حدیث نمبر: 2770
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَلَى يَسَارِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بائیں جانب تکیہ پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس حدیث کو کئی اور نے بطریق : «إسرائيل عن سماك عن جابر بن سمرة» روایت کی ہے ، ( اس میں ہے ) وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا ، لیکن انہوں نے «علی یسارہ» اپنی بائیں جانب تکیہ رکھنے کا ذکر نہیں کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ،
۲- اس حدیث کو کئی اور نے بطریق : «إسرائيل عن سماك عن جابر بن سمرة» روایت کی ہے ، ( اس میں ہے ) وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا ، لیکن انہوں نے «علی یسارہ» اپنی بائیں جانب تکیہ رکھنے کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث نمبر: 2771
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ " ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث صحیح ہے ۔