حدیث نمبر: 2993
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ الْخَزَّازُ، وَيَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ يَزِيدُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو عَامِرٍ الْقَاسِمَ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ سورة آل عمران آية 7 ، قَالَ : " فَإِذَا رَأَيْتِيهِمْ فَاعْرِفِيهِمْ " ، وَقَالَ يَزِيدُ : فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاعْرِفُوهُمْ ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «فأما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تأويله» ۲؎ کی تفسیر پوچھی ۔ تو آپ نے فرمایا : ” جب تم انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو ( کہ یہی لوگ اصحاب زیغ ہیں ) ۔ یزید کی روایت میں ہے ” جب تم لوگ انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو “ یہ بات عائشہ رضی الله عنہا نے دو یا تین بار کہی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: قرآن میں دو قسم کی آیات ہیں: ● محکم
● متشابہ
محکم وہ آیات ہیں جن کے معانی اور مطالب بالکل واضح ہیں جیسے ”نماز پڑھو، زکاۃ ادا کرو“ وغیرہ، اور متشابہ وہ آیات ہیں جن کے معانی واضح نہیں ہوتے، ان کے صحیح معانی یا تو اللہ جانتا ہے، یا اللہ کے رسول جانتے تھے، ان کے معانی معلوم کرنے کے پیچھے پڑنے سے منع کیا گیا ہے، ان پر ایمان بالغیب کا مطالبہ ہے لیکن زیع و ضلال کے متلاشی لوگ ان کے غلط معانی بیان کرنے کے چکر میں پڑے رہتے ہیں، انہی سے بچنے کا مشورہ اس حدیث میں دیا گیا ہے۔
۲؎: ”پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی غلط مراد کی جستجو کی خاطر“ [آل عمران: ۷]
● متشابہ
محکم وہ آیات ہیں جن کے معانی اور مطالب بالکل واضح ہیں جیسے ”نماز پڑھو، زکاۃ ادا کرو“ وغیرہ، اور متشابہ وہ آیات ہیں جن کے معانی واضح نہیں ہوتے، ان کے صحیح معانی یا تو اللہ جانتا ہے، یا اللہ کے رسول جانتے تھے، ان کے معانی معلوم کرنے کے پیچھے پڑنے سے منع کیا گیا ہے، ان پر ایمان بالغیب کا مطالبہ ہے لیکن زیع و ضلال کے متلاشی لوگ ان کے غلط معانی بیان کرنے کے چکر میں پڑے رہتے ہیں، انہی سے بچنے کا مشورہ اس حدیث میں دیا گیا ہے۔
۲؎: ”پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی غلط مراد کی جستجو کی خاطر“ [آل عمران: ۷]
حدیث نمبر: 2994
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ سورة آل عمران آية 7 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّاهُمُ اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرُوِي عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَإِنَّمَا ذَكَرَ يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ أَيْضًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات» کی تفسیر پوچھی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم ان لوگوں کو آیات متشابہات کے پیچھے پڑے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے اور ایسے لوگوں سے بچو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث ایوب سے بھی مروی ہے ، اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے ،
۳- ایسے ہی یہ حدیث متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے عائشہ سے روایت کی ہے ۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی اپنی روایات میں ” قاسم بن محمد “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ان کا ذکر صرف ” یزید بن ابراہیم تستری “ نے اس حدیث میں «عن القاسم» کہہ کر کیا ہے ،
۴- ابن ابی ملیکہ عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہیں ، انہوں نے بھی عائشہ سے سنا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث ایوب سے بھی مروی ہے ، اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے ،
۳- ایسے ہی یہ حدیث متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے عائشہ سے روایت کی ہے ۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی اپنی روایات میں ” قاسم بن محمد “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ان کا ذکر صرف ” یزید بن ابراہیم تستری “ نے اس حدیث میں «عن القاسم» کہہ کر کیا ہے ،
۴- ابن ابی ملیکہ عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہیں ، انہوں نے بھی عائشہ سے سنا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی غلط مراد کی جستجو کی خاطر، حالانکہ ان کے حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا “ (آل عمرآن: ۷)۔
حدیث نمبر: 2995
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً مِنَ النَّبِيِّينَ ، وَإِنَّ وَلِيِّي أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي ، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ سورة آل عمران آية 68 " ، حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، وَأَبُو الضُّحَى اسْمُهُ مُسْلِمُ بْنُ صُبَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نبی کا نبیوں میں سے کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے ، اور میرے دوست میرے باپ اور میرے رب کے گہرے دوست ابراہیم ہیں ۔ پھر آپ نے آیت «إن أولى الناس بإبراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين آمنوا والله ولي المؤمنين» ۱؎ پڑھی “ ۔
وضاحت:
۱؎: ” سب لوگوں سے زیادہ ابراہیم سے نزدیک تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا کہا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے، مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے “ (آل عمرآن: ۶۸)۔
حدیث نمبر: 2995M
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ: $عَنْ مَسْرُوقٍ#.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے ابوالضحیٰ نے` عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے ۔ اور اس سند میں مسروق کا ذکر نہیں ہے ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث ابوالضحیٰ کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ مسروق سے روایت کرتے ہیں ۔ اور ابوالضحیٰ کا نام مسلم بن صبیح ہے ۔
ابوالضحیٰ نے اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، ابونعیم کی روایت کی طرح روایت کی ۔ اور اس میں بھی مسروق کا ذکر نہیں ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث ابوالضحیٰ کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ مسروق سے روایت کرتے ہیں ۔ اور ابوالضحیٰ کا نام مسلم بن صبیح ہے ۔
ابوالضحیٰ نے اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، ابونعیم کی روایت کی طرح روایت کی ۔ اور اس میں بھی مسروق کا ذکر نہیں ہے ۔
وضاحت:
۲؎: تب اس سند میں انقطاع ہو گا، کیونکہ ابوالضحیٰ کا سماع ابن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں ہے، لیکن پچھلی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 2996
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ، فَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ : فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَكَ بَيِّنَةٌ ؟ ، فَقُلْتُ : لَا ، فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ : احْلِفْ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَنْ يَحْلِفُ فَيَذْهَبُ بِمَالِي ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور وہ جھوٹا ہو اور قسم اس لیے کھائی تاکہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناحق لے لے تو جب وہ ( قیامت میں ) اللہ سے ملے گا ، اس وقت اللہ اس سخت غضبناک ہو گا “ ۔ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں : قسم اللہ کی ! یہ حدیث میرے بارے میں ہے ۔ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان ایک ( مشترک ) زمین تھی ، اس نے اس میں میری حصہ داری کا انکار کر دیا ، تو میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس کوئی دلیل و ثبوت ہے ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، پھر آپ نے یہودی سے فرمایا : ” تم قسم کھاؤ “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا ، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت : «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ۱؎ نازل فرمائی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں “ (آل عمرآن: ۷۷)۔
حدیث نمبر: 2997
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 أَوْ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245 ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ، وَكَانَ لَهُ حَائِطٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَائِطِي لِلَّهِ ، وَلَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ ، فَقَالَ : " اجْعَلْهُ فِي قَرَابَتِكَ أَوْ أَقْرَبِيكَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب یہ آیت : «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» ۱؎ یا «من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا» ۲؎ نازل ہوئی ۔ اس وقت ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس ایک باغ تھا ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا باغ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ ہے ، اگر میں اسے چھپا سکتا ( تو چھپاتا ) اعلان نہ کرتا ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنے رشتہ داروں کے لیے وقف کر دو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس حدیث کو مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کے واسطہ سے انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس حدیث کو مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کے واسطہ سے انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے “ (آل عمران: ۹۲)۔
۲؎: ” ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے “ (البقرہ: ۲۴۵)۔
۳؎: کیونکہ چھپا کر صدقہ و خیرات کرنا اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
۲؎: ” ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے “ (البقرہ: ۲۴۵)۔
۳؎: کیونکہ چھپا کر صدقہ و خیرات کرنا اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
حدیث نمبر: 2998
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، قَال : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنِ الْحَاجُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الشَّعِثُ التَّفِلُ " ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْعَجُّ وَالثَّجُّ " ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : مَا السَّبِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْخُوزِيِّ الْمَكِّيِّ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( واقعی ) حاجی کون ہے ؟ ۔ آپ نے فرمایا : ” وہ حاجی جس کا سر گردوغبار سے اٹ گیا ہو جس نے زیب و زینت اور خوشبو چھوڑ دی ہو ، جس کے بدن سے بو آنے لگی ہو “ پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : کون سا حج سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ حج جس میں لبیک بآواز بلند پکارا جائے ، اور ہدی اور قربانی کے جانوروں کا ( خوب خوب ) خون بہایا جائے “ ۔ ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ( «من استطاع سبیلاً» میں ) «سبیل» سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” زاد راہ ( توشہ ) اور سواری “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
ابن عمر رضی الله عنہما کی اس حدیث کو ہم نہیں جانتے سوائے ابراہیم بن یزید خوزی مکی کی روایت سے ، اور بعض محدثین نے ابراہیم بن یزید کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
ابن عمر رضی الله عنہما کی اس حدیث کو ہم نہیں جانتے سوائے ابراہیم بن یزید خوزی مکی کی روایت سے ، اور بعض محدثین نے ابراہیم بن یزید کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ هُوَ مَدَنِيٌ ثِقَةٌ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ سورة آل عمران آية 61 ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا ، وَفَاطِمَةَ ، وَحَسَنًا ، وَحُسَيْنًا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب آیت «تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم» ۱؎ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ، فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا پھر فرمایا : ” یا اللہ ! یہ لوگ میرے اہل ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” آؤ ہم تم اپنے اپنے لڑکوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کو اور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں “ (آل عمرآن: ۶۱)۔ یہ آیت نجران کے عیسائیوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی، معاملے میں دونوں فریقوں کو اپنے اپنے خاص اہل خانہ کو ساتھ لے کر قسم کھانی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے کا جھوٹ سچے کی زندگی میں ظاہر کر دے۔
حدیث نمبر: 3000
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ، وَحَمَّادُ ابْنُ سلمة، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ : " رَأَى أَبُو أُمَامَةَ رُءُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ : كِلَابُ النَّارِ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ ثُمَّ قَرَأَ : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ سورة آل عمران آية 106 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا حَتَّى عَدَّ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَأَبُو غَالِبٍ يُقَالُ اسْمُهُ حَزَوَّرٌ ، وَأَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ اسْمُهُ صُدَيُّ بْنُ عَجْلَانَ وَهُوَ سَيِّدُ بَاهِلَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوغالب کہتے ہیں کہ` ابوامامہ رضی الله عنہ نے دمشق کی مسجد کی سیڑھیوں پر ( حروراء کے مقتول خوارج کے ) سر لٹکتے ہوئے دیکھے ، تو کہا : یہ جہنم کے کتے ہیں ، آسمان کے سایہ تلے بدترین مقتول ہیں جب کہ بہترین مقتول وہ ہیں جنہیں انہوں نے قتل کیا ہے ، پھر انہوں نے یہ آیت «يوم تبيض وجوه وتسود وجوه» ۱؎ پڑھی میں نے ابوامامہ رضی الله عنہ سے کہا : کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ کہا : میں نے اسے اگر ایک بار یا دو بار یا تین بار یا چار بار یہاں تک انہوں نے سات بار گنا ، نہ سنا ہوتا تو تم لوگوں سے میں اسے نہ بیان کرتا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- ابوغالب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام حزور ہے ۔
۳- اور ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کا نام صدی بن عجلان ہے ، وہ قبیلہ باہلہ کے سردار تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- ابوغالب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا نام حزور ہے ۔
۳- اور ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کا نام صدی بن عجلان ہے ، وہ قبیلہ باہلہ کے سردار تھے ۔
حدیث نمبر: 3001
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110 ، قَالَ : " إِنَّكُمْ تَتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ " هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ نَحْوَ هَذَا ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ سورة آل عمران آية 110 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے قول «كنتم خير أمة أخرجت للناس» ۱؎ کی تفسیر کرتے ہوئے سنا : ” تم ستر امتوں کا تتمہ ( و تکملہ ) ہو ، تم اللہ کے نزدیک ان سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باعزت ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- متعدد لوگوں نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے ، لیکن ان راویوں نے اس میں آیت «كنتم خير أمة أخرجت للناس» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- متعدد لوگوں نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے ، لیکن ان راویوں نے اس میں آیت «كنتم خير أمة أخرجت للناس» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے “ (آل عمران: ۱۱۰)۔
حدیث نمبر: 3002
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَشُجَّ وَجْهُهُ شَجَّةً فِي جَبْهَتِهِ حَتَّى سَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ، فَنَزَلَتْ :لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ سورة آل عمران آية 128 إِلَى آخِرِهَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جنگ احد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے چاروں دانت ( رباعیہ ) توڑ دیئے گئے ، اور پیشانی زخمی کر دی گئی ، یہاں تک کہ خون آپ کے مبارک چہرے پر بہ پڑا ۔ آپ نے فرمایا : ” بھلا وہ قوم کیوں کر کامیاب ہو گی جو اپنے نبی کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرے ، جب کہ حال یہ ہو کہ وہ نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو ۔ تو یہ آیت «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» ۱؎ نازل ہوئی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” اے نبی! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں “ (آل عمران: ۱۲۸)۔
حدیث نمبر: 3003
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " شُجَّ فِي وَجْهِهِ ، وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ ، وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفِهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ ، وَيَقُولُ : كَيْفَ تُفْلِحُ أُمَّةٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 " ، سَمِعْتُ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ ، يَقُولُ : غَلِطَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ فِي هَذَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے خون بہایا گیا ، آپ کے دانت توڑ دیئے گئے ، آپ کے کندھے پر پتھر مارا گیا ، جس سے آپ کے چہرے پر خون بہنے لگا ، آپ اسے پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے : ” وہ امت کیسے فلاح یاب ہو گی جس کا نبی انہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ اس کے ساتھ ایسا ( برا ) سلوک کر رہے ہوں “ ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت : «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» نازل فرمائی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ یزید بن ہارون اس معاملے میں غلطی کر گئے ہیں ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- میں نے عبد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ یزید بن ہارون اس معاملے میں غلطی کر گئے ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی انہوں نے اس حدیث کی روایت کرنے میں «ورمى رمية على كتفه» کی بابت غلطی کی ہے۔
حدیث نمبر: 3004
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ بْنِ سَلْمٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ : " اللَّهُمَّ الْعَنْ أَبَا سُفْيَانَ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ الْعَنْ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ ، قَالَ : فَنَزَلَتْ : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ سورة آل عمران آية 128 فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَأَسْلَمُوا فَحَسُنَ إِسْلَامُهُمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، لَمْ يَعْرِفْهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، وَعَرَفَهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن فرمایا : ” اے اللہ ! لعنت نازل فرما ابوسفیان پر ، اے اللہ ! لعنت نازل فرما حارث بن ہشام پر ، اے اللہ ! لعنت نازل فرما صفوان بن امیہ پر “ ، تو آپ پر یہ آیت «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم» نازل ہوئی ۔ تو اللہ نے انہیں توبہ کی توفیق دی ، انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلام بہترین اسلام ثابت ہوا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- یہ روایت «عمر بن حمزة عن سالم عن أبيه» کے طریق سے غریب ہے ،
۳- زہری نے بھی اسے سالم سے اور انہوں نے بھی اپنے باپ سے روایت کیا ہے ،
۴- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو عمر بن حمزہ کی روایت سے نہیں جانا بلکہ زہری کی روایت سے جانا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- یہ روایت «عمر بن حمزة عن سالم عن أبيه» کے طریق سے غریب ہے ،
۳- زہری نے بھی اسے سالم سے اور انہوں نے بھی اپنے باپ سے روایت کیا ہے ،
۴- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو عمر بن حمزہ کی روایت سے نہیں جانا بلکہ زہری کی روایت سے جانا ہے ۔
حدیث نمبر: 3005
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يَدْعُو عَلَى أَرْبَعَةِ نَفَرٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ سورة آل عمران آية 128 فَهَدَاهُمُ اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ يُسْتَغْرَبُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار افراد کے لیے بدعا فرماتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آیت : «ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» نازل فرمائی ۔ پھر اللہ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی ہدایت و توفیق بخش دی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ یعنی : اس سند سے بطریق «نافع عن ابن عمر»
۲- اس حدیث کو یحییٰ بن ایوب نے بھی ابن عجلان سے روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ یعنی : اس سند سے بطریق «نافع عن ابن عمر»
۲- اس حدیث کو یحییٰ بن ایوب نے بھی ابن عجلان سے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3006
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَال : سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ : إِنِّي كُنْتُ رَجُلًا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي ، وَإِذَا حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ ، فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ ، وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ، ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا سورة آل عمران آية 135 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَرَفَعُوهُ وَرَوَاهُ مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَلَمْ يَرْفَعَاهُ ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ ، عَنْ مِسْعَرٍ فَأَوْقَفَهُ وَرَفَعَهُ بَعْضُهُمْ ، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَأَوْقَفَهُ ، وَلَا نَعْرِفُ لِأَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ حَدِيثًا إِلَّا هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ` میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا : جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنی تو اللہ نے مجھے جتنا فائدہ پہنچانا چاہا پہنچایا ، اور جب مجھ سے آپ کا کوئی صحابی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا پھر جب وہ میرے کہنے سے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا ۔ اور بیشک مجھ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے حدیث بیان کی اور بالکل سچ بیان کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ” جو کوئی بھی شخص کوئی گناہ کرتا ہے پھر وہ کھڑا ہوتا ہے پھر پاکی حاصل کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے ، اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے “ ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله» ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کو شعبہ اور دیگر کئی لوگوں نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت کیا ہے جب کہ مسعر اور سفیان نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا ۔ اور بعض لوگوں نے اسے مسعر سے موقوفاً روایت کیا ہے ۔ اور بعض لوگوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔ اور سفیان ثوری نے عثمان بن مغیرہ سے موقوفاً روایت کیا ہے ،
۲- اسماء بن حکم سے اس روایت کے سوا کوئی دوسری روایت ہم نہیں جانتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کو شعبہ اور دیگر کئی لوگوں نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت کیا ہے جب کہ مسعر اور سفیان نے عثمان بن مغیرہ سے روایت کیا ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا ۔ اور بعض لوگوں نے اسے مسعر سے موقوفاً روایت کیا ہے ۔ اور بعض لوگوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔ اور سفیان ثوری نے عثمان بن مغیرہ سے موقوفاً روایت کیا ہے ،
۲- اسماء بن حکم سے اس روایت کے سوا کوئی دوسری روایت ہم نہیں جانتے ۔
وضاحت:
۱؎: ” جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے ہیں “ (آل عمران: ۱۳۵)۔
حدیث نمبر: 3007
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ : " رَفَعْتُ رَأْسِي يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ ، وَمَا مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا يَمِيدُ تَحْتَ حَجَفَتِهِ مِنَ النُّعَاسِ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا سورة آل عمران آية 154 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` احد کی لڑائی کے دن میں اپنا سر بلند کر کے ( ادھر ادھر ) دیکھنے لگا ، اس دن کوئی ایسا نہ تھا جس کا سر نیند سے ( بوجھل ) اپنے سینے کے نیچے جھکا نہ جا رہا ہو ، اللہ تعالیٰ کے قول «ثم أنزل عليكم من بعد الغم أمنة نعاسا» ۱؎ کا مفہوم و مراد یہی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر امن نازل فرمایا اور تم میں ایک جماعت کو چین کی نیند آنے لگی “ (آل عمران: ۱۵۴)۔
حدیث نمبر: 3007M
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبَادَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبد بن حمید نے` زبیر رضی الله عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 3008
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، قَالَ : " غُشِينَا وَنَحْنُ فِي مَصَافِّنَا يَوْمَ أُحُدٍ ، حَدَّثَ أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ غَشِيَهُ النُّعَاسُ يَوْمَئِذٍ ، قَالَ : فَجَعَلَ سَيْفِي يَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ ، وَيَسْقُطُ مِنْ يَدِي وَآخُذُهُ ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى الْمُنَاقِدُونَ لَيْسَ لَهُمْ هَمٌّ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ ، أَجْبَنُ قَوْمٍ وَأَرْعَبُهُ وَأَخْذَلُهُ لِلْحَقِّ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ابوطلحہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ ہم جنگ احد میں اپنی صف ( پوزیشن ) میں تھے اور ہم پر غنودگی طاری ہو گئی ۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اس دن غنودگی ( نیند ) نے آ گھیرا تھا ، حالت یہ ہو گئی تھی کہ تلوار میرے ہاتھ سے چھوٹی جا رہی تھی ، میں اسے پکڑ رہا تھا اور میرے ہاتھ سے گری جا رہی تھی ، میں اسے سنبھال رہا تھا ۔ دوسرا گروہ منافقوں کا تھا جنہیں صرف اپنی جانوں کی حفاظت کی فکر تھی ، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ بزدل ، سب سے زیادہ مرعوب ہو جانے والے ( ڈرپوک ) اور حق کا سب سے زیادہ ساتھ چھوڑنے والے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 3009
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، حَدَّثَنَا مِقْسَمٌ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 فِي قَطِيفَةٍ حَمْرَاءَ افْتُقِدَتْ يَوْمَ بَدْرٍ ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ سورة آل عمران آية 161 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ نَحْوَ هَذَا ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما ارشاد باری «ما كان لنبي أن يغل» کے بارے میں کہتے ہیں : جنگ بدر کے دن ( مال غنیمت میں آئی ہوئی ) ایک سرخ رنگ کی چادر کھو گئی ، بعض لوگوں نے کہا : شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی ہو تو آیت : «ما كان لنبي أن يغل» ۱؎ نازل ہوئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- عبدالسلام بن حرب نے خصیف سے اسی جیسی روایت کی ہے ،
۳- اور بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «خصيف عن مقسم» روایت کی ہے ، لیکن ان لوگوں نے اس روایت میں ابن عباس رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- عبدالسلام بن حرب نے خصیف سے اسی جیسی روایت کی ہے ،
۳- اور بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «خصيف عن مقسم» روایت کی ہے ، لیکن ان لوگوں نے اس روایت میں ابن عباس رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” ناممکن ہے کہ نبی سے خیانت ہو جائے، ہر خیانت کرنے والا خیانت کو لیے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہو گا، پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور وہ ظلم نہ کئے جائیں گے “ (آل عمران: ۱۶۱)۔
حدیث نمبر: 3010
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَال : سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، قَال : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ : لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " يَا جَابِرُ ، مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا ؟ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتُشْهِدَ أَبِي ، قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا ، قَالَ : أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ، وَأَحْيَا أَبَاكَ فَكَلَّمَهُ كِفَاحًا ، فَقَالَ : يَا عَبْدِي ، تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، تُحْيِينِي فَأُقْتَلَ فِيكَ ثَانِيَةً ، قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّهُ قَدْ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ ، قَالَ : وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا سورة آل عمران آية 169 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، هَكَذَا عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ شَيْئًا مِنْ هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے اور فرمایا : ” جابر ! کیا بات ہے میں تجھے شکستہ دل دیکھ رہا ہوں ؟ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے والد شہید کر دیئے گئے ، جنگ احد میں ان کے قتل کا سانحہ پیش آیا ، اور وہ بال بچے اور قرض چھوڑ گئے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ سے ملاقات کے وقت کہا ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی سے بغیر پردہ کے کلام نہیں کیا ( لیکن ) اس نے تمہارے باپ کو زندہ کیا ، پھر ان سے ( بغیر پردہ کے ) آمنے سامنے بات کی ، کہا : اے میرے بندے ! مجھ سے کسی چیز کے حاصل کرنے کی تمنا و آرزو کر ، میں تجھے دوں گا ، انہوں نے کہا : رب ! مجھے دوبارہ زندہ فرما ، تاکہ میں تیری راہ میں دوبارہ شہید کیا جاؤں ، رب عزوجل نے فرمایا : میری طرف سے یہ فیصلہ پہلے ہو چکا ہے «أنهم إليها لا يرجعون» کہ لوگ دنیا میں دوبارہ نہ بھیجے جائیں گے “ ، راوی کہتے ہیں : آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ۱؎ اسی سلسلہ میں نازل ہوئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ،
۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل نے اس حدیث کا کچھ حصہ جابر سے روایت کیا ہے ،
۳- اور اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں ،
۴- اسے علی بن عبداللہ بن مدینی اور کئی بڑے محدثین نے موسیٰ بن ابراہیم کے واسطہ سے ایسے ہی روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ،
۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل نے اس حدیث کا کچھ حصہ جابر سے روایت کیا ہے ،
۳- اور اس حدیث کو ہم صرف موسیٰ بن ابراہیم کی روایت سے جانتے ہیں ،
۴- اسے علی بن عبداللہ بن مدینی اور کئی بڑے محدثین نے موسیٰ بن ابراہیم کے واسطہ سے ایسے ہی روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے تم ان کو مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، روزی پاتے ہیں۔ “ (آل عمران: ۱۶۹)
حدیث نمبر: 3011
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ : " وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169 ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَأُخْبِرْنَا ، أَنَّ أَرْوَاحَهُمْ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ ، فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً ، فَقَالَ : هَلْ تَسْتَزِيدُونَ شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ ؟ قَالُوا : رَبَّنَا وَمَا نَسْتَزِيدُ وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ حَيْثُ شِئْنَا ، ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ : هَلْ تَسْتَزِيدُونَ شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ ؟ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَمْ يُتْرَكُوا قَالُوا : تُعِيدُ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَنُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ان سے آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کی تفسیر پوچھی گئی تو انہوں نے کہا : لوگو ! سن لو ، ہم نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) اس کی تفسیر پوچھی تھی تو ہمیں بتایا گیا کہ شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں ہیں ، جنت میں جہاں چاہتی گھومتی پھرتی ہیں اور شام میں عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں ۔ ایک بار تمہارے رب نے انہیں جھانک کر ایک نظر دیکھا اور پوچھا : ” تمہیں کوئی چیز مزید چاہیئے تو میں عطا کروں ؟ “ انہوں نے کہا : رب ! ہمیں مزید کچھ نہیں چاہیئے ۔ ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں گھومتی ہیں ۔ پھر ( ایک دن ) دوبارہ اللہ نے ان کی طرف جھانکا اور فرمایا : ” کیا تمہیں مزید کچھ چاہیئے تو میں عطا کر دوں ؟ “ جب انہوں نے دیکھا کہ ( اللہ دینے پر ہی تلا ہوا ہے ، بغیر مانگے اور لیے ) چھٹکارا نہیں ہے تو انہوں نے کہا : ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں دوبارہ لوٹا دے ، تاکہ ہم دنیا میں واپس چلے جائیں ۔ پھر تیری راہ میں دوبارہ قتل کئے جائیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 3011M
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِثْلَهُ ، وَزَادَ فِيهِ " وَتُقْرِئُ نَبِيَّنَا السَّلَامَ وَتُخْبِرُهُ عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرُضِيَ عَنَّا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے` ابن ابی عمر نے ابن مسعود سے اسی طرح روایت کی ، مگر اس میں اتنا اضافہ کیا کہ ” ہمارا سلام ہمارے نبی سے کہہ دیں اور یہ بھی بتا دیں کہ ہم ( اپنے رب سے ) راضی و خوش ہیں اور وہ ہم سے راضی و خوش ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔ ( یعنی : اوپر والی سند سے ، کیونکہ دوسری سند میں انقطاع ہے ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔ ( یعنی : اوپر والی سند سے ، کیونکہ دوسری سند میں انقطاع ہے ) ۔
حدیث نمبر: 3012
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي عُنُقِهِ شُجَاعًا ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180 الْآيَةَ ، وَقَالَ مَرَّةً : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180 ، وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بِيَمِينٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ شُجَاعهًا أَقْرَعَ يَعْنِي حَيَّةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی گردن میں ایک سانپ ڈال دے گا “ ، پھر آپ نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» ۱؎ پڑھی راوی نے ایک مرتبہ یہ کہا کہ آپ نے اس کی مناسبت سے یہ آیت «سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ۲؎ تلاوت فرمائی ، اور فرمایا : ” جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا مال جھوٹی قسم کھا کر لے لے وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے برہم ( اور سخت غصے میں ) ہو گا “ ، پھر آپ نے اس کی مصداق آیت : «إن الذين يشترون بعهد الله» پڑھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لیے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لیے نہایت بدتر ہے “ (آل عمران: ۱۸۰)۔
۲؎: ” عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے “ (آل عمران: ۱۸۰)۔
۲؎: ” عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے “ (آل عمران: ۱۸۰)۔
حدیث نمبر: 3013
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مَوْضِعَ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ سورة آل عمران آية 185 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت میں ایک کوڑے برابر جگہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے ، اس کو سمجھنے کے لیے چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا بیشک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے “ (آل عمران: ۱۸۵)۔
حدیث نمبر: 3014
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، قَالَ : اذْهَبْ يَا رَافِعُ لِبَوَّابِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ لَهُ : لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّبًا لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا لَكُمْ وَلِهَذِهِ الْآيَةِ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلا تَكْتُمُونَهُ سورة آل عمران آية 187 وَتَلَا لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا سورة آل عمران آية 188 ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَخَرَجُوا وَقَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا قَدْ سَأَلَهُمْ عَنْهُ فَاسْتُحْمِدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ وَفَرِحُوا بِمَا أُوتُوا مِنْ كِتْمَانِهِمْ وَمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ` حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے انہیں بتایا کہ مروان بن حکم نے اپنے دربان ابورافع سے کہا : ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے کہو ، اگر اپنے کیے پر خوش ہونے والا اور بن کیے پر تعریف چاہنے والا ہر شخص سزا کا مستحق ہو جائے ، تب تو ہم سب ہی مستحق سزا بن جائیں گے ، ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا : تمہیں اس آیت سے کیا مطلب ؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، پھر ابن عباس رضی الله عنہما نے یہ آیت «وإذ أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتاب لتبيننه للناس ولا تكتمونه» ۱؎ پڑھی اور «لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا» ۲؎ کی تلاوت کی ۔ اور کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( یہود ) سے کسی چیز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے وہ چیز چھپا لی ، اور اس سے ہٹ کر کوئی اور چیز بتا دی اور چلے گئے ، پھر آپ پر یہ ظاہر کیا کہ آپ نے ان سے جو کچھ پوچھا تھا اس کے متعلق انہوں نے بتا دیا ہے ، اور آپ سے اس کی تعریف سننی چاہی ، اور انہوں نے اپنی کتاب سے چھپا کر آپ کو جو جواب دیا اور آپ نے انہیں جو مخاطب کر لیا اس پر خوش ہوئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” اور اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے جب عہد لیا کہ تم اسے سب لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں “ (آل عمران: ۱۸۷)۔
۲؎: ” وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا، اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں “ (آل عمران: ۱۸۸)۔
۲؎: ” وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا، اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں “ (آل عمران: ۱۸۸)۔