حدیث نمبر: 2776
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفُجَاءَةِ " فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرٍو اسْمُهُ هَرِمٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کسی اجنبیہ عورت پر ) اچانک پڑ جانے والی نظر سے متعلق پوچھا ۔ تو آپ نے فرمایا : ” تم اپنی نگاہ پھیر لیا کرو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ کسی مقصد و ارادہ کے بغیر اگر اچانک کسی اجنبی عورت پر نگاہ پڑ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حرج اور گناہ تو اس میں ہے کہ اس پر باربار نگاہ مقصد و ارادہ کے ساتھ ڈالی جائے، اور یہ کہ اچانک نگاہ کو بھی فوراً پھیر لیا جائے۔
حدیث نمبر: 2777
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، رَفَعَهُ قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی ! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ ، کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر ( معاف ) ہے اور دوسری ( معاف ) نہیں ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اگر اچانک پہلی مرتبہ تمہاری نگاہ کسی پر پڑ گئی تو یہ معاف ہے، لیکن تمہارا دوبارہ دیکھنا قابل گرفت ہو گا (اور پہلی والی بھی فوراً ہٹا لینی ہو گی)۔