حدیث نمبر: 2694
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الرَّهَاوِيِّ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ , عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلَانِ يَلْتَقِيَانِ أَيُّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ ؟ فَقَالَ : " أَوْلَاهُمَا بِاللَّهِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ , قَالَ مُحَمَّدٌ أَبُو فَرْوَةَ الرَّهَاوِيُّ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَهُ مُحَمَّدَ بْنَ يَزِيدَ يَرْوِي عَنْهُ مَنَاكِيرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` پوچھا گیا : اللہ کے رسول ! جب دو آدمی آپس میں ملیں تو سلام کرنے میں پہل کون کرے ؟ آپ نے فرمایا : ” ان دونوں میں سے جو اللہ کے زیادہ قریب ہے “ ۱؎ ۔ ( وہ پہل کرے گا )
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابوفروہ رہاوی مقارب الحدیث ہیں ، مگر ان کے بیٹے محمد بن یزید ان سے منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابوفروہ رہاوی مقارب الحدیث ہیں ، مگر ان کے بیٹے محمد بن یزید ان سے منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ سے جس کا زیادہ لگاؤ اور تعلق ہو گا اس میں تواضع اور خاکساری بھی زیادہ پائی جائے گی، اس لیے وہ سلام کرنے میں بھی پہل کرے گا۔