حدیث نمبر: 2955
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ومحمد بن جعفر، وعبد الوهاب، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ ، فَجَاءَ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ ، وَبَيْنَ ذَلِكَ ، وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کے ہر حصے سے ایک مٹھی مٹی لے کر اس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، چنانچہ ان کی اولاد میں مٹی کی مناسبت سے کوئی لال ، کوئی سفید ، کالا اور ان کے درمیان مختلف رنگوں کے اور نرم مزاج و گرم مزاج ، بد باطن و پاک طینت لوگ پیدا ہوئے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث سورۃ البقرہ کی آیت: «إني جاعل في الأرض خليفة» (البقرة: 30) کی تفسیر میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (100) ، الصحيحة (1630)
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ السنة 17 (4693) ( تحفة الأشراف : 9025) ، و مسند احمد (4/400، 406) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2956
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : " ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا سورة النساء آية 154 ، قَالَ : دَخَلُوا مُتَزَحِّفِينَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ " ، أَيْ مُنْحَرِفِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ : «ادخلوا الباب سجدا» ” اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا “ ( البقرہ : ۵۸ ) کے بارے میں فرمایا : ” بنی اسرائیل چوتڑ کے بل کھسکتے ہوئے داخل ہوئے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2956
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 28 (3403) ، وتفسیر البقرة 5 (4479) ، وسورة الأعراف 4 (4641) ، صحیح مسلم/التفسیر ح 1 (3015) ( تحفة الأشراف : 14697) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2956M
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ سورة البقرة آية 59 ، قَالَ : قَالُوا : حَبَّةٌ فِي شَعْرَةٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اور اسی سند کے ساتھ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( آیت ) «فبدل الذين ظلموا قولا غير الذي قيل لهم» ” پھر ان ظالموں نے اس بات کو جوان سے کہی گئی تھی بدل ڈالی “ ۔ ( البقرہ : ۵۹ ) کے بارے میں یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” بنی اسرائیل نے «حبة في شعرة» ۱؎ کہا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی بنی اسرائیل نے «حطۃ» (ہمارے گناہ معاف فرما دے) کہنے کے بجائے «حبۃ فی شعرۃ» (یعنی بالی میں گندم) کہا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2956M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 2957
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ السَّمَّانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرِهِ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ ، فَلَمْ نَدْرِ أَيْنَ الْقِبْلَةُ فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِيَالِهِ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ : فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ السَّمَّانِ أَبِي الرَّبِيعِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأَشْعَثُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم ایک انتہائی اندھیری رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ، کوئی نہ جان سکا کہ قبلہ کدھر ہے ۔ چنانچہ جو جس رخ پر تھا اس نے اسی رخ پر نماز پڑھ لی ، جب صبح ہوئی تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو ( اس وقت ) یہ آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» ” تم جدھر بھی منہ کروا ادھر اللہ کا منہ ہے “ ( البقرہ : ۱۱۵ ) نازل ہوئی ۔
وضاحت:
۱؎: لیکن بہرحال یہ اضطراری حالت کے لیے ہے، عام حالات اور معلوم ہو جانے کی صورت میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنا نماز کی شرط ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2957
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (1020) , شیخ زبیر علی زئی: (2957) ضعيف/ جه 1020، تقدم:345, عاصم بن عبيد الله: ضعيف (تقدم: 345) وللحديث شاهد ضعيف عند البيهقي (11/2)
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/الإقامة 60 (1020) ( تحفة الأشراف : 5035) (حسن)»
حدیث نمبر: 2958
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَال : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا أَيْنَمَا تَوَجَّهَتْ بِهِ ، وَهُوَ جَاءٍ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ عُمَرَ هَذِهِ الْآيَةَ وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ سورة البقرة آية 115 ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَفِي هَذَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ آتے ہوئے نفل نماز اپنی اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے پڑھ رہے تھے ۔ اونٹنی جدھر بھی چاہتی منہ پھیرتی ۱؎ ، ابن عمر نے پھر یہ آیت «ولله المشرق والمغرب» ” اللہ ہی کے لیے مغرب و مشرق ہیں “ ( البقرہ : ۱۱۵ ) پڑھی ۔ ابن عمر کہتے ہیں : یہ آیت اسی تعلق سے نازل ہوئی ہے ۳؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- قتادہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں : آیت : «ولله المشرق والمغرب فأينما تولوا فثم وجه الله» ( البقرة : ۱۱۵ ) منسوخ ہے ، اور اسے منسوخ کرنے والی آیت «فول وجهك شطر المسجد الحرام» ” آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں “ ( البقرہ : ۱۴۴ ) ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- قتادہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں : آیت : «ولله المشرق والمغرب فأينما تولوا فثم وجه الله» ( البقرة : ۱۱۵ ) منسوخ ہے ، اور اسے منسوخ کرنے والی آیت «فول وجهك شطر المسجد الحرام» ” آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں “ ( البقرہ : ۱۴۴ ) ہے ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ مسافر اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھ سکتا ہے، اس سواری کا رخ کسی بھی سمت ہو، شرط یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے وقت قبلہ رخ ہونا ضروری ہے اس کے بعد جہت قبلہ سے ہٹ جانے میں کوئی حرج نہیں۔
۲؎: عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک آیت کے سبب نزول کے سلسلے میں کئی واقعات منقول ہوتے ہیں، دراصل ان سب پروہ آیت صادق آتی ہے، یا متعدد واقعات پر وہ آیت دوبارہ نازل ہوتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔
۲؎: عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک آیت کے سبب نزول کے سلسلے میں کئی واقعات منقول ہوتے ہیں، دراصل ان سب پروہ آیت صادق آتی ہے، یا متعدد واقعات پر وہ آیت دوبارہ نازل ہوتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2958
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صفة الصلاة , شیخ زبیر علی زئی: (2958) إسناده ضعيف, قول قتاده : ”هي منسوخة“ سنده ضعيف ، سعيد بن أبى عروبة عنعن وهو مدلس (تقدم: 30)
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المسافرین 4 (700) ، سنن النسائی/الصلاة 23 (492) ، تحفة الأشراف : 7057) ، و مسند احمد (2/20، 41) ، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الوتر 6 (1000) وتقصیر الصلاة 9 (1098) ، 12 (1105) ، و سنن ابی داود/ الصلاہ 277 (1224) ، وسنن النسائی/الصلاة 23 (491) ، والقبلة 1 (745) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2958M
وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 قَالَ قَتَادَةُ : هِيَ مَنْسُوخَةٌ نَسَخَهَا قَوْلُهُ : فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144 " أَيْ تِلْقَاءَهُ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بیان کیا اسے مجھ سے` محمد بن عبدالملک بن ابی الشوارب نے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا یزید بن زریع نے اور یزید بن زریع نے سعید کے واسطہ سے قتادہ سے روایت کی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2958M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صفة الصلاة
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 19276) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2958M
وَيُرْوَى عَنْ مُجَاهِدٍ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 ، قَالَ : فَثَمَّ قِبْلَةُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ بِهَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مجاہد سے اس آیت : «فأينما تولوا فثم وجه الله» سے متعلق مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : جدھر منہ کرو ادھر قبلہ ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2958M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صفة الصلاة
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ صَلَّيْنَا خَلْفَ الْمَقَامِ ، فَنَزَلَتْ " وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! کاش ہم مقام ( مقام ابراہیم ) کے پیچھے نماز پڑھتے ، تو آیت : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ” تم مقام ابراہیم کو جائے صلاۃ مقرر کر لو “ ( البقرہ : ۱۲۵ ) نازل ہوئی ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اور یہ حکم طواف کے بعد کی دو رکعتوں کے سلسلے میں ہے، لیکن طواف میں اگر بھیڑ بہت زیادہ ہو تو حرم میں جہاں بھی جگہ ملے یہ دو رکعتیں پڑھی جا سکتی ہیں، کوئی حرج نہیں ہے۔
۲؎: مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔
۲؎: مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2959
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الصلاة 32 (402) ، وتفسیر البقرة 9 (4483) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة 56 (1009) ( تحفة الأشراف : 10409) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2960
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوِ اتَّخَذْتَ مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ، فَنَزَلَتْ " وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اگر آپ مقام ابراہیم کو مصلی ( نماز پڑھنے کی جگہ ) بنا لیتے ( تو کیا ہی اچھی بات ہوتی ) تو آیت «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» نازل ہوئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2960
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 2961
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : " وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا سورة البقرة آية 143 ، قَالَ : عَدْلًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : «وكذلك جعلناكم أمة وسطا» ” ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے “ ( البقرہ : ۱۴۳ ) کے سلسلے میں فرمایا : ” «وسط» سے مراد عدل ہے “ ( یعنی انصاف پسند ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2961
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 3 (3339) ، وتفسیر سورة البقرة 13 (4487) ، والاعتصام 19 (7349) ، سنن ابن ماجہ/الزہد 34 (4284) ( تحفة الأشراف : 4003) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2961M
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُدْعَى نُوحٌ فَيُقَالُ : هَلْ بَلَّغْتَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُدْعَى قَوْمُهُ ، فَيُقَالُ : هَلْ بَلَّغَكُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ ، وَمَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ ، فَيُقَالُ : مَنْ شُهُودُكَ ؟ فَيَقُولُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ، قَالَ : فَيُؤْتَى بِكُمْ تَشْهَدُونَ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا سورة البقرة آية 143 وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے اس سند سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( قیامت کے دن ) نوح علیہ السلام طلب کئے جائیں گے ، پھر ان سے پوچھا جائے گا : کیا تم نے ( اپنی امت کو ) پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ کہیں گے : ” جی ہاں “ ، پھر ان کی قوم بلائی جائے گی ، اور اس سے پوچھا جائے گا : کیا انہوں نے تم لوگوں تک ( میرا پیغام ) پہنچا دیا تھا ؟ وہ کہیں گے : ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا آیا ہی نہیں تھا ، اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی اور آیا ، ( نوح علیہ السلام سے ) کہا جائے گا : تمہارے گواہ کون ہیں ؟ وہ کہیں گے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت ، آپ نے فرمایا : ” تو تم گواہی کے لیے پیش کئے جاؤ گے ، تم گواہی دو گے کہ ہاں ، انہوں نے پہنچایا ہے ۔ یہی مفہوم ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قول : «وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا» ” ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہو جائیں “ ( البقرہ : ۱۴۳ ) کا ، «وسط» کا معنی بیچ اور درمیانی ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2961M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 2961M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اسی طرح روایت کی ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2961M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 2962
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ " صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 144 فَوَجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ ، وَكَانَ يُحِبُّ ذَلِكَ ، فَصَلَّى رَجُلٌ مَعَهُ الْعَصْرَ ، قَالَ : ثُمَّ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَقَالَ : هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّهُ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، قَالَ : فَانْحَرَفُوا وَهُمْ رُكُوعٌ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے تو سولہ یا سترہ مہینے تک آپ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے ، حالانکہ آپ کی خواہش یہی تھی کہ قبلہ کعبہ کی طرف کر دیا جائے ، تو اللہ نے آپ کی اس خواہش کے مطابق «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام» ” ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں ، آپ اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیں “ ( البقرہ : ۱۴۴ ) ، پھر آپ کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے ، اور آپ یہی چاہتے ہی تھے ۔ ایک آدمی نے آپ کے ساتھ نماز عصر پڑھی ، پھر وہ کچھ انصاری لوگوں کے پاس سے گزرا وہ لوگ بیت المقدس کی طرف رخ کئے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ۔ اور رکوع کی حالت میں تھے ، اس شخص نے ( اعلان کرتے ہوئے ) کہا کہ وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ پھیر کر نماز پڑھنے کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ یہ سن کر لوگ حالت رکوع ہی میں ( کعبہ کی طرف ) پھر گئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اسے سفیان ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اسے سفیان ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2962
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح أصل صفة الصلاة
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم 340 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : " كَانُوا رُكُوعًا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَعُمَارَةَ بْنِ أَوْسٍ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` لوگ فجر کی نماز ۱؎ میں حالت رکوع میں تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمرو بن عوف مزنی ، ابن عمر ، عمارہ بن اوس اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں عمرو بن عوف مزنی ، ابن عمر ، عمارہ بن اوس اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یہ مسجد قباء کا واقعہ ہے صحیح بخاری میں اس کی صراحت آئی ہے، وہاں تحویل قبلہ کی خبر فجر میں ملی تھی، اور پچھلی حدیث میں جو واقعہ ہے وہ بنو حارثہ کی مسجد کا واقعہ ہے۔ جسے مسجد قبلتین کہا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2963
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح أصل صفة الصلاة، الإرواء (290)
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم 341 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2964
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " لَمَّا وُجِّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ بِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے ، اور وہ گزر گئے تو ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ” اللہ تعالیٰ تمہارا ایمان ضائع نہ کرے گا “ ( البقرہ : ۱۴۳ ) ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی گئی نمازوں کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ اس وقت یہی حکم الٰہی تھا، اس آیت میں «ایمان» سے مراد «صلاۃ» ہے نہ کہ بعض بزعم خود مفسر قرآن بننے والے نام نہاد مفسرین کا یہ کہنا کہ یہاں «ایمان» ہی مراد ہے، یہ صحیح حدیث کا صریح انکار ہے، «عفا اللہ عنہ» ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2964
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ السنة 16 (4680) ( تحفة الأشراف : 6108) (صحیح) (سند میں سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن صحیح بخاری کی براء رضی الله عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 2965
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَال : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ : " قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا ، وَمَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَتْ : بِئْسَمَا ، قُلْتَ : يَا ابْنَ أُخْتِي ، طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ ، وَإِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 وَلَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ لَكَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ ، وَقَالَ إِنَّ هَذَا لَعِلْمٌ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، يَقُولُونَ : " إِنَّمَا كَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ ، يَقُولُونَ : إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَقَالَ آخَرُونَ : مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے کہا : میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرے ، اور میں خود اپنے لیے ان کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں پاتا ۔ تو عائشہ نے کہا : اے میرے بھانجے ! تم نے بری بات کہہ دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی کیا ہے ۔ ہاں ایسا زمانہ جاہلیت میں تھا کہ جو لوگ مناۃ ( بت ) کے نام پر جو مشلل ۱؎ میں تھا احرام باندھتے تھے وہ صفا و مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے ، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت : «فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» ۲؎ نازل فرمائی ۔ اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو آیت اس طرح ہوتی «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ( یعنی اس پر صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ) ۔ زہری کہتے ہیں : میں نے اس بات کا ذکر ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے کیا تو انہیں یہ بات بڑی پسند آئی ۔ کہا : یہ ہے علم و دانائی کی بات ۔ اور ( بھئی ) میں نے تو کئی اہل علم کو کہتے سنا ہے کہ جو عرب صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ ہمارا طواف ان دونوں پتھروں کے درمیان جاہلیت کے کاموں میں سے ہے ۔ اور کچھ دوسرے انصاری لوگوں نے کہا : ہمیں تو خانہ کعبہ کے طواف کا حکم ملا ہے نہ کہ صفا و مروہ کے درمیان طواف کا ۔ ( اسی موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے آیت : «إن الصفا والمروة من شعائر الله» نازل فرمائی ۳؎ ۔ ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں : میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت انہیں لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مشلل مدینہ سے کچھ دوری پر ایک مقام کا نام ہے جو قُدید کے پاس ہے۔
۲؎: (صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں) اس لیے بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں بھی کوئی گناہ نہیں (البقرہ: ۱۵۸)۔
۳؎: خلاصہ یہ ہے کہ آیت کے سیاق کا یہ انداز انصار کی ایک غلط فہمی کا ازالہ ہے جو اسلام لانے کے بعد حج و عمرہ میں صفا و مروہ کے درمیان سعی کو معیوب سمجھتے تھے کیونکہ صفا پر ایک بت ” اِساف “ نام کا تھا، اور مروہ پر ” نائلہ “ نام کا، اس پر اللہ نے فرمایا: ارے اب اسلام میں ان دونوں کو توڑ دیا گیا ہے، اب ان کے درمیان سعی کرنے میں شرک کا شائبہ نہیں رہ گیا، بلکہ اب تو یہ سعی فرض ہے، ارشاد نبوی ہے «اسعوا فإن اللہ کتب علیکم السعی» ” (احمد والحاکم بسند حسن) “ (یعنی: سعی کرو، کیونکہ اللہ نے اس کو تم پر فرض کر دیا ہے)۔
۲؎: (صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں) اس لیے بیت اللہ کا حج اور عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں بھی کوئی گناہ نہیں (البقرہ: ۱۵۸)۔
۳؎: خلاصہ یہ ہے کہ آیت کے سیاق کا یہ انداز انصار کی ایک غلط فہمی کا ازالہ ہے جو اسلام لانے کے بعد حج و عمرہ میں صفا و مروہ کے درمیان سعی کو معیوب سمجھتے تھے کیونکہ صفا پر ایک بت ” اِساف “ نام کا تھا، اور مروہ پر ” نائلہ “ نام کا، اس پر اللہ نے فرمایا: ارے اب اسلام میں ان دونوں کو توڑ دیا گیا ہے، اب ان کے درمیان سعی کرنے میں شرک کا شائبہ نہیں رہ گیا، بلکہ اب تو یہ سعی فرض ہے، ارشاد نبوی ہے «اسعوا فإن اللہ کتب علیکم السعی» ” (احمد والحاکم بسند حسن) “ (یعنی: سعی کرو، کیونکہ اللہ نے اس کو تم پر فرض کر دیا ہے)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2965
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2986)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 79 (1643) ، والعمرة 10 (1790) ، وتفسیر البقرة 21 (4495) ، وتفسیر النجم 3 (4861) ، صحیح مسلم/الحج 43 (1277) ، سنن ابی داود/ الحج 56 (1901) ، سنن النسائی/الحج 43 (2986) ( تحفة الأشراف : 16438) ، وط/الحج 42 (129) ، و مسند احمد (6/144، 162، 227) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2966
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ : " سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقَالَ : كَانَا مِنْ شَعَائِرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ أَمْسَكْنَا عَنْهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 قَالَ : هُمَا تَطَوُّعٌ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158 " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عاصم الأحول کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ دونوں جاہلیت کے شعائر میں سے تھے ۱؎ ، پھر جب اسلام آیا تو ہم ان دونوں کے درمیان طواف کرنے سے رک گئے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ( صفا و مروہ شعائر الٰہی میں سے ہیں ) نازل فرمائی ۔ تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے اس کے لیے ان دونوں کے درمیان طواف ( سعی ) کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ان کے درمیان طواف ( سعی ) نفل ہے اور جو کوئی بھلائی کام ثواب کی خاطر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا قدردان اور علم رکھنے والا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی ان علامات اور نشانیوں میں سے ہیں جن کی زمانہ جاہلیت میں پرستش و پوجا ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2966
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الحج 80 (1648) ، وتفسیر البقرة 21 (4496) ، صحیح مسلم/الحج 43 (1278) ( تحفة الأشراف : 929) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2967
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، فَقَرَأَ " وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ ، ثُمَّ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ، ثُمَّ قَالَ : نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ وَقَرَأَ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے اور آپ بیت اللہ کا سات طواف کیا تو میں نے آپ کو یہ آیت پڑھتے سنا : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ” مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو “ ۔ آپ نے مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی ، پھر حجر اسود کے پاس آ کر اسے چوما ، پھر فرمایا : ” ہم ( سعی ) وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ نے ( اس کا ذکر ) شروع کیا ہے ۔ اور آپ نے پڑھا «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2967
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2960)
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم 856 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2968
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ : " كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ صَائِمًا ، فَلَمَّا حَضَرَ الْإِفْطَارُ أَتَى امْرَأَتَهُ ، فَقَالَ : هَلْ عِنْدَكِ طَعَامٌ ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ لَكَ ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ ، وَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ خَيْبَةً لَكَ ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ سورة البقرة آية 187 فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` شروع میں کے صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی آدمی روزہ رکھتا اور افطار کا وقت ہوتا اور افطار کرنے سے پہلے سو جاتا ، تو پھر وہ ساری رات اور سارا دن نہ کھاتا یہاں تک کہ شام ہو جاتی ۔ قیس بن صرمہ انصاری کا واقعہ ہے کہ وہ روزے سے تھے جب افطار کا وقت آیا تو وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ انہوں نے کہا : ہے تو نہیں ، لیکن میں جاتی ہوں اور آپ کے لیے کہیں سے ڈھونڈھ لاتی ہوں ، وہ دن بھر محنت مزدوری کرتے تھے اس لیے ان کی آنکھ لگ گئی ۔ وہ لوٹ کر آئیں تو انہیں سوتا ہوا پایا ، کہا : ہائے رے تمہاری محرومی و بدقسمتی ۔ پھر جب دوپہر ہو گئی تو قیس پر غشی طاری ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی گئی تو اس وقت یہ آیت : «أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» ” روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا “ ( البقرہ : ۱۸۷ ) ، نازل ہوئی ، لوگ اس آیت سے بہت خوش ہوئے ۔ ( اس کے بعد یہ حکم نازل ہو گیا ) «وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ظاہر ہو جائے “ ( البقرہ : ۱۸۷ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2968
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (2004)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الصوم 15 (1915) ، سنن ابی داود/ الصوم 1 (2314) ، سنن النسائی/الصوم 29 (2170) ( تحفة الأشراف : 1801) ، و مسند احمد (4/295) ، وسنن الدارمی/الصیام 7 (1735) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2969
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيِّعٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ : " وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ سورة غافر آية 60 " ، قَالَ : " الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ " ، وَقَرَأَ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ إِلَى قَوْلِهِ : دَاخِرِينَ سورة غافر آية 60 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» ” اور تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا ، یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے “ ( غافر : ۶۰ ) ، کی تفسیر میں فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے ۔ پھر آپ نے سورۃ مومن کی آیت «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» سے «داخرين» ۱؎ تک پڑھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسے منصور نے روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسے منصور نے روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2969
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3828)
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الصلاة 358 (1479) ، سنن ابن ماجہ/الدعاء 1 (3828) ( تحفة الأشراف : 11643) ، و مسند احمد (4/271، 276) ، ویأتي برقم 3247) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَخْبَرَنَا عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187 ، قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا ذَاكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب آیت : «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود من الفجر» نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اس سے مراد رات کی تاریکی سے دن کی سفیدی ( روشنی ) کا نمودار ہو جانا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2970
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (2034)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الصوم 16 (1916) ، وتفسیر البقرة 28 (4509) ، صحیح مسلم/الصوم 8 (1090) ، سنن ابی داود/ الصوم 17 (2349) ( تحفة الأشراف : 9856) ، و مسند احمد (4/377) ، وسنن الدارمی/الصوم 7 (1736) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2970M
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عدی بن حاتم رضی الله عنہ نے اس سند سے بھی` سابقہ حدیث کے ہم مثل حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2970M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (2034)
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 2971
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ ، فَقَالَ : " حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ سورة البقرة آية 187 قَالَ : فَأَخَذْتُ عِقَالَيْنِ ، أَحَدُهُمَا أَبْيَضُ ، وَالْآخَرُ أَسْوَدُ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِمَا ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ سُفْيَانُ ، قَالَ : إِنَّمَا هُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» ” یہاں تک کہ سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے “ تو میں نے دو ڈوریاں لیں ۔ ایک سفید تھی دوسری کالی ، میں انہیں کو دیکھ کر ( سحری کے وقت ہونے یا نہ ہونے کا ) فیصلہ کرنے لگا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کچھ باتیں کہیں ( ابن ابی عمر کہتے ہیں : میرے استاد ) سفیان انہیں یاد نہ رکھ سکے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے مراد رات اور دن ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2971
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (2034)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : 9867) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2972
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ، قَالَ : كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ فَأَخْرَجُوا إِلَيْنَا صَفًّا عَظِيمًا مِنْ الرُّومِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِثْلُهُمْ أَوْ أَكْثَرُ ، وَعَلَى أَهْلِ مِصْرَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ ، وَعَلَى الْجَمَاعَةِ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ ، فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى صَفِّ الرُّومِ حَتَّى دَخَلَ فِيهِمْ ، فَصَاحَ النَّاسُ وَقَالُوا : سُبْحَانَ اللَّهِ يُلْقِي بِيَدَيْهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ ، فَقَامَ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ تَتَأَوَّلُونَ هَذِهِ الْآيَةَ هَذَا التَّأْوِيلَ ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ لَمَّا أَعَزَّ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَكَثُرَ نَاصِرُوهُ ، فَقَالَ : بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا دُونَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَزَّ الْإِسْلَامَ وَكَثُرَ نَاصِرُوهُ فَلَوْ أَقَمْنَا فِي أَمْوَالِنَا فَأَصْلَحْنَا مَا ضَاعَ مِنْهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْنَا مَا قُلْنَا : وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ سورة البقرة آية 195 فَكَانَتِ التَّهْلُكَةُ الْإِقَامَةَ عَلَى الْأَمْوَالِ وَإِصْلَاحِهَا وَتَرْكَنَا الْغَزْوَ فَمَا زَالَ أَبُو أَيُّوبَ شَاخِصًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى دُفِنَ بِأَرْضِ الرُّومِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسلم ابوعمران تجیبی کہتے ہیں کہ` ہم روم شہر میں تھے ، رومیوں کی ایک بڑی جماعت ہم پر حملہ آور ہونے کے لیے نکلی تو مسلمان بھی انہی جیسی بلکہ ان سے بھی زیادہ تعداد میں ان کے مقابلے میں نکلے ، عقبہ بن عامر رضی الله عنہ اہل مصر کے گورنر تھے اور فضالہ بن عبید رضی الله عنہ فوج کے سپہ سالار تھے ۔ ایک مسلمان رومی صف پر حملہ آور ہو گیا اور اتنا زبردست حملہ کیا کہ ان کے اندر گھس گیا ۔ لوگ چیخ پڑے ، کہنے لگے : سبحان اللہ ! اللہ پاک و برتر ہے اس نے تو خود ہی اپنے آپ کو ہلاکت میں جھونک دیا ہے ۔ ( یہ سن کر ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور کہا : لوگو ! تم اس آیت کی یہ تاویل کرتے ہو ، یہ آیت تو ہم انصار کے بارے میں اتری ہے ، جب اللہ نے اسلام کو طاقت بخشی اور اس کے مددگار بڑھ گئے تو ہم میں سے بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپا کر رازداری سے آپس میں کہا کہ ہمارے مال برباد ہو گئے ہیں ( یعنی ہماری کھیتی باڑیاں تباہ ہو گئی ہیں ) اللہ نے اسلام کو قوت و طاقت بخش دی ۔ اس کے ( حمایتی ) و مددگار بڑھ گئے ، اب اگر ہم اپنے کاروبار اور کھیتی باڑی کی طرف متوجہ ہو جاتے تو جو نقصان ہو گیا ہے اس کمی کو پورا کر لیتے ، چنانچہ ہم میں سے جن لوگوں نے یہ بات کہی تھی اس کے رد میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل فرمائی ۔ اللہ نے فرمایا : «وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» ” اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو “ ( البقرہ : ۱۹۵ ) ، تو ہلاکت یہ تھی کہ مالی حالت کو سدھار نے کی جدوجہد میں لگا جائے ، اور جہاد کو چھوڑ دیا جائے ( یہی وجہ تھی کہ ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کی ایک علامت و ہدف کی حیثیت اختیار کر گئے تھے یہاں تک کہ سر زمین روم میں مدفون ہوئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2972
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (13)
حدیث تخریج «سنن ابی داود/ الجھاد 23 (2512) ( تحفة الأشراف : 3452) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2973
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ : قَالَ كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَفِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِيَّايَ عَنَى بِهَا فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ، وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي ، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَأَنَّ هَوَامَّ رَأْسِكَ تُؤْذِيكَ ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاحْلِقْ ، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ " ، قَالَ مُجَاهِدٌ : الصِّيَامُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، وَالطَّعَامُ لِسِتَّةِ مَسَاكِينَ ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ فَصَاعِدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجاہد کہتے ہیں کہ` کعب بن عجرہ رضی الله عنہ نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ آیت : «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك» ” البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو ( جس کی وجہ سے سر منڈا لے ) تو اس پر فدیہ ہے ، خواہ روزے رکھ لے ، خواہ صدقہ دے ، خواہ قربانی کرے “ ( البقرہ : ۱۹۶ ) ، میرے بارے میں اتری ہم حدیبیہ میں تھے ، احرام باندھے ہوئے تھے ، مشرکوں نے ہمیں روک رکھا تھا ، میرے بال کانوں کے لو کے برابر تھے ، سر کے جوئیں چہرے پر گرنے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہمارے پاس سے ہوا ( ہمیں دیکھ کر ) آپ نے فرمایا : ” لگتا ہے تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ” سر لو مونڈ ڈالو “ ، پھر یہ آیت ( مذکورہ ) اتری ۔ مجاہد کہتے ہیں : روزے تین دن ہیں ، کھانا چھ مسکینوں ۱؎ کو کھلانا ہے ۔ اور قربانی ( کم از کم ) ایک بکری ، اور اس سے زیادہ بھی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ایک دوسری حدیث میں صراحت آ گئی ہے کہ تین صاع چھ مسکین کو کھلائے یعنی فی مسکین آدھا صاع (جو بھی کھانا وہاں کھایا جاتا ہو)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2973
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم 963 ( تحفة الأشراف : 11114، و11116) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2973M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ نے` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سند سے بھی اسی طرح روایت کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2973M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم 953 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2973M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبِهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ نَحْوَ هَذَا أَيْضَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ سے اس سند سے بھی` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت آئی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے بھی عبداللہ بن معقل سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے بھی عبداللہ بن معقل سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2973M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم 953 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2974
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ : " أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى جَبْهَتِي ، أَوْ قَالَ : حَاجِبَيَّ ، فَقَالَ : أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَانْسُكْ نَسِيكَةً ، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ، قَالَ أَيُّوبُ : لَا أَدْرِي بِأَيَّتِهِنَّ بَدَأَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ۔ اس وقت میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میری پیشانی یا بھوؤں پر بکھر رہی تھیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف پہنچا رہی ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ” اپنا سر مونڈ ڈالو اور بدلہ میں قربانی کر دو ، یا تین دن روزہ رکھ لو ، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو “ ۔ ایوب ( راوی ) کہتے ہیں : مجھے یاد نہیں رہا کہ ( میرے استاذ نے ) کون سی چیز پہلے بتائی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2974
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح انظر ما قبله (2973)
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 2975
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ عَرَفَاتٌ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثٌ ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ سورة البقرة آية 203 ، وَمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ " ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ : وَهَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ رَوَاهُ 63 الثَّوْرِيُّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حج عرفات کی حاضری ہے ، حج عرفات کی حاضری ہے ۔ حج عرفات کی حاضری ہے ، منیٰ ( میں قیام ) کے دن تین ہیں ۔ مگر جو جلدی کر کے دو دنوں ہی میں واپس ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور جو تین دن پورے کر کے گیا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۲؎ اور جو طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا ، اس نے حج کو پا لیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ابن ابی عمر کہتے ہیں : سفیان بن عیینہ نے کہا : یہ ثوری کی سب سے عمدہ حدیث ہے ، جسے انہوں نے روایت کی ہے ،
۳- اسے شعبہ نے بھی بکیر بن عطاء سے روایت کیا ہے ،
۴- اس حدیث کو ہم صرف بکیر بن عطاء کی روایت ہی سے جانتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ابن ابی عمر کہتے ہیں : سفیان بن عیینہ نے کہا : یہ ثوری کی سب سے عمدہ حدیث ہے ، جسے انہوں نے روایت کی ہے ،
۳- اسے شعبہ نے بھی بکیر بن عطاء سے روایت کیا ہے ،
۴- اس حدیث کو ہم صرف بکیر بن عطاء کی روایت ہی سے جانتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس میں ارشاد باری تعالیٰ: «واذكروا الله في أيام معدودات فمن تعجل في يومين فلا إثم عليه» کی طرف اشارہ ہے (البقرہ: ۲۰۳)۔
۲؎: یعنی: بارہ ذی الحجہ ہی کو رمی جمار کر کے واپس ہو جائے یا تین دن مکمل قیام کر کے تیرہ ذی الحجہ کو جمرات کی رمی (کنکری مار) کر کے واپس ہو جائے حاجی کو اختیار ہے۔
۲؎: یعنی: بارہ ذی الحجہ ہی کو رمی جمار کر کے واپس ہو جائے یا تین دن مکمل قیام کر کے تیرہ ذی الحجہ کو جمرات کی رمی (کنکری مار) کر کے واپس ہو جائے حاجی کو اختیار ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2975
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ومضى برقم (896)
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم 889 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2976
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ اشارہ ہے ارشاد باری: «ومن الناس من يعجبك قوله في الحياة الدنيا ويشهد الله على ما في قلبه وهو ألد الخصام» (البقرہ: ۲۰۴) کی طرف، یعنی ” لوگوں میں سے بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دنیاوی زندگی میں ان کی بات آپ کو اچھی لگے گی جب کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جو اس کے دل میں ہے گواہ بنا رہا ہوتا ہے، حقیقت میں وہ سخت جھگڑالو ہوتا ہے “۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2976
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
حدیث تخریج «صحیح البخاری/المظالم 15 (2457) ، وتفسیر سورة البقرة 37 (4523) ، والأحکام 34 (7188) ، صحیح مسلم/العلم 2 (2668) ، سنن النسائی/القضاة 34 (5425) ( تحفة الأشراف : 12648) ، و مسند احمد (6/55، 63، 205) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2977
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبُيُوتِ ، " فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222 فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ ، وَأَنْ يَكُونُوا مَعَهُنَّ فِي الْبُيُوتِ ، وَأَنْ يَفْعَلُوا كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا النِّكَاحَ ، فَقَالَتْ الْيَهُودُ : مَا يُرِيدُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ ، قَالَ : فَجَاءَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ بِذَلِكَ وَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ غَضِبَ عَلَيْهِمَا ، فَقَامَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آَثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَعَلِمْنَا أَنَّهُ لَمْ يَغْضَبْ عَلَيْهِمَا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` یہودیوں کے یہاں جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تھی تو وہ اسے اپنے ساتھ نہ کھلاتے تھے نہ پلاتے تھے ۔ اور نہ ہی اسے اپنے ساتھ گھر میں رہنے دیتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت : «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ۱؎ نازل فرمائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ کھلائیں پلائیں اور ان کے ساتھ گھروں میں رہیں ۔ اور ان کے ساتھ جماع کے سوا ( بوس و کنار وغیرہ ) سب کچھ کریں ، یہودیوں نے کہا : یہ شخص ہمارا کوئی کام نہیں چھوڑتا جس میں ہماری مخالفت نہ کرتا ہو ، عباد بن بشیر اور اسید بن حضیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو یہودیوں کی یہ بات بتائی اور کہا : اللہ کے رسول ! کیا ہم ان سے حالت حیض میں جماع ( بھی ) نہ کریں ؟ یہ سن کر آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھ لیا کہ آپ ان دونوں سے سخت ناراض ہو گئے ہیں ۔ وہ اٹھ کر ( اپنے گھر چلے ) ان کے نکلتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں بلانے کے لیے ) ان کے پیچھے آدمی بھیجا ( وہ آ گئے ) تو آپ نے ان دونوں کو دودھ پلایا ، جس سے انہوں نے جانا کہ آپ ان دونوں سے غصہ نہیں ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” لوگ پوچھے ہیں تم سے کہ حیض کیا ہے؟ کہہ دو کہ وہ ایک تکلیف ہے “ (البقرہ: ۲۲۲)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2977
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح آداب الزفاف (44) ، صحيح أبي داود (250)
حدیث تخریج «صحیح مسلم/الحیض 3 (302) ، سنن ابی داود/ الطھارة 103 (258) ، والنکاح 47 (2165) ، سنن النسائی/الطھارة 181 (289) ، والحیض 8 (369) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة 125 (644) ( تحفة الأشراف : 308) ، و مسند احمد (3/246) ، وسنن الدارمی/الطھارة 106 (1093) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2978
حدثنا ابن أبي عمر حدثنا سفيان عن ابن المنكدر سمع جابرا يقول كانت اليهود تقول من أتى امرأته في قبلها من دبرها كان الولد أحول فنزلت (نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم) قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح.
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی الله عنہ سے` اس سند سے بھی اسی کے ہم معنی روایت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2978
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1925)
حدیث تخریج «انظر ماقبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 2978M
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ : " كَانَتْ الْيَهُودُ ، تَقُولُ : مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا مِنْ دُبُرِهَا كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ ، فَنَزَلَتْ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` یہود کہتے تھے کہ جو اپنی بیوی سے پیچھے کی طرف سے آگے کی شرمگاہ میں ( جماع کرے ) تو بھینگا لڑکا پیدا ہو گا ، اس پر آیت : «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» ۱؎ نازل ہوئی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتوں میں جس طرح چاہو آؤ “ (البقرہ: ۲۲۳)، یعنی: چاہے آگے کی طرف سے آگے میں دخول یا پیچھے کی طرف سے آگے میں دخول کرو تمہارے لیے سب طریقے ہیں، بس احتیاط یہ رہے کہ پیچھے میں دخول نہ کرو، ورنہ یہ چیز لعنت الٰہی کا سبب ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2978M
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1925)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/تفسیر البقرة 39 (4528) ، صحیح مسلم/النکاح 19 (1435) ، سنن ابی داود/ النکاح 46 (2163) ، سنن ابن ماجہ/النکاح 29 (1925) ( تحفة الأشراف : 3022) ، وسنن الدارمی/الطھارة 113 (1172) ، والنکاح 2660) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2979
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي قَوْلِهِ : " نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 يَعْنِي صِمَامًا وَاحِدًا " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَابْنُ خُثَيْمٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، وَابْنُ سَابِطٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابِطٍ الْجُمَحِيُّ الْمَكِّيُّ ، وَحَفْصَةُ هِيَ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، وَيُرْوَى " فِي سِمَامٍ وَاحِدٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ : «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» کی تفسیر میں فرمایا : اس سے مراد ایک سوراخ ( یعنی قبل اگلی شرمگاہ ) میں دخول ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2979
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح آداب الزفاف (27 - 28)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 18252) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2980
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْتُ ، قَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " قَالَ : حَوَّلْتُ رَحْلِي اللَّيْلَةَ ، قَالَ : فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحَيْضَةَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيُّ هُوَ يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` عمر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں تو ہلاک ہو گیا ، آپ نے فرمایا : ” کس چیز نے تمہیں ہلاک کر دیا ؟ “ کہا : رات میں نے سواری تبدیل کر دی ( یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کر لی ) ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ سن کر ) انہیں کوئی جواب نہ دیا ، تو آپ پر یہ آیت : «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل ہوئی ، بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو ، مگر دبر سے اور حیض سے بچو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2980
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن الآداب (28 - 29)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : 5469) ، وانظر مسند احمد (1/297) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2981
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْمُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، " أَنَّهُ زَوَّجَ أُخْتَهُ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَتْ عِنْدَهُ مَا كَانَتْ ثُمَّ طَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً لَمْ يُرَاجِعْهَا حَتَّى انْقَضَتِ الْعِدَّةُ ، فَهَوِيَهَا وَهَوِيَتْهُ ثُمَّ خَطَبَهَا مَعَ الْخُطَّابِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا لُكَعُ أَكْرَمْتُكَ بِهَا وَزَوَّجْتُكَهَا فَطَلَّقْتَهَا وَاللَّهِ لَا تَرْجِعُ إِلَيْكَ أَبَدًا آخِرُ مَا عَلَيْكَ ، قَالَ : فَعَلِمَ اللَّهُ حَاجَتَهُ إِلَيْهَا وَحَاجَتَهَا إِلَى بَعْلِهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ إِلَى قَوْلِهِ : وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ سورة البقرة آية 232 ، فَلَمَّا سَمِعَهَا مَعْقِلٌ قَالَ : سَمْعًا لِرَبِّي وَطَاعَةً ، ثُمَّ دَعَاهُ ، فَقَالَ : أُزَوِّجُكَ وَأُكْرِمُكَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْحَسَنِ وَهُوَ عَنْ الْحَسَنِ غَرِيبٌ ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَا يَجُوزُ النِّكَاحُ بِغَيْرِ وَلِيٍّ لِأَنَّ أُخْتَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ كَانَتْ ثَيِّبًا فَلَوْ كَانَ الْأَمْرُ إِلَيْهَا دُونَ وَلِيِّهَا لَزَوَّجَتْ نَفْسَهَا وَلَمْ تَحْتَجْ إِلَى وَلِيِّهَا مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، وَإِنَّمَا خَاطَبَ اللَّهُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ الْأَوْلِيَاءَ ، فَقَالَ : فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ سورة البقرة آية 232 فَفِي هَذِهِ الْآيَةِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ إِلَى الْأَوْلِيَاءِ فِي التَّزْوِيجِ مَعَ رِضَاهُنَّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے نبی اکرم کے زمانے میں اپنی بہن کی شادی ایک مسلمان شخص سے کر دی ۔ وہ اس کے یہاں کچھ عرصے تک رہیں ، پھر اس نے انہیں ایسی طلاق دی کہ اس کے بعد ان سے رجوع نہ کیا یہاں تک کہ عدت کی مدت ختم ہو گئی ۔ پھر دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی خواہش و چاہت پیدا ہوئی اور ( دوسرے ) پیغام نکاح دینے والوں کے ساتھ اس نے بھی پیغام نکاح دیا ۔ معقل رضی الله عنہ نے اس سے کہا : بیوقوف ! میں نے تمہاری شادی اس سے کر کے تیری عزت افزائی کی تھی پھر بھی تو اسے طلاق دے بیٹھا ، قسم اللہ کی ! اب وہ تمہاری طرف زندگی بھر کبھی بھی لوٹ نہیں سکتی ، اور اللہ معلوم تھا کہ اس شخص کو اس عورت کی حاجت و خواہش ہے اور اس عورت کو اس شخص کی حاجت و چاہت ہے ۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت : «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن» سے «وأنتم لا تعلمون» ۱؎ تک نازل فرمائی ۔ جب معقل رضی الله عنہ نے یہ آیت سنی تو کہا : اب اپنے رب کی بات سنتا ہوں اور اطاعت کرتا ہوں ( یہ کہہ کر ) بلایا اور کہا : میں تمہاری شادی ( دوبارہ ) کیے دیتا ہوں اور تجھے عزت بخشتا ہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ کئی سندوں سے حسن بصری سے مروی ہے ۔ حسن بصری کے واسطہ سے یہ غریب ہے ،
۳- اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ بغیر ولی کے نکاح جائز نہیں ہے ۔ اس لیے کہ معقل بن یسار کی بہن ثیبہ تھیں ۔ اگر ولی کی بجائے معاملہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ اپنی شادی آپ کر سکتی تھیں اور وہ اپنے ولی معقل بن یسار کی محتاج نہ ہوتیں ۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء کو خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اپنے ( سابق ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو ۔ تو اس آیت میں اس بات کا ثبوت ہے کہ نکاح کا معاملہ عورتوں کی رضا مندی کے ساتھ اولیاء کے ہاتھ میں ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ کئی سندوں سے حسن بصری سے مروی ہے ۔ حسن بصری کے واسطہ سے یہ غریب ہے ،
۳- اس حدیث میں اس بات کا ثبوت ہے کہ بغیر ولی کے نکاح جائز نہیں ہے ۔ اس لیے کہ معقل بن یسار کی بہن ثیبہ تھیں ۔ اگر ولی کی بجائے معاملہ ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ اپنی شادی آپ کر سکتی تھیں اور وہ اپنے ولی معقل بن یسار کی محتاج نہ ہوتیں ۔ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولیاء کو خطاب کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اپنے ( سابق ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو ۔ تو اس آیت میں اس بات کا ثبوت ہے کہ نکاح کا معاملہ عورتوں کی رضا مندی کے ساتھ اولیاء کے ہاتھ میں ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ” اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو انہیں ان کے سابقہ شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں، یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر یقین و ایمان ہو، یہ حکم تمہارے لیے بہت پاکیزہ اور ستھرا ہے، اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے “ (البقرہ: ۲۳۲)۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2981
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الإرواء (1843) ، صحيح أبي داود (1820)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/تفسیر سورة البقرة 40 (4579) ، والنکاح 60 (5159) ، والطلاق 44 (5331) ، سنن ابی داود/ النکاح 21 (2087) ( تحفة الأشراف : 11465) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2982
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ : ح وَحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، قَالَ : أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا ، فَقَالَتْ : " إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا ، فَأَمْلَتْ عَلَيَّ : حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ، وَقَالَتْ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے غلام ابو یونس کہتے ہیں کہ` مجھے عائشہ رضی الله عنہا نے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھ کر تیار کر دوں ۔ اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تم آیت : «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى» ۱؎ پر پہنچو تو مجھے خبر دو ، چنانچہ جب میں اس آیت پر پہنچا اور میں نے انہیں خبر دی ، تو انہوں نے مجھے بول کر لکھایا «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وصلاة العصر وقوموا لله قانتين» ۱؎ ” نمازوں پر مداومت کرو اور درمیانی نماز کا خاص خیال کرو ، اور نماز عصر کا بھی خاص دھیان رکھو اور اللہ کے آگے خضوع و خشوع سے کھڑے ہوا کرو “ ۔ اور انہوں نے کہا کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں حفصہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ۔
وضاحت:
۱؎: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو (البقرہ: ۲۳۸)
۲؎: یہ قراءت شاذ ہے اس لیے اس کا اعتبار نہیں ہو گا، یا یہاں ”واو“ عطفِ مغایرت کے لیے نہیں ہے بلکہ عطفِ ”تفسیری“ ہے تب اگلی حدیث کے مطابق ہو جائے گا کہ «الصلاة الوسطى» سے مراد عصر کی نماز ہے۔
۲؎: یہ قراءت شاذ ہے اس لیے اس کا اعتبار نہیں ہو گا، یا یہاں ”واو“ عطفِ مغایرت کے لیے نہیں ہے بلکہ عطفِ ”تفسیری“ ہے تب اگلی حدیث کے مطابق ہو جائے گا کہ «الصلاة الوسطى» سے مراد عصر کی نماز ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2982
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (437)
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المساجد 36 (629) ، سنن ابی داود/ الصلاة 5 (410) ، سنن النسائی/الصلاة 14 (473) ( تحفة الأشراف : 17809) ، و مسند احمد (6/73) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2983
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «صلاة الوسطى» ( بیچ کی نماز ) نماز عصر ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2983
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (634)
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم 182 (صحیح)»
حدیث نمبر: 2984
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ بِنْ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : " اللَّهُمَّ امْلَأْ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ ، وَأَبُو حَسَّانَ الْأَعْرَجُ اسْمُهُ مُسْلِمٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب کے دن فرمایا : ” اے اللہ ! ان کفار و مشرکین کی قبریں اور ان کے گھر آگ سے بھر دے جیسے کہ انہوں نے ہمیں درمیانی نماز ( نماز عصر ) پڑھنے سے روکے رکھا ، یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث علی رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہ حدیث علی رضی الله عنہ سے متعدد سندوں سے مروی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2984
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (436)
حدیث تخریج «صحیح البخاری/الجھاد 98 (2931) ، والمغازي 29 (4111) ، وتفسیر البقرة (4533) ، والدعوات 58 (6396) ، صحیح مسلم/المساجد 35 (626) ، سنن ابی داود/ الصلاة 5 (409) ، سنن النسائی/الصلاة 14 (474) ، سنن ابن ماجہ/الصلاة 6 (684) ( تحفة الأشراف : 10232) ، و مسند احمد (1/81، 82، 113، 122، 126، 135، 137، 144، 146، 150، 152، 153، 154) ، وسنن الدارمی/الصلاة 28 (1286) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2985
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْعَصْرِ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «صلاة الوسطى» سے مراد عصر کی نماز ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں زید بن ثابت ، ابوہاشم بن عتبہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں زید بن ثابت ، ابوہاشم بن عتبہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2985
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (634)
حدیث تخریج «انظر حدیث رقم 181 (صحیح)»
…