حدیث نمبر: 3163
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " لَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ أَسْرَى لَيْلَةً حَتَّى أَدْرَكَهُ الْكَرَى أَنَاخَ فَعَرَّسَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا بِلَالُ ، اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَةَ ، قَالَ : فَصَلَّى بِلَالٌ ثُمَّ تَسَانَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُسْتَقْبِلَ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَنَامَ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ أَحَدٌ مِنْهُمْ ، وَكَانَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَيْ بِلَالُ ، فَقَالَ بِلَالٌ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْتَادُوا ثُمَّ أَنَاخَ فَتَوَضَّأَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ثُمَّ صَلَّى مِثْلَ صَلَاتِهِ لِلْوَقْتِ فِي تَمَكُّثٍ ، ثُمَّ قَالَ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَغَيْرُهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے لوٹے ، رات کا سفر اختیار کیا ، چلتے چلتے آپ کو نیند آنے لگی ( مجبور ہو کر ) اونٹ بٹھایا اور قیام کیا ، بلال رضی الله عنہ سے فرمایا : ” بلال ! آج رات تم ہماری حفاظت و پہرہ داری کرو “ ، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں : بلال نے ( جاگنے کی صورت یہ کی کہ ) نماز پڑھی ، صبح ہونے کو تھی ، طلوع فجر ہونے کا انتظار کرتے ہوئے انہوں نے اپنے کجاوے کی ( ذرا سی ) ٹیک لے لی ، تو ان کی آنکھ لگ گئی ، اور وہ سو گئے ، پھر تو کوئی اٹھ نہ سکا ، ان سب میں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے ، آپ نے فرمایا : ” بلال ! ( یہ کیا ہوا ؟ ) “ بلال نے عرض کیا : میرے باپ آپ پر قربان ، مجھے بھی اسی چیز نے اپنی گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا ، آپ نے فرمایا : ” یہاں سے اونٹوں کو آگے کھینچ کر لے چلو ، پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اونٹ بٹھائے ، وضو کیا ، نماز کھڑی کی اور ویسی ہی نماز پڑھی جیسی آپ اطمینان سے اپنے وقت پر پڑھی جانے والی نمازیں پڑھا کرتے تھے ۔ پھر آپ نے آیت «أقم الصلاة لذكري» ” مجھے یاد کرنے کے لیے نماز پڑھو “ ( طہٰ : ۱۴ ) ، پڑھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے ، اسے کئی حافظان حدیث نے زہری سے ، زہری نے سعید بن مسیب سے اور سعید بن مسیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۲- صالح بن ابی الاخضر حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں ۔ انہیں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے حفظ کے تعلق سے ضعیف کہا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غیر محفوظ ہے ، اسے کئی حافظان حدیث نے زہری سے ، زہری نے سعید بن مسیب سے اور سعید بن مسیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ہے ،
۲- صالح بن ابی الاخضر حدیث میں ضعیف قرار دیئے جاتے ہیں ۔ انہیں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے حفظ کے تعلق سے ضعیف کہا ۔