حدیث نمبر: 2888
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ حم الدُّخَانَ فِي لَيْلَةٍ أَصْبَحَ يَسْتَغْفِرُ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَعُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ يُضَعَّفُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سورۃ «حم الدخان» کسی رات میں پڑھے وہ اس حال میں صبح کرے گا کہ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کر رہے ہوں گے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں ، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۳- عمر بن ابی خثعم ضعیف قرار دیئے گئے ہیں ، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ وہ منکر الحدیث ہیں ۔
حدیث نمبر: 2889
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ هِشَامٍ أَبِي الْمِقْدَامِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ حم الدُّخَانَ فِي لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ غُفِرَ لَهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَهِشَامٌ أَبُو الْمِقْدَامِ يُضَعَّفُ ، وَلَمْ يَسْمَعْ الْحَسَنُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جمعہ کی رات میں «حم الدخان» پڑھے گا اسے بخش دیا جائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- ہشام ابوالمقدام ضعیف قرار دیئے گئے ہیں ،
۳- حسن بصری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے ، ایوب ، یونس بن عبید اور علی بن زید نے ایسا ہی کہا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ،
۲- ہشام ابوالمقدام ضعیف قرار دیئے گئے ہیں ،
۳- حسن بصری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے ، ایوب ، یونس بن عبید اور علی بن زید نے ایسا ہی کہا ہے ۔