حدیث نمبر: 2818
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَسَمَ أَقْبِيَةً ، وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا " ، فَقَالَ مَخْرَمَةُ : يَا بُنَيَّ ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، قَالَ : ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي ، فَدَعَوْتُهُ لَهُ ، فَخَرَج النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ قِبَاءٌ مِنْهَا ، فَقَالَ : " خَبَأْتُ لَكَ هَذَا " ، قَالَ : فَنَظَر إِلَيْهِ ، فَقَال : " رَضِيَ مَخْرَمَةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مسور بن مخرمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں ، اور مخرمہ کو ( ان میں سے ) کچھ نہ دیا ۔ مخرمہ رضی الله عنہ نے کہا : اے میرے بیٹے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر چلو ، تو میں ان کے ساتھ گیا ۔ انہوں نے کہا : تم اندر جاؤ اور آپ کو میرے پاس بلا لاؤ ، چنانچہ میں آپ کو ان کے پاس بلا کر لانے کے لیے چلا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر تشریف لائے ۔ تو آپ کے پاس ان قباؤں میں سے ایک قباء تھی “ ، آپ نے فرمایا : ” یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی “ ۔ مسور کہتے ہیں : پھر مخرمہ نے آپ کو دیکھا اور بول اٹھے : مخرمہ اسے پا کر خوش ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ابن ابی ملیکہ کا نام عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- ابن ابی ملیکہ کا نام عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہے ۔