کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: قرآن کریم کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2906
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، قَال : سَمِعْتُ حَمْزَةَ الزَّيَّاتَ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ الطَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ أَخِي الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ : مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الْأَحَادِيثِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا تَرَى أَنَّ النَّاسَ قَدْ خَاضُوا فِي الْأَحَادِيثِ ، قَالَ : وَقَدْ فَعَلُوهَا ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَلَا إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ ، فَقُلْتُ : مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ ، وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ ، وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ ، وَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ ، وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ ، وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ ، هُوَ الَّذِي لَا تَزِيغُ بِهِ الْأَهْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ ، وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ ، هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا : إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا { 1 } يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ سورة الجن آية 1 ـ 2 ، مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ ، وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ ، وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هَدَى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ " خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَإِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ وَفِي الْحَارِثِ مَقَالٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حارث اعور کہتے ہیں کہ` مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں ، میں علی رضی الله عنہ کے پاس پہنچا ۔ میں نے کہا : امیر المؤمنین ! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا : کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : مگر میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب کوئی فتنہ برپا ہو گا “ ، میں نے کہا : اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہو گی ؟ اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ” کتاب اللہ ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں ، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے ، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے ، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے ۔ جس نے اسے سرکشی سے چھوڑ دیا اللہ اسے توڑ دے گا اور جو اسے چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کر دے گا ۔ وہ ( قرآن ) اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ وہ حکمت بھرا ذکر ہے ، وہ سیدھا راستہ ہے ، وہ ہے جس کی وجہ سے خواہشیں ادھر ادھر نہیں بھٹک پاتی ہیں ، جس کی وجہ سے زبانیں نہیں لڑکھڑاتیں ، اور علماء کو ( خواہ کتنا ہی اسے پڑھیں ) آسودگی نہیں ہوتی ، اس کے باربار پڑھنے اور تکرار سے بھی وہ پرانا ( اور بے مزہ ) نہیں ہوتا ۔ اور اس کی انوکھی ( و قیمتی ) باتیں ختم نہیں ہوتیں ، اور وہ قرآن وہ ہے جسے سن کر جن خاموش نہ رہ سکے بلکہ پکار اٹھے : ہم نے ایک عجیب ( انوکھا ) قرآن سنا ہے جو بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے ، تو ہم اس پر ایمان لے آئے ، جو اس کے مطابق بولے گا اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجر و ثواب دیا جائے گا ۔ اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی ۔ اعور ! ان اچھی باتوں کا خیال رکھو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- اس کی سند مجہول ہے ،
۳- حارث کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2906
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (2138 / التحقيق الثاني) , شیخ زبیر علی زئی: (2906) إسناده ضعيف, الحارث الأعور :ضعيف (تقدم:282)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10057) (ضعیف) (سند میں حارث الأعور ضعیف راوی ہے، اور ابن أخی الحارث مجہول)»