کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: پیلے کپڑے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2814
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ أَبُو عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ، أَنَّهُ حَدَّثَتْهُ جَدَّتَاهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ عُلَيْبَةَ، وَدُحَيْبَةُ بِنْتُ عُلَيْبَةَ حَدَّثَتَاهُ ، عَنْ قَيْلَة بِنْتِ مَخْرَمَةَ، وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْهَا ، وَقَيْلَةُ جَدَّةُ أَبِيهِمَا أُمُّ أُمِّهِ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتِ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ وَقَدِ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، وَعَلَيْهِ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَالُ مُلَيَّتَيْنِ كَانَتَا بِزَعْفَرَانٍ وَقَدْ نَفَضَتَا ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَسِيبُ نَخْلَةٍ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ قَيْلَةَ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَّانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیلہ بنت مخرمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر انہوں نے پوری لمبی حدیث بیان کی ( اس میں ہے کہ ) ایک شخص اس وقت آیا جب سورج چڑھ آیا تھا ۔ اس نے کہا : «السلام علیک یا رسول اللہ» ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «وعلیک السلام ورحمة اللہ» ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کے جسم ) پر دو پرانے کپڑے تھے ۔ وہ زعفران سے رنگے ہوئے تھے ، اور کثرت استعمال سے ان کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا ۱؎ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کی ایک شاخ تھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
قیلہ کی حدیث کو ہم صرف عبداللہ بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: زعفران کا اثر ختم ہو چکا تھا، اس لیے یہ حدیث اگلی حدیث کے منافی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2814
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن مختصر الشمائل (53 / التحقيق الثانى) , شیخ زبیر علی زئی: (2814) إسناده ضعيف / د 3070
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الخراج والإمارة 36 (3070) ( تحفة الأشراف : 18047) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود رقم 392)»