کتب حدیث ›
سنن ترمذي › ابواب
› باب: تین آدمی ہوں تو ایک کو چھوڑ کر دو کانا پھوسی کریں یہ درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2825
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح قَالَ : وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا ، وَقَالَ سُفْيَانُ فِي حَدِيثِهِ : لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُؤْذِي الْمُؤْمِنَ ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَكْرَهُ أَذَى الْمُؤْمِنِ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم تین آدمی ایک ساتھ ہو ، تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو اکیلا چھوڑ کر باہم کانا پھوسی نہ کریں “ ، سفیان نے اپنی روایت میں «لا يتناجى اثنان دون الثالث فإن ذلك يحزنه» کہا ہے ، یعنی ” تیسرے شخص کو چھوڑ کر دو سرگوشی نہ کریں کیونکہ اس سے اسے دکھ اور رنج ہو گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ایک کو نظر انداز کر کے دو سرگوشی نہ کریں ، کیونکہ اس سے مومن کو تکلیف پہنچتی ہے ، اور اللہ عزوجل مومن کی تکلیف کو پسند نہیں کرتا ہے “ ،
۲- اس باب میں ابن عمر ، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ایک کو نظر انداز کر کے دو سرگوشی نہ کریں ، کیونکہ اس سے مومن کو تکلیف پہنچتی ہے ، اور اللہ عزوجل مومن کی تکلیف کو پسند نہیں کرتا ہے “ ،
۲- اس باب میں ابن عمر ، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔