حدیث نمبر: 2876
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَهُمْ ذُو عَدَدٍ فَاسْتَقْرَأَهُمْ ، فَاسْتَقْرَأَ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَا مَعَهُ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا ، فَقَالَ : مَا مَعَكَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ : مَعِي كَذَا وَكَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ ، قَالَ : أَمَعَكَ سورة البقرة ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَاذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ سورة البقرة إِلَّا خَشْيَةَ أَلَّا أَقُومَ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْرَءُوهُ ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَيَرْقُدُ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ ، كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا نَحْوَهَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنِ اللَّيْثِ بنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الَمْقُبرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ مَوْلَي أبِي أَحْمَدَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّيَ الله عليه وسَلَم مرسَلا نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وفي الباب عن أبِّي ابن كَعْبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گنتی کے کچھ لشکری بھیجے ( بھیجتے وقت ) ان سے ( قرآن ) پڑھوایا ، تو ان میں سے ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا ۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا تو آپ نے اس سے کہا : اے فلاں ! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں ؟ اس نے کہا : مجھے فلاں فلاں اور سورۃ البقرہ یاد ہے ۔ آپ نے کہا : کیا تمہیں سورۃ البقرہ یاد ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” جاؤ تم ان سب کے امیر ہو “ ۔ ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی ! میں نے سورۃ البقرہ صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے ( نماز تہجد میں ) برابر پڑھ نہ سکوں گا ۔ آپ نے فرمایا : ” قرآن سیکھو ، اسے پڑھو اور پڑھاؤ ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا ، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو ، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا ۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر کر سیل بند کر دی گئی ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- اس حدیث کو لیث بن سعد نے سعید مقبری سے ، اور سعید نے ابواحمد کے آزاد کردہ غلام عطا سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے ، اور انہوں نے اس روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- اس حدیث کو لیث بن سعد نے سعید مقبری سے ، اور سعید نے ابواحمد کے آزاد کردہ غلام عطا سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے ، اور انہوں نے اس روایت میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2876
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (217) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (39) ، المشكاة (2143) ، ضعيف الجامع الصغير (2452) //
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/المقدمة 16 (217) ( تحفة الأشراف : 14242) (ضعیف) (سند میں عطاء مولی ابی احمد لین الحدیث راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 2877
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ الْبَقَرَةُ لَا يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۔ وہ گھر جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے اس میں شیطان داخل نہیں ہوتا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2877
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح أحكام الجنائز (212)
حدیث تخریج «صحیح مسلم/المسافرین 29 (280) ، سنن ابی داود/ المناسک 100 (الشق الأول فحسب، وفي سیاق آخر) ( تحفة الأشراف : 12722) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2878
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامٌ ، وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، وَفِيهَا آيَةٌ هِيَ سَيِّدَةُ آيِ الْقُرْآنِ هِيَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ وَضَعَّفَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ۱؎ اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے ، اس سورۃ میں ایک آیت ہے یہ قرآن کی ساری آیتوں کی سردار ہے اور یہ آیت آیۃ الکرسی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف حکیم بن جبیر کی روایت سے جانتے ہیں ،
۳- حکیم بن جبیر کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے اور انہیں ضعیف قرار دیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف حکیم بن جبیر کی روایت سے جانتے ہیں ،
۳- حکیم بن جبیر کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے اور انہیں ضعیف قرار دیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس میں کوئی چیز نمایاں ہوتی ہے جو کوہان کی حیثیت رکھتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2878
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (1348) ، التعليق الرغيب (2 / 218) // ضعيف الجامع الصغير (4725) // , شیخ زبیر علی زئی: (2878) إسناده ضعيف, حكيم بن جبير : ضعيف (تقدم: 155)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 12313) (ضعیف) (سند میں حکیم بن جبیر ضعیف راوی ہیں)»
حدیث نمبر: 2879
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ " حم الْمُؤْمِنَ إِلَى إِلَيْهِ الْمَصِيرُ " ، وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ حِينَ يُصْبِحُ ، حُفِظَ بِهِمَا حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمَنْ قَرَأَهُمَا حِينَ يُمْسِي حُفِظَ بِهِمَا حَتَّى يُصْبِحَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ الْمُلَيْكِيِّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، وَزُرَارَةُ بْنُ مُصْعَبٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَهُوَ جَدُّ أَبِي مُصْعَبٍ الْمَدَنِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے سورۃ مومن کی ( ابتدائی تین آیات ) «حم» سے «إليه المصير» تک اور آیت الکرسی صبح ہی صبح ( بیدار ہونے کے بعد ہی ) پڑھی تو ان دونوں کے ذریعہ شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی ، اور جس نے ان دونوں کو شام ہوتے ہی پڑھا تو ان کے ذریعہ اس کی صبح ہونے تک حفاظت کی جائے گی “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ کے حافظے کے سلسلے میں کلام کیا ہے ،
۳- زرارہ بن مصعب کا پورا نام زرارہ بن مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوف ہے ، اور وہ ابومصعب مدنی کے دادا ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- بعض اہل علم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر بن ابی ملیکہ کے حافظے کے سلسلے میں کلام کیا ہے ،
۳- زرارہ بن مصعب کا پورا نام زرارہ بن مصعب بن عبدالرحمٰن بن عوف ہے ، اور وہ ابومصعب مدنی کے دادا ہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب فضائل القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2879
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، المشكاة (2144 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (5769) // , شیخ زبیر علی زئی: (2879) إسناده ضعيف, عبدالرحمن المليكي: ضعيف (تق: 3813)
حدیث تخریج «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 1495) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن ملیکی ضعیف راوی ہیں)»