حدیث نمبر: 2736
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ بِالْمَعْرُوفِ : يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ ، وَيَتْبَعُ جَنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ " ، وَفِي الْبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي أَيُّوبَ ، وَالْبَرَاءِ ، وَأَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حسن سلوک کے چھ عمومی حقوق ہیں ، ( ۱ ) جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے ، ( ۲ ) جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کرے ، ( ۳ ) جب اسے چھینک آئے ( اور وہ «الحمد لله» کہے ) تو «يرحمك الله» کہہ کر اس کی چھینک کا جواب دے ، ( ۴ ) جب وہ بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کرے ، ( ۵ ) جب وہ مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ ( قبرستان ) جائے ، ( ۶ ) اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ،
۳- بعض محدثین نے حارث اعور سے متعلق کلام کیا ہے ،
۴- اور اس باب میں ابوہریرہ ، ابوایوب ، براء اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- یہ حدیث متعدد سندوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ،
۳- بعض محدثین نے حارث اعور سے متعلق کلام کیا ہے ،
۴- اور اس باب میں ابوہریرہ ، ابوایوب ، براء اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حقوق ایسے ہیں کہ ان پر عمل کرنے سے باہمی اخوت و محبت کی رسی مضبوط ہوتی ہے، حدیث میں بیان کردہ حقوق بظاہر بڑے نہیں ہیں لیکن انجام اور نتیجے کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2736
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، ابن ماجة (1433) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (301) ، المشكاة (4643) ، الصحيحة (73) // , شیخ زبیر علی زئی: (2736) إسناده ضعيف / جه 1433, الحارث الأعور ضعيف (تقدم:282) و حديث مسلم ( 2162) يغني عنه
حدیث تخریج «سنن ابن ماجہ/الجنائز 1 (1433) ( تحفة الأشراف : 10044) ، و مسند احمد (1/89) ، وسنن الدارمی/الاستئذان 5 (2675) (صحیح) (حارث بن عبداللہ أعور ضعیف راوی ہے، اور ابواسحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں، مؤلف نے حارث بن عبداللہ أعور کی تضعیف کا ذکر کیا ہے، اور شواہد کا بھی ذکر ہے، اور اسی لیے حدیث کی تحسین کی ہے، اور صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة 1832، اور دیکھئے اگلی حدیث)»
حدیث نمبر: 2737
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ : يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ ، وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ " ، قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ ثِقَةٌ ، رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں ، ( ۱ ) جب بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کرے ، ( ۲ ) جب مرے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ، ( ۳ ) جب دعوت کرے تو قبول کرے ، ( ۴ ) جب ملے تو اس سے سلام کرے ، ( ۵ ) جب اسے چھینک آئے تو اس کی چھینک کا جواب دے ، ( ۶ ) اس کے سامنے موجود رہے یا نہ رہے اس کا خیرخواہ ہو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- محمد بن موسیٰ مخزومی مدنی ثقہ ہیں ان سے عبدالعزیز ابن محمد اور ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- محمد بن موسیٰ مخزومی مدنی ثقہ ہیں ان سے عبدالعزیز ابن محمد اور ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الأدب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2737
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الصحيحة (832)
حدیث تخریج «صحیح مسلم/السلام 3 (2163) ( تحفة الأشراف : 13066) ، و مسند احمد (2/321، 372، 412، 540) (صحیح) (و ورد عند صحیح البخاری/ (الجنائز 2/ح 1240) ، وم (السلام 3/ح 2162) بلفظ ’’ خمس ‘‘ )»