حدیث نمبر: 2811
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْأَشْعَثِ وَهُوَ ابْنُ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ إِضْحِيَانٍ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى الْقَمَرِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ فَإِذَا هُوَ عِنْدِي أَحْسَنُ مِنَ الْقَمَرِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْأَشْعَثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے ایک انتہائی روشن چاندنی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، پھر آپ کو دیکھنے لگا اور چاند کو بھی دیکھنے لگا ( کہ ان دونوں میں کون زیادہ خوبصورت ہے ) آپ اس وقت سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے ۱؎ ، اور آپ مجھے چاند سے بھی زیادہ حسین نظر آ رہے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف اشعث کی روایت سے جانتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- ہم اسے صرف اشعث کی روایت سے جانتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: بعض علماء کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سرخ لباس خالص سرخ رنگ کا نہیں تھا بلکہ اس میں سرخ رنگ کی دھاریاں تھیں، ظاہر ہے ایسے سرخ لباس کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2811M
وَرَوَى شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ : " رَأَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً حَمْرَاءَ " ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شعبہ اور ثوری ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں` اور ابواسحاق نے براء بن عازب سے روایت کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر سرخ جوڑا دیکھا ، ہم سے بیان کیا اسی طرح محمود بن غیلان نے ، وہ کہتے ہیں : مجھ سے بیان کیا وکیع نے ، وہ کہتے ہیں : ہم سے بیان کیا سفیان نے اور انہوں نے روایت کیا ابواسحاق سے ۔
حدیث نمبر: 2811M
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق بِهَذَا ، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا ، قَالَ : سَأَلْتُ مُحَمَّدًا ، قُلْتُ لَهُ : حَدِيثُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ أَصَحُّ ، أَوْ حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ؟ فَرَأَى كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحًا ، وَفِي الْبَابِ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجھ سے بیان کیا محمد بن بشار نے ، وہ کہتے ہیں` مجھ سے بیان کیا محمد بن جعفر نے ، وہ کہتے ہیں مجھ سے بیان کیا شعبہ نے اور انہوں نے روایت کی اسی طرح ابواسحاق سے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث میں اس سے زیادہ کلام ہے ۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا ، میں نے کہا : ابواسحاق کی حدیث جو براء سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے یا جابر بن سمرہ کی ؟ تو انہوں نے دونوں ہی حدیثوں کو صحیح قرار دیا ،
۲- اس باب میں براء اور ابوجحیفہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- اس حدیث میں اس سے زیادہ کلام ہے ۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا ، میں نے کہا : ابواسحاق کی حدیث جو براء سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے یا جابر بن سمرہ کی ؟ تو انہوں نے دونوں ہی حدیثوں کو صحیح قرار دیا ،
۲- اس باب میں براء اور ابوجحیفہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔