مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: لونڈی غلام بیچنا۔
حدیث نمبر: 2229
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ : أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا فَنُحِبُّ الْأَثْمَانَ ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ ؟ فَقَالَ : أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ ، لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ " .
مولانا داود راز
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہیر نے بیان کیا کہ مجھے ابن محیریز نے خبر دی اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، کہ` وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ۔ ( ایک انصاری صحابی نے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! لڑائی میں ہم لونڈیوں کے پاس جماع کے لیے جاتے ہیں ۔ ہمارا ارادہ انہیں بیچنے کا بھی ہوتا ہے ۔ تو آپ عزل کر لینے کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا تم لوگ ایسا کرتے ہو ؟ اگر تم ایسا نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں ۔ اس لیے کہ جس روح کی بھی پیدائش اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھ دی ہے وہ پیدا ہو کر ہی رہے گی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب البيوع / حدیث: 2229
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔