کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سورۃ اذا زلزلت کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2893
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَلْمِ بْنِ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ " إِذَا زُلْزِلَتْ " عُدِلَتْ لَهُ بِنِصْفِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَ " قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ " عُدِلَتْ لَهُ بِرُبُعِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَ " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " عُدِلَتْ لَهُ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ ، وَفِي الْبَابِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے سورۃ «إذا زلزلت الأرض» سورۃ پڑھی تو اسے آدھا قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا ، اور جس نے سورۃ «قل يا أيها الكافرون» پڑھی تو اسے چوتھائی قرآن پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا ، اور جس نے سورۃ «قل هو الله أحد» پڑھی تو اسے ایک تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف انہیں حسن بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں ،
۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2893
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن دون فضل (زلزلت) ، الضعيفة (1142) // كذا أصل الشيخ ناصر والصواب (1342) ، ضعيف الجامع الصغير (5757) ، وسيأتي برقم (550 / 3071) // , شیخ زبیر علی زئی: (2893) إسناده ضعيف, الحسن بن سلم : مجهول (تق:1244)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 284) (حسن) (سند میں حسن بن سلم مجہول راوی ہے، مگر ’’ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} اور {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} کی فضیلت شواہد کی بنا پر حسن ہے، اور اول حدیث سورہ زلزال سے متعلق ضعیف ہے)»
حدیث نمبر: 2894
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا زُلْزِلَتْ " تَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ ، " وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، " وَقُلْ يأَيُّهَا الْكَافِرُونَ " تَعْدِلُ رُبُعَ الْقُرْآنِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَمَانِ بْنِ الْمُغِيرَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «إذا زلزلت» ( ثواب میں ) آدھے قرآن کے برابر ہے ، اور «قل هو الله أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قل يا أيها الكافرون» چوتھائی قرآن کے برابر ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف یمان بن مغیرہ کی روایت ہی سے جانتے ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2894
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون فضل زلزلت انظر الحديث (3070) , شیخ زبیر علی زئی: (2894) إسناده ضعيف, يمان بن المغيرة: ضعيف (تق: 7854) وقال الهيثمي :وهو ضعيف عند الجمهور (مجمع الزوائد 124/5)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5970) (صحیح) (سند میں یمان بن مغیرہ ضعیف راوی ہیں، مگر {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} اور {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ‘‘ کی فضیلت شواہد کی بنا پر صحیح ہے)»
حدیث نمبر: 2895
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : " هَلْ تَزَوَّجْتَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : ثُلُثُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : أَلَيْسَ مَعَكَ " إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ " ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : رُبُعُ الْقُرْآنِ ، قَالَ : تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا : ” اے فلاں ! کیا تم نے شادی کر لی ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، قسم اللہ کی ! اللہ کے رسول ! نہیں کی ہے ، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کر سکوں ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ «قل هو الله أحد» نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، میرے پاس ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” سورۃ «قل هو الله أحد» ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے “ ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا جاء نصر الله والفتح» نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، ( ہے ) آپ نے فرمایا : ” یہ ایک چوتھائی قرآن ہے “ ، آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ «قل يا أيها الكافرون» نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ۔ ( ہے ) آپ نے فرمایا : ” ( یہ ) چوتھائی قرآن ہے “ ۔ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس سورۃ «إذا زلزلت الأرض» نہیں ہے ؟ “ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ( ہے ) آپ نے فرمایا : ” یہ ایک چوتھائی قرآن ہے “ ، آپ نے فرمایا : ” تم شادی کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2895
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، التعليق الرغيب (2 / 224) , شیخ زبیر علی زئی: (2895) إسناده ضعيف, سلمة بن وردان: ضعيف (تقدم:1993)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 870) (ضعیف) (سند میں سلم بن وردان ضعیف راوی ہیں، لیکن قل ھو اللہ سے متعلق فقرہ اوپر (2893) سے تقویت پا کر حسن ہے)»