ، وَجُذَامُ ، وَغَسَّانُ ، وَعَامِلَةُ ، وَأَمَّا الَّذِينَ تَيَامَنُوا : فَالْأُزْدُ ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ ، وَحِمْيَرٌ ، وَكِنْدَةُ ، وَمَذْحِجٌ ، وَأنْمَارٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا أَنْمَارُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ مِنْهُمْ خَثْعَمُ ، وَبَجِيلَةُ " ، وَرُوِيَ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فروہ بن مسیک مرادی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو ایمان لے آئے ہیں ان لوگوں سے نہ لڑوں جو ایمان نہیں لائے ہیں ، تو آپ نے مجھے ان سے لڑنے کی اجازت دے دی ، اور مجھے میری قوم کا امیر بنا دیا ، جب میں آپ کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا تو آپ نے میرے متعلق پوچھا کہ غطیفی نے کیا کیا ؟ آپ کو بتایا گیا کہ میں تو جا چکا ہوں ، مجھے لوٹا لانے کے لیے میرے پیچھے آپ نے آدمی دوڑائے ، تو میں آپ کے پاس آ گیا ، آپ اس وقت اپنے کچھ صحابہ کے درمیان تشریف فرما تھے ، آپ نے فرمایا : ” لوگوں کو تم دعوت دو ، تو ان میں سے جو اسلام لے آئے اس کے اسلام و ایمان کو قبول کر لو ، اور جو اسلام نہ لائے تو اس کے معاملے میں جلدی نہ کرو ، یہاں تک کہ میں تمہیں نیا ( و تازہ ) حکم نہ بھیجوں “ ۔ راوی کہتے ہیں : سبا کے متعلق ( کلام پاک میں ) جو نازل ہوا سو ہوا ( اسی مجلس کے ) ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! سبا کیا ہے ، سبا کوئی سر زمین ہے ، یا کسی عورت کا نام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ نہ کوئی ملک ہے اور نہ ہی وہ کسی عورت کا نام بلکہ سبا نام کا ایک عربی شخص تھا جس کے دس بچے تھے ، جن میں سے چھ کو اس نے باعث خیر و برکت جانا اور چار سے بدشگونی لی ( انہیں منحوس جانا ) تو جنہیں اس نے منحوس سمجھا وہ : لخم ، جذام ، غسان اور عاملہ ہیں ، اور جنہیں مبارک سمجھا وہ ازد ، اشعری ، حمیر ، مذحج ، انمار اور کندہ ہیں “ ، ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! انمار کون سا قبیلہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اسی قبیلہ کی شاخیں خشعم اور بجیلہ ہیں “ ۔ یہ حدیث ابن عباس سے مروی ہے ، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
حدیث نمبر: 3223
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَضَى اللَّهُ فِي السَّمَاءِ أَمْرًا ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ ، كَأَنَّهَا سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ ، قَالُوا : مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالُوا : الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ ، قَالَ : وَالشَّيَاطِينُ بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ آسمان پر کسی معاملے کا حکم و فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے عجز و انکساری کے ساتھ ( حکم برداری کے جذبہ سے ) اپنے پر ہلاتے ہیں ۔ ان کے پر ہلانے سے پھڑپھڑانے کی ایسی آواز پیدا ہوتی ہے تو ان زنجیر پتھر پر گھسٹ رہی ہے ، پھر جب ان کے دلوں کی گھبراہٹ جاتی رہتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ وہ جواب دیتے ہیں : حق بات کہی ہے ۔ وہی بلند و بالا ہے “ ، آپ نے فرمایا : ” شیاطین ( زمین سے آسمان تک ) یکے بعد دیگرے ( اللہ کے احکام اور فیصلوں کو اچک کر اپنے چیلوں تک پہنچانے کے لیے تاک و انتظار میں ) لگے رہتے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ ارشاد باری تعالیٰ «ولا تنفع الشفاعة عنده إلا لمن أذن له حتى إذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربكم قالوا الحق وهو العلي الكبير» (سبأ: 23) کی طرف اشارہ ہے۔
حدیث نمبر: 3224
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ لِمِثْلِ هَذَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ ؟ " قَالُوا : كُنَّا نَقُولُ : يَمُوتُ عَظِيمٌ أَوْ يُولَدُ عَظِيمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّهُ لَا يُرْمَى بِهِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ لَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّى يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ إِلَى هَذِهِ السَّمَاءِ ، ثُمَّ سَأَلَ أَهْلُ السَّمَاءِ السَّادِسَةِ أَهْلَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ : مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالَ : فَيُخْبِرُونَهُمْ ، ثُمَّ يَسْتَخْبِرُ أَهْلُ كُلِّ سَمَاءٍ حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ أَهْلَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، وَتَخْتَطِفُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ فَيُرْمَوْنَ فَيَقْذِفُونَهُ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَكِنَّهُمْ يُحَرِّفُونَهُ وَيَزِيدُونَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے کہ یکایک ایک تارہ ٹوٹا جس سے روشنی پھیل گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا : ” زمانہ جاہلیت میں جب تم لوگ ایسی کوئی چیز دیکھتے تو کیا کہتے تھے ؟ “ انہوں نے کہا : ہم کہتے تھے کوئی بڑا آدمی مرے گا یا کوئی بڑی شخصیت جنم لے گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتا ، بلکہ اللہ بزرگ و برتر جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح و تہلیل کرتے ہیں ، پھر ان سے قریبی آسمان کے فرشتے تسبیح کرتے ہیں ، پھر ان سے قریبی ، اس طرح تسبیح کا یہ غلغلہ ہمارے اس آسمان تک آ پہنچتا ہے ، چھٹے آسمان والے فرشتے ساتویں آسمان والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں : تمہارے رب نے کیا کہا ہے ؟ ( کیا حکم صادر فرمایا ہے ؟ ) تو وہ انہیں بتاتے ہیں ، پھر اسی طرح ہر نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے ہیں ، اس طرح بات دنیا سے قریبی آسمان والوں تک آ پہنچتی ہے ۔ اور کی جانے والی بات چیت کو شیاطین اچک لیتے ہیں ۔ ( جب وہ اچکنے کی کوشش کرتے ہیں تو سننے سے باز رکھنے کے لیے تارہ پھینک کر ) انہیں مارا جاتا ہے اور وہ اسے ( اچکی ہوئی بات کو ) اپنے یاروں ( کاہنوں ) کی طرف پھینک دیتے ہیں تو وہ جیسی ہے اگر ویسی ہی اسے پہنچاتے ہیں تو وہ حق ہوتی ہے ، مگر لوگ اسے بدل دیتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مولف نے یہ حدیث سابقہ آیت ہی کی تفسیر میں ذکر کی ہے۔
حدیث نمبر: 3224M
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالُوا : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَى الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَجَالٍ مِنَ الأَنْصَارِ، قَالُوا : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
یہ حدیث زہری سے بطریق : «علي بن الحسين عن ابن عباس عن رجال من الأنصار» مروی ہے کہتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، آگے انہوں نے اسی کی ہم معنی حدیث بیان کی ۔