کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: پیٹ کا مواد سے بھرا ہونا (گندے) اشعار سے بھرے ہونے سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 2851
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَمِّي يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ سَعْدٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی شخص کے پیٹ کا خون آلود مواد سے بھر جانا جسے وہ گلا ، سڑا دے ، یہ کہیں بہتر ہے اس سے کہ اس کے پیٹ ( و سینے ) میں ( کفریہ شرکیہ اور گندے ) اشعار بھرے ہوئے ہوں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں سعد ، ابن عمر ، اور ابو الدرداء رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: پچھلے باب کی احادیث اور اس باب کی احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ اشعار اگر توحید وسنت، اخلاق حمیدہ، وعظ و نصیحت، پند و نصائح اور حکمت و دانائی پر مشتمل ہوں تو ان کا کہنا، پڑھنا سب جائز ہے، اور اگر کفریہ، شرکیہ، بدعت اور خلاف شرع باتوں پر مشتمل ہوں یا بازاری اور گندے اشعار ہوں تو ان کو اپنے دل وماغ میں داخل کرنا (یا ذکر کرنا) پیپ اور مواد سے زیادہ مکروہ اور نقصان دہ ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2851
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مختصر الشمائل (211)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأدب 92 (6155) ، صحیح مسلم/الشعر 7 (2257) ، سنن ابن ماجہ/الأدب 42 (3759) ( تحفة الأشراف : 12478) ، و مسند احمد (2/288، 331، 391) (صحیح)»
حدیث نمبر: 2852
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی شخص کے پیٹ کا بیماری کے سبب مواد سے بھر جانا بہتر ہے اس سے کہ وہ شعر سے بھرا ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: پیپ مواد سے تو صرف تکلیف ہو گی لیکن (گندے) اشعار سے تو انسان کی عاقبت ہی خراب ہو کر رہ جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2852
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3759)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الشعر 8 (2258) ، سنن ابن ماجہ/الأدب 42 (3760) ( تحفة الأشراف : 3919) ، و مسند احمد (1/175، 177، 181) (صحیح)»