حدیث نمبر: 2769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ ؟ قَالَ : " احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ ، قَالَ : إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَافْعَلْ ، قُلْتُ : وَالرَّجُلُ يَكُونُ خَالِيًا ؟ قَالَ : فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَجَدُّ بَهْزٍ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ ، وَقَدْ رَوَى الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ وَالِدُ بَهْزٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے اور کس قدر چھپانا ضروری ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر کسی سے اپنی شرمگاہ کو چھپاؤ “ ، انہوں نے کہا : آدمی کبھی آدمی کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونی چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے “ ، میں نے کہا : آدمی کبھی تنہا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- بہز کے دادا کا نام معاویہ بن حیدۃ القشیری ہے ۔
۳- اور جریری نے حکیم بن معاویہ سے روایت کی ہے اور وہ بہز کے والد ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- بہز کے دادا کا نام معاویہ بن حیدۃ القشیری ہے ۔
۳- اور جریری نے حکیم بن معاویہ سے روایت کی ہے اور وہ بہز کے والد ہیں ۔