کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2917
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَاصٍّ يَقْرَأُ ، ثُمَّ سَأَلَ فَاسْتَرْجَعَ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اللَّهَ بِهِ فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ بِهِ النَّاسَ " ، وَقَالَ مَحْمُودٌ : وَهَذَا خَيْثَمَةُ الْبَصْرِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَلَيْسَ هُوَ خَيْثَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَخَيْثَمَةُ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ يُكْنَى أَبَا نَصْرٍ قَدْ رَوَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَحَادِيثَ ، وَقَدْ رَوَى جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ خَيْثَمَةَ هَذَا أَيْضًا أَحَادِيثَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` وہ ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے جو قرآن پڑھ رہا تھا ( پڑھ کر ) وہ مانگنے لگا ۔ تو انہوں نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے جو قرآن پڑھے تو اسے اللہ ہی سے مانگنا چاہیئے ۔ کیونکہ عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن پڑھ پڑھ کر لوگوں سے مانگیں گے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ، اس کی سند ویسی قوی نہیں ہے ،
۲- محمود بن غیلان کہتے ہیں : یہ خیثمہ بصریٰ ہیں جن سے جابر جعفی نے روایت کی ہے ۔ یہ خیثمہ بن عبدالرحمٰن نہیں ہیں ۔ اور خیثمہ شیخ بصریٰ ہیں ان کی کنیت ابونصر ہے اور انہوں نے انس بن مالک سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں ۔ اور جابر جعفی نے بھی خیثمہ سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2917
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، الصحيحة (257) , شیخ زبیر علی زئی: (2917) إسناده ضعيف, سليمان الاعمش والحسن البصيري عنعنا (تقدما: 169 ،21) وفيه علة أخري
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10795) ، وانظر مسند احمد (4/432، 436، 439) (حسن) (سند میں کلام ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم 257)»