کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سورۃ آل عمران کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2883
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيل أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَطَّارِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَأْتِي الْقُرْآنُ وَأَهْلُهُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، وَآلُ عِمْرَانَ ، قَالَ نَوَّاسٌ : وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ ، مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ ، قَالَ : تَأْتِيَانِ كَأَنَّهُمَا غَيَابَتَانِ وَبَيْنَهُمَا شَرْقٌ ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ سَوْدَاوَانِ ، أَوْ كَأَنَّهُمَا ظُلَّةٌ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُجَادِلَانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا " وَفِي الْبَابِ ، عَنْ بُرَيْدَةَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ : أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ قِرَاءَتِهِ كَذَا ، فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنَ الْأَحَادِيثِ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ، وَفِي حَدِيثِ النَّوَّاسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَدُلُّ عَلَى مَا فَسَّرُوا ، إِذْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَهْلُهُ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِهِ فِي الدُّنْيَا " ، فَفِي هَذَا دَلَالَةٌ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ الْعَمَلِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نواس بن سمعان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن اور قرآن والا جو دنیا میں قرآن پر عمل کرتا ہے دونوں آئیں گے ان کی پیشوائی سورۃ البقرہ اور آل عمران کریں گی “ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سورتوں کی تین مثالیں دیں ، اس کے بعد پھر میں ان سورتوں کو نہ بھولا ۔ آپ نے فرمایا : ” گویا کہ وہ دونوں چھتریاں ہیں ، جن کے بیچ میں شگاف اور پھٹن ہیں ، یا گویا کہ وہ دونوں کالی بدلیاں ہیں ، یا گویا کہ وہ صف بستہ چڑیوں کا سائبان ہیں ، یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کا لڑ جھگڑ کر دفاع و بچاؤ کر رہی ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ،
۲- اس باب میں بریدہ اور ابوامامہ سے بھی روایت ہے ،
۳- اس حدیث کا بعض اہل علم کے نزدیک معنی و مفہوم یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا ۔ اس حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث کی بعض اہل علم نے یہی تفسیر کی ہے کہ قرآن پڑھنے کا ثواب آئے گا ، نواس رضی الله عنہ کی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، مفسرین کی اس تفسیر کی دلیل اور اس کا ثبوت ملتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول «وأهله الذين يعملون به في الدنيا» میں اشارہ ہے کہ قرآن کے آنے سے مراد ان کے اعمال کا ثواب ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2883
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المسافرین 42 (805) ( تحفة الأشراف : 11713) ، و مسند احمد (4/183) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2884
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فِي تَفْسِيرِ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ سَمَاءٍ ، وَلَا أَرْضٍ أَعْظَمَ مِنْ آيَةِ الْكُرْسِيِّ " ، قَالَ سُفْيَانُ : لِأَنَّ آيَةَ الْكُرْسِيِّ هُوَ كَلَامُ اللَّهِ ، وَكَلَامُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سفیان بن عیینہ سے روایت ہے ،` وہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اس حدیث «ما خلق الله من سماء ولا أرض أعظم من آية الكرسي» کی تفسیر میں کہتے ہیں : آیت الکرسی کی فضیلت اس وجہ سے ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ کا کلام اللہ کی مخلوق یعنی آسمان و زمین سے بڑھ کر ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2884
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف (صحیح)»