کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مجلس میں بیٹھتے اور اس سے اٹھتے وقت سلام کرنا۔
حدیث نمبر: 2706
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ، ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے ، پھر اگر اس کا دل بیٹھنے کو چاہے تو بیٹھ جائے ۔ پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو سلام کرے ۔ پہلا ( سلام ) دوسرے ( سلام ) سے زیادہ ضروری نہیں ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- یہ حدیث ابن عجلان سے بھی آئی ہے ، ابن عجلان نے بسند «سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی دونوں سلام کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الاستئذان والآداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 2706
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، الصحيحة (183) ، تخريج الكلم (201)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الأدب 150 (5208) ، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 131 (369) ( تحفة الأشراف : 13038) ، و مسند احمد (2/230، 287، 439) (حسن صحیح)»