کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2918
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الْمُبَارَكِ، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ، وَقَدْ خُولِفَ وَكِيعٌ فِي رِوَايَتِهِ ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ أَبُو فَرْوَةَ : يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ لَيْسَ بِحَدِيثِهِ بَأْسٌ إِلَّا رِوَايَةَ ابْنِهِ مُحَمَّدٍ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِيهِ هَذَا الْحَدِيثَ فَزَادَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ صُهَيْبٍ ، وَلَا يُتَابَعُ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَلَى رِوَايَتِهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَأَبُو الْمُبَارَكِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صہیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قرآن کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال جانا وہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ، وکیع کی روایت میں وکیع سے اختلاف کیا گیا ہے ،
۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابوفروہ کہتے ہیں : یزید بن سنان رہاوی کی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ سوائے اس روایت کے جسے ان کے بیٹے محمد ان سے روایت کرتے ہیں ، اس لیے کہ وہ ان سے مناکیر روایت کرتے ہیں ،
۳- محمد بن یزید بن سنان نے اپنے باپ سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے اور اس کی سند میں اتنا اضافہ کیا ہے : «عن مجاهد عن سعيد بن المسيب عن صهيب» محمد بن یزید کی روایت کی کسی نے متابعت نہیں کی ، وہ ضعیف ہیں ، اور ابوالمبارک ایک مجہول شخص ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2918
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (2203 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4975) // , شیخ زبیر علی زئی: (2918) إسناده ضعيف, يزيد بن سنان : ضعيف (تقدم: 1077) وشيخه أبو المبارك مجهول (تق: 8338)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4972) (ضعیف) (سند میں ابوالمبارک مجہول راوی ہے)»
حدیث نمبر: 2919
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ : أَنَّ الَّذِي يُسِرُّ بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَفْضَلُ مِنَ الَّذِي يَجْهَرُ بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ، لِأَنَّ صَدَقَةَ السِّرِّ أَفْضَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ صَدَقَةِ الْعَلَانِيَةِ ، وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لِكَيْ يَأْمَنَ الرَّجُلُ مِنَ الْعُجْبِ لِأَنَّ الَّذِي يُسِرُّ الْعَمَلَ ، لَا يُخَافُ عَلَيْهِ الْعُجْبُ مَا يُخَافُ عَلَيْهِ مِنْ عَلَانِيَتِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسا کھلے عام صدقہ دینے والا ، اور آہستگی و خاموشی سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے چھپا کر صدقہ دینے والا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس حدیث کا معنی و مطلب یہ ہے کہ جو شخص آہستگی سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو بلند آواز سے قرآن پڑھتا ہے ، اس لیے کہ اہل علم کے نزدیک چھپا کر صدقہ دینا برسر عام صدقہ دینے سے افضل ہے ۔ مفہوم یہ ہے کہ اہل علم کے نزدیک اس سے آدمی عجب ( خود نمائی ) سے محفوظ رہتا ہے ۔ کیونکہ جو شخص چھپا کر عمل کرتا ہے اس کے عجب میں پڑنے کا اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا اس کے کھلے عام عمل کرنے میں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2919
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، المشكاة (2202 / التحقيق الثاني) ، صحيح أبي داود (1204)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصلاة 315 (1333) ، سنن النسائی/قیام اللیل 24 (1664) ، والزکاة 68 (2560) ( تحفة الأشراف : 9949) ، و مسند احمد (4/151، 158) (صحیح)»