حدیث نمبر: 2799
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ، وَيُقَالْ ابْنُ إِيَاسٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ، قَال : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطَّيِّبَ ، نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ ، كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ ، جَوَادٌ يُحِبُّ الْجُودَ ، فَنَظِّفُوا ، أُرَاهُ قَالَ : أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ فَقَالَ : حَدَّثَنِيهِ عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " نَظِّفُوا أَفْنِيَتَكُمْ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَخَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ يُضَعَّفُ ، وَيُقَالُ ابْنُ إِيَاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صالح بن ابی حسان کہتے ہیں کہ` میں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا : اللہ طیب ( پاک ) ہے اور پاکی ( صفائی و ستھرائی ) کو پسند کرتا ہے ۔ اللہ مہربان ہے اور مہربانی کو پسند کرتا ہے ۔ اور اللہ سخی و فیاض ہے اور جود و سخا کو پسند کرتا ہے ، تو پاک و صاف رکھو ۔ ( میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس سے آگے کہا ) اپنے گھروں کے صحنوں اور گھروں کے سامنے کے میدانوں کو ، اور یہود سے مشابہت نہ اختیار کرو “ ۔ ( صالح کہتے ہیں ) میں نے اس ( روایت ) کا مہاجر بن مسمار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اس کو عامر بن سعد نے اپنے باپ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔ البتہ مہاجر نے «نظفوا أفنيتكم» کہا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- خالد بن الیاس ضعیف سمجھے جاتے ہیں اور انہیں خالد بن ایاس بھی کہا جاتا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث غریب ہے ،
۲- خالد بن الیاس ضعیف سمجھے جاتے ہیں اور انہیں خالد بن ایاس بھی کہا جاتا ہے ۔