حدیث نمبر: 2794
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ ؟ قَالَ : " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ ؟ قَالَ : " إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَاهَا " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا ؟ قَالَ : " فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے کہا : اللہ کے نبی ! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ؟ آپ نے فرمایا : ” تم اپنی شرمگاہ اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر ایک سے چھپاؤ “ ، میں نے پھر کہا : جب لوگ مل جل کر رہ رہے ہوں ( تو ہم کیا اور کیسے کریں ؟ ) آپ نے فرمایا : ” تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونا چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے “ ، میں نے پھر کہا : اللہ کے نبی ! جب آدمی تنہا ہو ؟ آپ نے فرمایا : ” لوگوں کے مقابل اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن ہے ۔