حدیث نمبر: 2907
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَال : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : فَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا ، وَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ حَتَّى بَلَغَ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے “ ، ابوعبدالرحمٰن سلمی ( راوی حدیث ) کہتے ہیں : یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے اپنی اس نشست گاہ ( مسند ) پر بٹھا رکھا ہے ، عثمان کے زمانہ میں قرآن کی تعلیم دینی شروع کی ( اور دیتے رہے ) یہاں تک حجاج بن یوسف کے زمانہ میں یہ سلسلہ چلتا رہا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 2908
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُكُمْ أَوْ أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، هَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسُفْيَانُ لَا يَذْكُرُ فِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے بہتر یا تم میں سب سے افضل وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- عبدالرحمٰن بن مہدی اور کئی دوسروں نے اسی طرح بسند «سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ،
۳- سفیان اس کی سند میں سعد بن عبیدہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں ،
۴- یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث بسند «سفيان وشعبة عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ۔ ہم سے بیان کیا اسے محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں : ہم سے بیان کیا یحییٰ بن سعید نے سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- عبدالرحمٰن بن مہدی اور کئی دوسروں نے اسی طرح بسند «سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ،
۳- سفیان اس کی سند میں سعد بن عبیدہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں ،
۴- یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث بسند «سفيان وشعبة عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ۔ ہم سے بیان کیا اسے محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں : ہم سے بیان کیا یحییٰ بن سعید نے سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے ۔
حدیث نمبر: 2908M
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ : وَهَكَذَا ذَكَرَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَشُعْبَةَ غير مرة ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَصْحَابُ سُفْيَانَ لَا يَذْكُرُونَ فِيهِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَهُوَ أَصَحُّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ زَادَ شُعْبَةُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ ، وَكَأَنَّ حَدِيثَ سُفْيَانَ أَصَحُّ ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : مَا أَحَدٌ يَعْدِلُ عِنْدِي شُعْبَةَ ، وَإِذَا خَالَفَهُ سُفْيَانُ أَخَذْتُ بِقَوْلِ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : سَمِعْت أَبَا عَمَّارٍ يَذْكُرُ ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ : قَالَ شُعْبَةُ : سُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنِّي ، وَمَا حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْ أَحَدٍ بِشَيْءٍ فَسَأَلْتُهُ إِلَّا وَجَدْتُهُ كَمَا حَدَّثَنِي ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ عَلِيٍّ وَسَعْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن بشار کہتے ہیں : ایسا ہی یحییٰ بن سعید نے اس روایت کو سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے ، ایک نہیں کئی بار ذکر کیا ، اور ان دونوں نے بسند «عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ،
۶- محمد بن بشار کہتے ہیں : اصحاب سفیان اس روایت میں «عن سفيان عن سعد بن عبيدة» کا ذکر نہیں کرتے ہیں ۔ محمد بن بشار کہتے ہیں ۔ اور یہ زیادہ صحیح ہے ،
۷- شعبہ نے اس حدیث کی سند میں سعد بن عبیدہ کا اضافہ کیا ہے تو ان سفیان کی حدیث ( جو شعبہ کے ہم سبق ہیں ) زیادہ صحیح ہے ۔ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میرے نزدیک شعبہ کے برابر کوئی ( ثقہ ) نہیں ہے ۔ اور جب سفیان ان کی مخالفت کرتے ہیں تو میں سفیان کی بات لے لیتا ہوں ،
۸- میں نے ابوعمار کو وکیع کے واسطہ سے ذکر کرتے ہوئے سنا ہے : شعبہ نے کہا : سفیان مجھ سے زیادہ قوی حافظہ والے ہیں ۔ ( اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ) مجھ سے سفیان نے کسی شخص سے کوئی چیز روایت کی تو میں نے اس شخص سے وہ چیز ( براہ راست ) پوچھی تو میں نے ویسا ہی پایا جیسا سفیان مجھ سے بیان کیا تھا ،
۹- اس باب میں علی اور سعد سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۶- محمد بن بشار کہتے ہیں : اصحاب سفیان اس روایت میں «عن سفيان عن سعد بن عبيدة» کا ذکر نہیں کرتے ہیں ۔ محمد بن بشار کہتے ہیں ۔ اور یہ زیادہ صحیح ہے ،
۷- شعبہ نے اس حدیث کی سند میں سعد بن عبیدہ کا اضافہ کیا ہے تو ان سفیان کی حدیث ( جو شعبہ کے ہم سبق ہیں ) زیادہ صحیح ہے ۔ علی بن عبداللہ ( ابن المدینی ) کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میرے نزدیک شعبہ کے برابر کوئی ( ثقہ ) نہیں ہے ۔ اور جب سفیان ان کی مخالفت کرتے ہیں تو میں سفیان کی بات لے لیتا ہوں ،
۸- میں نے ابوعمار کو وکیع کے واسطہ سے ذکر کرتے ہوئے سنا ہے : شعبہ نے کہا : سفیان مجھ سے زیادہ قوی حافظہ والے ہیں ۔ ( اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ) مجھ سے سفیان نے کسی شخص سے کوئی چیز روایت کی تو میں نے اس شخص سے وہ چیز ( براہ راست ) پوچھی تو میں نے ویسا ہی پایا جیسا سفیان مجھ سے بیان کیا تھا ،
۹- اس باب میں علی اور سعد سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
حدیث نمبر: 2909
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس حدیث کو ہم علی بن ابی طالب کی روایت سے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
اس حدیث کو ہم علی بن ابی طالب کی روایت سے جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں ۔