کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3105
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ نَادَى مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ ، قَالُوا : أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوهَنَا وَتُنْجِّنَا مِنَ النَّارِ وَتُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، مَرْفُوعًا ، وَرَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَوْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ صُهَيْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» ” جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے اچھائی ( جنت ) ہے اور مزید برآں بھی ( یعنی دیدار الٰہی ) “ ( یونس : ۲۶ ) ، کی تفسیر اس طرح فرمائی : ” جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا : اللہ کے پاس تمہارے لیے اس کی طرف سے کیا ہوا ایک وعدہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تم سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دے ۔ تو وہ جنتی کہیں گے : کیا اللہ نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیئے ہیں اور ہمیں آگ سے نجات نہیں دی ہے اور ہمیں جنت میں داخل نہیں فرمایا ہے ؟ ( اب کون سی نعمت باقی رہ گئی ہے ؟ ) “ ، آپ نے فرمایا : ” پھر پردہ اٹھا دیا جائے گا “ ، آپ نے فرمایا : ” قسم اللہ کی ! اللہ نے انہیں کوئی ایسی چیز دی ہی نہیں جو انہیں اس کے دیدار سے زیادہ لذیذ اور محبوب ہو ۔‏‏‏‏“
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- حماد بن سلمہ کی حدیث ایسی ہی ہے ،
۲- کئی ایک نے اسے حماد بن سلمہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔ سلیمان بن مغیرہ نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ان کے قول کی حیثیت سے روایت کی ہے اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ یہ روایت صہیب سے ہے اور صہیب رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3105
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (187)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الإیمان 80 (181) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة 13 (187) ( تحفة الأشراف : 4968) (صحیح)»
حدیث نمبر: 3106
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64 ، قَالَ : مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا ، فَقَالَ : " مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ مُنْذُ أُنْزِلَتْ فَهِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطاء بن یسار ایک مصری شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ` میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے اس آیت «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ” ان کے لیے بشارت ہے دنیا کی زندگی میں “ ( یونس : ۶۴ ) ، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا : جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر پوچھی مجھ سے کسی نے اس آیت کے متعلق نہیں پوچھا ( اور میں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے مجھ سے تمہارے سوا کسی نے اس کے متعلق نہیں پوچھا ۔ ” یہ بشارت اچھے خواب ہیں جنہیں مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لیے ( کسی اور کو ) دکھایا جاتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3106
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ومضى (2389) , شیخ زبیر علی زئی: (3106) إسناده ضعيف / تقدم : 2273
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم 2273 (صحیح)»
حدیث نمبر: 3106M
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
‏‏‏‏ ابوالدرداء رضی الله عنہ سے اسی جیسی روایت کی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3106M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ومضى (2389)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 3106M
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالدرداء رضی الله عنہ کے واسطہ سے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ۔ اور اس سند میں عطاء بن یسار سے روایت کا ذکر نہیں ہے ۱؎ ،
۳- اس باب میں عبادہ بن صامت سے بھی روایت ہے ۔
فائدہ ۱؎ : اور ابوصالح سمان کا سماع ابو الدرداء رضی الله عنہ سے ثابت ہے ، اس لیے یہ سند بھی متصل ہوئی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3106M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ومضى (2389)
تخریج حدیث «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَمَّا أَغْرَقَ اللَّهُ فِرْعَوْنَ قَالَ: {آمَنْتُ أَنَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ} فَقَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ! فَلَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذُ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ؛ فَأَدُسُّهُ فِي فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ تُدْرِكَهُ الرَّحْمَةُ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ نے فرعون کو ڈبویا تو اس نے ( اس موقع پر ) کہا «آمنت أنه لا إله إلا الذي آمنت به بنو إسرائيل» کہ ” میں اس بات پر ایمان لایا کہ اس معبود کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں “ ( یونس : ۹۰ ) ، پھر جبرائیل علیہ السلام نے کہا : اے محمد ! کاش اس وقت میری حالت دیکھی ہوتی ۔ میں اس ڈر سے کہ کہیں اس ( مردود ) کو اللہ کی رحمت حاصل نہ ہو جائے ، میں سمندر سے کیچڑ نکال نکال کر اس کے منہ میں ٹھونسنے لگا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3107
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح بما بعده (3106) , شیخ زبیر علی زئی: (3107) إسناده ضعيف, علي بن زيد بن جدعان ضعيف (تقدم: 589) والحديث الأتي (الأصل : 3108) يغني عنه
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف وانظر مایأتي ( تحفة الأشراف : 6560) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، نیچے آنے والی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 3108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ذَكَرَ أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَعَلَ يَدُسُّ فِي فِي فِرْعَوْنَ الطِّينَ خَشْيَةَ أَنْ يَقُولَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَرْحَمَهُ اللَّهُ ، أَوْ خَشْيَةَ أَنْ يَرْحَمَهُ اللَّهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کیا کہ ( جب فرعون ڈوبنے لگا ) جبرائیل علیہ السلام فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونسنے لگے ، اس ڈر سے کہ وہ کہیں «لا إلٰہ إلا اللہ» نہ کہہ دے تو اللہ کو اس پر رحم آ جائے ۔ راوی کو شک ہو گیا ہے کہ آپ نے «خشية أن يقول لا إله إلا الله» کہا یا «خشية أن يرحمه الله» کہا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 3108
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : 5561، 5572) (صحیح الإسناد)»