کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: خط (مکتوب) پر مہر لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2718
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : لَمَّا أَرَادَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ قِيلَ لَهُ : " إِنَّ الْعَجَمَ لَا يَقْبَلُونَ إِلَّا كِتَابًا عَلَيْهِ خَاتَمٌ فَاصْطَنَعَ خَاتَمًا ، قَالَ : فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي كَفِّهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عجمی ( بادشاہوں ) کو خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو آپ کو بتایا گیا کہ عجمی بغیر مہر لگا ہوا خط قبول نہیں کرتے چنانچہ آپ نے ( مہر کے لیے ) ایک انگوٹھی بنوائی ، تو ان میں آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک کو اس وقت دیکھ رہا ہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2718
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مختصر الشمائل (74)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/العلم 7 (65) ، والجھاد 101 (2938) ، واللباس 50 (5872) ، 52 (5875) ، والأحکام 15 (7162) ، صحیح مسلم/اللباس 13 (2092/56) ، سنن ابی داود/ الخاتم 1 (4214) ، سنن النسائی/الزینة 47 (5204) ( تحفة الأشراف : 1368) ، و مسند احمد (3/168-169، 170، 181، 223، 275) (صحیح)»